4سی ٹی آئی ٹی ٹیچر ز کو نظر انداز کرنے پر 4پوسٹیں خالی رکھنے کی ہدایت 

4سی ٹی آئی ٹی ٹیچر ز کو نظر انداز کرنے پر 4پوسٹیں خالی رکھنے کی ہدایت 

  

 پشاور(نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس سید ارشدعلی پر مشتمل دورکنی بنچ نے ایف آربنوں میں سی ٹی آئی ٹی ٹیچرز کی پوسٹوں پر چار امیدواروں کو ڈومیسائل کی بنیاد پر نظرانداز کرنے کیخلاف دائر رٹ پر متعلقہ حکام کو 4پوسٹیں خالی رکھنے کی ہدایت کردی جبکہ اس حوالے سے ڈائریکٹر ایجوکیشن سے جواب طلب کرلیا۔ دورکنی بنچ نے بشیر خان وزیرایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر عارف اللہ سمیت چار درخواست گزاروں کی رٹ پر سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ڈائریکٹریٹ آف ایلمینٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے ضم اضلاع کیلئے مختلف پوسٹیں مشتہر کیں جس پر درخواست گزاروں نے بھی ایف آر بنوں کی نشستوں پر ایپلائی کیا اور یہ پوسٹیں سینئر آئی ٹی ٹیچر گریڈ16کیلئے تھیں تاہم انہیں اسلئے نااہل قراردیا گیا ہے کہ انہوں نے جس تاریخ کو یہ کاغذات جمع کئے ہیں انہوں نے بنوں کے علاقے کا ڈومیسائل بعد میں کینسل کیاہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چاروں درخواست گزار اسوقت ایف آربنوں میں مختلف پوسٹوں پر کام کررہے ہیں اورانکے پاس ایف آربنوں کا ڈومیسائل موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ اگرایک نوکری کیلئے کوئی ڈومیسائل پیش کردے تودوسرا خود بخود کینسل تصور ہوگا مگراسکے باوجود ڈائریکٹر ایلیمینٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے انکی درخواستیں مسترد کردیں۔عدالت کو بتایاگیا کہ اس حوالے سے ڈائریکٹر ایجوکیشن کو دیئے گئے درخواست پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔عدالت نے بعدازاں درخواست گزاروں کیلئے چار پوسٹیں خالی رکھنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -