جہانزیب کھچی کو صوبائی وزارت سے  علیحدہ کرنے کی اطلاعات، میلسی میں تبصرے، کئی نئے کھلاڑی بھی متحرک

 جہانزیب کھچی کو صوبائی وزارت سے  علیحدہ کرنے کی اطلاعات، میلسی میں تبصرے، ...

  

 میلسی (نامہ نگار)اگر کل وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار میلسی سے (بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

تین بار مسلسل ایم پی اے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی اور کھچی گروپ کی سیاسی حکمت عملی کے اہم کردار محمد جہاں زیب خان کھچی کو مبینہ طور پر میڈیا میں آئی مسلسل ا طلاعات کے مطابق صوبائی وزارت ٹرانسپورٹ سے الگ کرتے ہیں تو یہ میلسی میں دوسری سیاسی تبدیلی ہو گی کیونکہ اس سے پہلے قیادت کے فیصلے پر جنوبی پنجاب  کے صدر اور میلسی سے سابق ایم این اے نور خان بھابھہ بھی الگ کر دیے گئے۔واضح رہے کہ مبینہ طور پر اس وقت کھچی خاندان کی سیاسی  گرفت دو ہاتھوں میں آچکی ہے جہاں زیب خان کھچی کے حقیقی کزن سابق  ایم این اے آفتاب خان کھچی  صوبائی وزیر ریوینو کے قریبی سسرالی عزیز ہیں جو چاہتے ہیں کہ اگلی بار کھچی خاندان سے مشترکہ طور پر ان کے حقیقی بھاء شہزاد خان کھچی حلقہ پی پی 236 سے امیدوار ہوں۔ جہاں سے تین بار محمد جہاں زیب خان کھچی منتخب ہوئے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق کھچی خاندان میں سیاسی حوالے سے زبردست ٹوٹ پھوٹ ہے۔جس کا اظہار وزیر اعلی پنجاب کے میلسی میں دورے کے موقع پر ہوا۔جس میں محمد جہاں زیب خان کھچی وزیر ٹرانسپورٹ کے حقیقی چچا  4مرتبہ ضلعی سربراہ ضلع کونسل وہاڑی منتخب ہونے والے محمد ممتاز خان کھچی یا ان کے خاندان کا کوء فرد سابق ایم این اے  آفتاب خان کھچی۔شہزاد خان کھچی کسی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مسلسل کء بار آمد کے موقع پر  سابق ضلع ناظم محمد ممتاز خان کھچی ہر اجلاس کی صدارت کرتے رہے محمد جہاں زیب خان کھچی کے بڑے بھاء ایم این اے اور نگ زیب خان کھچی جن کے داماد ہیں  یوں ا ب کھچی خاندان میں دراڑ واضح پڑ گء ہے  جس کے میلسی کی مستقبل کی سیاست پر دور رس  اثرات یوں بھی ہو ں گے کہ جہاں زیب اور اورنگ زیب کھچی برادران کے والد دلاور خان کھچی مرحوم اور ان کے بھائی ممتاز خان کھچی کا ووٹ بنک دونوں کے والد الحاج محمد یار خان کھچی مرحوم سابق ایم ایل اے کے دور سے مشترک چلا آرہا ہے اگر فریقین کے مابین سمجھوتہ نہ ہوا تو یہاں پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی طور پر جھٹکا لگنا مبصرین کے مطابق منطقی ہے۔

جہانزیب کھچی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -