جام پور، ملزموں کا مدعی پارٹی پر حملہ 

 جام پور، ملزموں کا مدعی پارٹی پر حملہ 

  

 جام پور (نامہ نگار)تشدد اور خاتون کی بے حرمتی کرنے پر پولیس تھانہ(بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

 صدر میں نامزد ملزمان نے مدعی پارٹی پر دوبارہ حملہ کر دیا متعدد خواتین و مرد زخمی متاثرین نے بطور احتجاج روڈ بلاک کر دیا پولیس حکام کی یقین دہانی پر زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا تھانہ صدر پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے تفصیلات کے مطابق موضع محل مکول میں  چار روزقبل   مبینہ 6   مسلح ملزمان  لطیف ' حنیف ' وغیرہ نے رشتہ کے تنازعہ پر مسما عذرا بی بی زوجہ غلام شبیر کے گھر پر دھاوا بول دیا تھا اور  عذرا بی بی کو  گھر سے باہر سر عام تشدد کا نشانہ بنایا اس دوران اسکے کپڑے بھی پھٹ گئے عذرا بی بی کی چیخ وپکار پر مسمیان ریاض اور جمیل اسے چھڑوانے آئے تو ملزمان نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا  جمیل کی جیب سے   بیس ہزار روپے بھی گر گئے  جبکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے پولیس تھانہ صدر جام پور نے مسما عذرا بی بی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 446درج کر لیا تھا مگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا جسکی رنجش پر ملزمان نے مدعی پارٹی پر دوبارہ حملہ کر دیا جس سے تین خواتین اور پانچ مرد شدید زخمی ہو گئے اس واقعہ پر متاثرین اور اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جام پور لنڈی پتافی روڈ بلاک کر دیا اور شدید نعرہ بازی کی گئی  اس دوران پولیس تھانہ صدر کے ایک اے ایس آئی نے  وقوعہ کی وڈیو بنانے والے نوجوانوں سے موبائل چھین کر وڈیو کلپس ڈیلیٹ کر دئیے جس پر مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے اور دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا جس پر تھانہ صدر سے  دوبارہ  پولیس تھانہ صدر کے اے ایس آئی عبدالحمید کی معیت میں پولیس کی نفری موقع پر بھیجی گئی جنہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے  پولیس کی  اس یقین دہانی پر کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر لیا جائے گا مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جام پور منتقل کر کے جام پور صدر پولیس نے کاروائی شروع کر دی ہے دریں اثنا مدعی مقدمہ غلام شبیر اور دیگر نے آئی جی پولیس پنجاب آر پی او ڈیرہ غازیخان اور دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے خاندان کو  بااثر ملزمان سیتحفظ فراہم کیا جائے  نامزد ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے،،، 

احتجاج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -