’عامر ،سلمان اور شاہ رخ خان خوف کے باعث مسائل پر بات نہیں کرتے ‘ نصیر الدین شاہ ایک بار پھر ہندو انتہا پسندی کے خلاف میدان میں آگئے 

’عامر ،سلمان اور شاہ رخ خان خوف کے باعث مسائل پر بات نہیں کرتے ‘ نصیر الدین ...
’عامر ،سلمان اور شاہ رخ خان خوف کے باعث مسائل پر بات نہیں کرتے ‘ نصیر الدین شاہ ایک بار پھر ہندو انتہا پسندی کے خلاف میدان میں آگئے 

  

ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت کے معروف ادا کار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ عامر، سلمان اور شاہ رخ خان دھمکیوں، خوف اور ہراسانی کی وجہ سے اہم سیاسی و سماجی مسائل پر بات نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ تینوں خانز کے خاموش رہنے کا مطلب صرف مالی خوف نہیں ہے بلکہ انہیں کئی طرح کے خوف ہیں، اس لیے وہ خاموش رہتے ہیں، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔

بھارتی نیوز چینل کو دئیے گئے ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا بھارت میں سیکولررزم کو پروان چڑھانے سے متعلق انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور ماضی میں انتہا پسند ہندو انہیں پاکستان چلے جانے کا طعنہ دیتے رہے ہیں۔اداکار نے بتایا کہ ان پر سب سے زیادہ غصہ انتہاپسند ہندو کرتے ہیں اور ماضی میں کسی شخص نے ان کے ہاں پاکستان کا ٹکٹ تک بھجوا دیا تھا۔بولی وڈ لیجنڈری اداکار نے سوالیہ انداز میں کہا کہ وہ کیوں پاکستان جائیں؟ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں پاکستان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں اور مسلمان ہونے کا مطلب پاکستانی نہیں ہے۔میزبان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ اور نغمہ نگار جاوید اختر مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک سمیت دیگر سماجی مسائل پر کھل کر اس لیے بولتے ہیں کہ انہیں اب خوف نہیں لگتا۔

 نصیر الدین شاہ نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے رویے میں اضافے کا ایک سبب فلمیں بھی ہیں۔نصیر الدین شاہ نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت بڑے فلم سازوں سے ’پروپیگنڈا‘ فلمیں بنواتی ہے اور ایسی فلمیں بنانے والوں کو کئی طرح کی سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔انہوں نے بولی وڈ فلم سازوں سے ’نازی جرمنی فلم سازوں‘ سے بھی تشبیح دی اور کہا کہ ہٹلر کی ہدایات پر جرمنی کے فلم ساز بھی پروپیگنڈا فلمیں بناکر مسائل کو ہوا دیتے تھے۔’پروپیگنڈا‘ فلموں کے حوالے سے انکشاف کے ثبوتوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس اپنے دعوے کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں مگر بولی وڈ کی ریلیز ہونے والی فلموں کو دیکھ کر اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا دعویٰ کتنا سچا ہے؟

مزید :

تفریح -