سیاہ حجاب لازمی قرار دیے جانے پر افغان خواتین نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کردیں کہ طالبان کی پریشانی کی حد نہ رہے

 سیاہ حجاب لازمی قرار دیے جانے پر افغان خواتین نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر ...
 سیاہ حجاب لازمی قرار دیے جانے پر افغان خواتین نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کردیں کہ طالبان کی پریشانی کی حد نہ رہے

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے خواتین کے لیے سیاہ حجاب لازمی قرار دیئے جانے پر افغان خواتین احتجاجاً اپنی روایتی ملبوسات میں تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے لگیں۔ سی این این کے مطابق طالبان کی طرف سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبہ اور طالبات کے لیے الگ الگ کلاس رومز لازمی قرار دیئے گئے ہیں اور خواتین طالبات، لیکچررز اور دیگر ملازمین کے لیے حجاب پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

افغان خواتین پر یہ پابندی عائد ہونے کے اگلے دن انٹرنیٹ پرکابل کی شہید ربانی ایجوکیشن یونیورسٹی کی طالبات کی تصاویر وائرل ہونے لگیں جن میں تمام طالبات نے سیاہ برقعے پہن رکھے ہوتے ہیں اور ہر طالبہ نے طالبان کا جھنڈا تھام رکھا ہوتا ہے۔ان کے جواب میں افغان خواتین نے اپنی رنگ برنگے روایتی افغان ملبوسات میں تصاویر بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جو اب تک جاری ہے۔ ڈی ڈبلیو نیوز کی افغان سروس کی سربراہ وصالت حسرت ناظمی نے اپنی ایک تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی اور لکھا کہ ”یہ افغان کلچر ہے اور افغان خواتین اس طرح کا لباس پہنتی ہیں۔“

لندن میں مقیم بی بی سی کی صحافی ثناءشفیع نے اپنی روایتی افغان لباس میں تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ ”اگر میں افغانستان میں ہوتی تو میرے سر پر سکارف ہوتا۔ “بی بی سی ہی کی ایک اور افغان نژاد خاتون صحافی سودابہ حیدری نے اپنی تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ہمارا روایتی لباس ہے۔ ہم رنگوں سے پیار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے تو چاول بھی رنگ برنگے ہوتے ہیں اور ہمارا جھنڈا بھی رنگ برنگا ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -