کیا آپ کو پتہ ہے فیس بک پر طبقہ اشرافیہ کو کیا سہولیات ملتی ہیں؟ایسا انکشاف کہ حیرت کی انتہا نہ رہے

کیا آپ کو پتہ ہے فیس بک پر طبقہ اشرافیہ کو کیا سہولیات ملتی ہیں؟ایسا انکشاف ...
کیا آپ کو پتہ ہے فیس بک پر طبقہ اشرافیہ کو کیا سہولیات ملتی ہیں؟ایسا انکشاف کہ حیرت کی انتہا نہ رہے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)ہر ملک میں اشرافیہ کو عوام پر فوقیت حاصل ہوتی ہے، حتیٰ کہ انہیں قانون عملداری میں بھی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اور اب آپ کو یہ سن کر سخت حیرت ہو گی کہ اس اشرافیہ کوفیس بک پر بھی استثنیٰ حاصل ہے اور ان کے اکاﺅنٹس پر فیس بک کے لاگو کردہ قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

 میل آن لائن کے مطابق گزشتہ دنوں فیس بک کی کچھ دستاویزات لیک ہو کر منظرعام پر آئی ہیں۔ جن سے انکشاف ہوا ہے کہ فیس بک ایک ’ایکس چیک‘ (XCheck)نامی پروگرام چلا رہا ہے جس کے تحت اشرافیہ کو فیس بک کی پابندیوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔اس پروگرام کے تحت کچھ شخصیات کو وائٹ لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے جو فیس بک کی پالیسیوں کے تابع نہیں ہوتے۔

لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق جن شخصیات کو ایکس چیک پروگرام کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہے ان میں ڈونلڈٹرمپ، ڈونلڈٹرمپ جونیئر، برازیلین فٹ بالر نیمارڈی سیلوا، سینیٹر الزبتھ وارن، ماڈل سنایا نیش اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ بھی شامل ہیں۔ 

اس پروگرام میںشامل اشرافیہ کے فیس بک اکاﺅنٹس پر ایسا مواد بھی پوسٹ کیا جا سکتا ہے جو عام لوگ پوسٹ کریں تو ان کی پوسٹس ڈیلیٹ کر دی جاتی ہیں اور بار بار ایسا مواد پوسٹ کرنے والوں کے سزا کے طور پر اکاﺅنٹس ہی ختم کر دیئے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیاستدان، اداکار، کھلاڑی اور دیگر مقبول شخصیات جن کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے، انہیں ایکس چیک پروگرا م کے تحت فیس بک اور اس کی ذیلی سوشل میڈیا کمپنی انسٹاگرام پر تحفظ دیا جاتا ہے اور انہیں فیس بک کے قواعدوضوابط سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔

برازیلین فٹ بالر نے اپنے فیس بک اکاﺅنٹ پر اس خاتون کی برہنہ تصاویر پوسٹ کر دی تھیں جس نے اس پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا اور فیس بک کی طرف سے فٹ بالر کو یہ تصاویر پوسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2020ءتک ایکس چیک پروگرام کے تحت دنیا بھر سے 58لاکھ شخصیات کو وائٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -