کانسٹیبلری کیس، ملزموں کی ضمانت بعداز گرفتاری پرسماعت ملتوی

 کانسٹیبلری کیس، ملزموں کی ضمانت بعداز گرفتاری پرسماعت ملتوی

  

  ملتان (خصو صی رپورٹر  ) لاہور ہائیکورٹ ملتان کے دو ججز مسٹر جسٹس اسجد(بقیہ نمبر46صفحہ7پر)

 جاوید گھرال اور مسٹر جسٹس علی ضیا باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی مبینہ کرپشن کرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے مقدمہ میں گرفتار سابق ایس ایس پی انویسٹیگیشن و کمانڈنٹ محمد باقر سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔اس مقدمہ میں ایس ایس پی محمود الحسن،ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان اور ایس پی میاں عرفان اللہ سمیت 81 ملزمان نامزد ہیں۔ نیب ملتان کے ریفرنس کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ٹیکا لگانے والوں میں ایس ایس پی محمود الحسن،ایس پی میاں عرفان اللہ سینئر آڈیٹر مدثر دریشک، ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کنور محمد خان، اکاونٹس آفیسر بھکر قمر محمد خان مگسی،سابق ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر ملتان باسط مقبول ہاشمی،ڈیرہ غازی خان کے عارضی اکاونٹس آفیسر احمد بخش جسکانی سمیت دیگر شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے افسران کے جعلی دستخط کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ پولیس افسران نے اکانٹ افسروں اور اہلکاروں سے ملی بھگت کی، ملزمان نے جعلی بھرتیاں کرکے تنخواہیں اور جی پی فنڈ نکلوا کر ہڑپ کر لیا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان سے 63 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی، مقدمہ اینٹی کرپشن سے نیب کو منتقل ہوا تھا نیب کی جانب سے پنجاب کانسٹیبلری کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا کر ریفرنس تیار کیا گیا،سرکاری اراضی کی جعلی الاٹمنٹ میں بھی مبینہ طور پر خورد برد کی گئی، اراضی الاٹمنٹ میں خورد برد کرنے میں بہاولپور کے محمد بشیر، نذیر احمد اور محمد شبیر بھی شامل ہیں۔ متعدد ملزمان نے مقدمہ میں ضمانت کے لئے درخواست دائر کی ہے۔

ضمانت

مزید :

ملتان صفحہ آخر -