پیٹرولیم کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنیوالی کمپنیاں تحقیقات کے باعث بھاگ جاتی ہیں: چیئرمین اوگرا 

  پیٹرولیم کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنیوالی کمپنیاں تحقیقات کے باعث بھاگ ...

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ میں چیئرمین اوگرا نے کمیٹی میں انکشاف کیاکہ پیٹرولیم میں جب لوگ سرمایہ کاری کرنے آتے ہیں تو ان کیخلاف تحقیقات شروع ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کمپنیاں واپس چلی جاتی ہیں،پیٹرول کی اصل قیمت 94روپے ہے 11روپے ٹیکس لیتے ہیں باقی ڈیلراور کمپنی کا منافع ہے۔بجلی کی قیمت پر سرفراز بگٹی اور کامل علی آغا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، سرفراز بگٹی نے کامل علی آغا کو اپوزیشن میں بیٹھنے کامشورہ دے دیا۔ حکام نے بتایاکہ پیپرا کے رولز جو ایل این جی کے حوالے سے ہیں وہ دنیا کے رجحان سے مطابقت نہیں رکھتے امید ہے کہ اس حوالے سے ہم پیپرا رولز تبدیل کریں گے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا مقبول کی زیر صدارت ہوا۔کمیٹی میں سرفراز بگٹی،رخسانہ زبیری،خالدہ اتیب،سعدیہ عباسی،مشتاق احمد،کامل علی آغا،طلحہ محمود،نصیب اللہ بازائی نے شرکت کی جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ سیکرٹریٹ چیرمین پیپرااور اوگرا نے شرکت کی۔اجلاس میں نیپرا کے حوالے سے ایجنڈے پربحث کی گئی۔چیِئرمین کمیٹی رانا مقبول نے کہاکہ کے الیکٹرک کو جو جرمانہ کیا گیا اس کا کیا ہوا؟ چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے کہاکہ کے الیکٹرک نے 16 کروڑ روپے کا جرمانہ جمع کرا دیا ہے،24سال میں پہلی مرتبہ حکم امتناع لینے کی بجائے کے الیکٹرک نے جرمانہ ادا کیا۔چئیرمین کمیٹی رانا مقبول نے کہاکہ بلز میں کیوں بار بار اضافہ کیا جا رہا ہے، آپ صارفین پر اتنا ظلم کر رہے ہیں جس پر چئیرمین نیپرا نے کہاکہ روپیہ کی قدر میں کمی کی وجہ سے بجلی ریٹ پر فرق پڑ رہا ہے، فیول بہت مہنگا آ رہا ہے، آئی پی پیز کو ہمیں طے شدہ ریٹ لازمی ادا کرنے ہوتے ہیں، چاہے بجلی استعمال کریں یا نہ کریں،۔مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ لوگوں کی جیبیں کاٹ رہے ہیں اور انھیں کہ رہے ہیں کہ خیرات دے رہے ہیں،لوگوں کو گالی دے رہے ہیں کہ انھیں خیرات دے رہے ہیں۔، سرفراز بگٹی نے کہاکہ آغا صاحب چیئرمین نیپرا عزت دار افسر ہیں آپ ان کو ڈانٹ نہیں سکتے، آپ کی جماعت حکومت کا حصہ ہے وزیر اعظم سے بات کریں،آغا صاحب خیرات اور سبسڈی میں زمین آسمان کا فرق ہے،۔ایل این جی کاروبار کی عمر ہی پانچ سال ہے، ہمارا ملک میں یہ رجحا ن  نیا ہے ایل این جی کے دنیا میں امپورٹرز، ساٹھ سے ستر فیصد پانچ دس پندرہ سال کے کنٹریکٹ کرتے ہیں پیپرا کے رولز جو ایل این جی کے حوالے سے ہیں وہ دنیا کے رجحان سے مطابقت نہیں رکھتے امید ہے کہ اس حوالے سے ہم پیپرا رولز تبدیل کریں گے۔۔چئیرمین اوگرا نے کمیٹی کوبتایاکہ ہم نے اشتہار دیا ہے کہ کمپنیاں آ کر پاکستان میں ایل این جی اسٹوریج ٹرمینل قائم کریں کچھ کمپنیوں نے ایل این جی اسٹوریج قائم کرنے میں دلچپسی ظاہر کی ہے دو نئے ایل این جی ٹرمینل کیلئے لائنسس دئیے ہیں۔پیٹرول کی(امپورٹ پرائس) ex refinery قیمت 94روپے 38پیسے ہیں آئی ایف ای ایم فارمولا یعنی پیٹرول کرایہ 3روپے 65پیسہ ہے۔پیٹرول پر ڈسٹریبیوشن مارجن 2 روپے 11 پیسے ہیں۔جنرل سیلز ٹیکس 11 روپے 28 پیسے ہے۔کمپنی کا پرافٹ 2 روپے 97 پیسے ہے پاکستان میں پیٹرول سارے ریجن میں سب سے سستا

 ہے۔تمام پیٹرولیم کمپنوں کو کہا ہے کہ نئی اسٹوریج بنائیں پاکستان میں پانچ آئیل ریفائنری ہیں، انھیں سپورٹ کرنا چاہیے اگر سپورٹ نہیں کریں گے تو ریفاننری یورو فائیو کی requirement کو پورا نہیں کر پائیں گی اور بند ہو جائیں گی پھر ہمیں زیادہ پیٹرولیم مصنوعات باہر سے امپورٹ کرنا پڑے گی اکثر سرمایہ کاروں کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی جاتی ہے جو کمپنیاں سرمایہ کاری میں دلچپسی لیتی ہیں وہ پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔رانا مقبول نے کہاکہ کیا یہ نیب کرتا ہے؟۔چئیرمین اوگرا نے کہاکہ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے، پیٹرولیم اور گیس بھی ہماری قومی سیکورٹی کا حصہ ہیں۔

قائمہ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -