ملک میں بہت جلد الیکٹرک گاڑیاں کثیرتعداد میں سڑکوں پر نظر آئیں گی، خالد منصور 

ملک میں بہت جلد الیکٹرک گاڑیاں کثیرتعداد میں سڑکوں پر نظر آئیں گی، خالد ...

  

  

 کوئٹہ (آن لائن)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک اتھارٹی خالد منصور نے کہاہے کہ ملک میں بہت جلد الیکٹرک گاڑیاں کثیر تعداد میں نظر آئیں گی،5کمپنیوں نے منصوبے شروع کر دیے ہیں، سی پیک کا فیز ون تکمیل کے مراحل میں ہے، گوادر پورٹ فعال ہے،بہت جلد ملک میں معاشی ترقی نظر آئے گی۔معاون خصوصی سی پیک اتھارٹی خالد منصور کی منصوبوں کے حوالے سے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک میں اب تک 25ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آ چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 12ارب ڈالر کے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں، انھوں نے کہا کہ چینی کمپنی فیبریکیٹڈ گھروں کی ٹیکنالوجی لے کر آئی ہے، جبکہ سیرامکس کی کمپنی ٹائلز کی تیاری کیلئے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت کی ترقی کیلئے چین کی کمپنیاں کیڑے مار ادویات کی تیاری کیلئے سرمایہ کاری کرینگی، ان کا کہنا تھا کہ اوپو موبائل کمپنی نے پاکستان میں موبائل کی تیاری شروع کی ہے، سی پیک فیز ٹو میں سپیشل اکنامک زونز پر توجہ دے رہے ہیں۔خالد منصور نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، سی پیک فیز ٹو میں ہمارا مقصد سرمایہ کاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان سے چینی کمپنیوں کے سربراہان کے وفود نے ملاقات کی جس میں وفود نے حکومت پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو سراہا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ایز آف ڈوئنگ بزنس پالیسی پر تندہی سے عمل پیرا ہے، سرمایہ کاروں کیلئے مراعات فراہم کی جارہی ہیں، انتظامی کارروائیوں کو سہل بنایا جا رہا ہے، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے وہ ہر مہینے خود جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان چین سے صنعتی شعبے کی ترقی کے حوالے سے بہت سیکھ سکتا ہے، چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں روزگار کے مواقع ملیں گے اور افرادی قوت ہنر سیکھے گی، پاکستان میں درمیانے اور چھوٹے درجے کی صنعت کی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں جن میں چینی کمپنیاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے مزیدکہا کہ زراعت، ماہی گیری، سبزی اور پھل، زیادہ پیداوار والے مال مویشی، آئی ٹی و ٹیکنالوجی اور چھوٹی صنعتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خالد منصور

مزید :

صفحہ آخر -