حکمران عوامی مسائل سے بے خبر، ملک اندورونی خلفشار کا شکار: مولانا عطاء الرحمان 

حکمران عوامی مسائل سے بے خبر، ملک اندورونی خلفشار کا شکار: مولانا عطاء ...

  

 چارسدہ(بیورورپورٹ)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ صدر مملکت کے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب سے معلوم ہو تا ہے کہ موجودہ حکمران عوامی مسائل سے بے خبر ہیں۔ ملک اس وقت اندرونی خلفشار کا شکا ہے جبکہ حکومت اپنے ہی اداروں پر چڑھائی کر رہی ہے۔ امریکہ کو افغانستان میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں جے یو آئی کے صوبائی رہنماء محمد احمد خان کی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عطاء الحق درویش، صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبد الجلیل جان، سابق ایم این اے مولانا گوہر شاہ، سابق وزیر قانونی ارشد عبد اللہ اور دیگر صوبائی و ضلعی قائدین بھی موجود تھی۔ صوبائی امیر سینٹر مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کیا گیا تھالیکن آج ایک بار پھر طالبا ن پوری قوت سے واپس حکومت میں واپس آچکے ہیں۔ طالبان کی حکومت افغانستان میں امن کی ضامن ہیں جس افغانستان پر امریکہ دو دہائی تک دسترس حاصل نہ کر سکا طالبان نے وہاں پر بیس دنوں میں قبضہ لیکر امن قائم کیا۔انہو ں نے خطے میں امن کی صورتحال برقرار رکھنے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے عالمی دنیا کو فوری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ کٹھ پتلی حکومت نے بغیر پاسپورٹ اور ویزہ کے پاکستان میں امریکی فوجیوں کو رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امن چاہتی ہے توان کو طالبان سے خطرہ نہیں۔پارلیمنٹ کی موجودگی کے باجود حکومت صدارتی آرڈیننس سے کام چلارہی ہے۔ اپوزیشن مشترکہ طور پر اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی آپشن پر غور کریں تو ناجائز حکومت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکمران عوامی مسائل سے بے خبر ہیں جس کا بخوبی اندازہ صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب سے لگا یا جا سکتا ہے۔ بندکمروں میں بیٹھ کر عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ حکومت اپنے ہی ادارے الیکشن کمیشن پر چڑھ دوڑی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک ملک کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اسے آسانی کے ساتھ رول بیک نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپوزیشن متحد ہو تو حکومت میڈیا کی آزادی کو سلب نہیں کر سکتی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -