سندھ یونیورسٹی آف کرپشن گیا، زرداری وائس چانسلر ہیں: خرم شیر زمان 

سندھ یونیورسٹی آف کرپشن گیا، زرداری وائس چانسلر ہیں: خرم شیر زمان 

  

  کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ کنٹونمنٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پی ایس 88 کا الیکشن پیپلز پارٹی نے دھاندلی سے جیتا۔ ملیر میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی شکست اس بات کا ثبوت ہے۔ ڈیفنس کے علاقوں میں سوزوکیاں بھر کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے لایا جارہا تھا۔ ڈیفنس میں جعلی پیپلز پارٹی نے جعلی ووٹ ڈلوائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی سیکریٹریٹ انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما سبحان علی ساحل، عدنان اسماعیل، اظہر لغاری، سمیر میر شیخ، فضہ ذیشان، سرینہ عدنان، اسد امان، نواز مندوخیل اور دیگر موجود تھے۔خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ  انشاللہ سی بی سی میں بھی ہم اپنی مقامی حکومت بنائیں گے۔ ڈیفنس کے لوگوں سے گزارش کروں گا کہ اپنے ووٹ مقامی علاقوں میں ٹرانسفر کروائیں۔ الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی کی بی پارٹی بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما، کارکنان، ایم این ایز عوام کے درمیان رہیں گے۔ صوبہ سندھ یونیورسٹی آف کرپشن بن چکا ہے جس میں زرداری وائس چانسلر، بلاول ٹرسٹی ہیں۔ سندھ میں آڈیٹر رپورٹ کے مطابق 163 ارب کی بیضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اسکولوں میں بھینسیں بندھی ہیں۔ سندھ کے اسکولوں میں سیاسی اوطاقیں بنی ہیں۔ سندھ حکومت 10ہزار اسکول بند کرنے جارہی ہے۔ سندھ کے لوگوں کیلئے ویکسین عمران خان نے دیے۔چیف مینیجر نے ایک ویکسین نہیں دی۔ پی پی شکریہ بلاول کی کراچی میں مہم چلارہی ہے، ہمیں بتایا جائے بلاول نے کراچی کیلئے کیا کیا ہے۔ڈی ایم سی کے افسران ہمارے جھنڈے اتار رہی ہے۔ پیپلز پارٹی سرکاری مشنری کے ذریعے ہمارے ورکرز کو حراساں کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو کراچی میں بدترین شکست ہوئی ہے۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ مراد علی شاہ اس صوبے کے چیف مینیجر ہیں۔ مراد علی شاہ اس صوبے کی بربادی کے ذمہ دار ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کہتے ہیں کہ ہمیں پی ٹی آئی کے ترقیاتی کاموں سے نہیں طریقہ کار سے اعتراض ہے۔ پیپلز پارٹی کو بتادینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا طریقہ کار نہیں اپنا سکتے۔ ہم پیپلز پارٹی کی طرح کمیشن کی سیاست نہیں کرسکتے۔ ہم الحمدللہ حرام نہیں حلال پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 9ارب 90 کروڑ پی ٹی آئی کراچی میں خرچ کیے، 85کروڑ ایس جی ڈی گولز کے تحت مزید خرچ کیے جائیں گے۔ چیف مینیجر کو کہنا چاہتا ہوں کہ امریکہ جانے سے پہلے 163 ارب کی بیضابطگیوں کا حساب دیں۔ چیف جسٹس پاکستان سے گزارش کروں گا کہ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،ہمیں یقین ہے مراد علی شاہ بھاگ گئے تو واپس نہیں آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کراچی کے ترقیاتی کاموں سے متعلق تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔ اسد عمر نے کراچی میں وفاقی منصوبوں سے متعلق تفصیلات دیں۔ مراد علی شاہ عوام کو کب بتائیں گے کہ انہوں نے 13 سالوں میں کیا کیا؟ مراد علی شاہ بتائیں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، سیوریج کیلئے کیا اقدامات اٹھائے۔ مراد علی شاہ کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -