"حکومت اور میڈیا نمائندوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوئے ، مسودے کی حتمی تیاری کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دے دی "

"حکومت اور میڈیا نمائندوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوئے ، مسودے کی حتمی ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے، احتساب کا عمل بھی جمہوریت کا ایک لازمی جزو ہے،حکومت احتساب کے عمل کو مضبوط بنانا چاہتی ہے، جمہوریت کی مضبوطی اور تسلسل تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی( پی ایم ڈی اے) کے حوالے سے حکومت اور میڈیا نمائندوں کے درمیان بامعنی مذاکرات ہوئے ہیں، پی ایم ڈی اے کے قیام بارے مسودے کی حتمی تیاری کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینلز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےفرخ حبیب  نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل بھی ایک ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے، ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اداروں کے نظام کی مربوطی و تسلسل کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، 2008ء کے انتخابات سے 2018ء کے انتخابات تک جمہوریت کا تسلسل جاری ہے، احتجاج کرنا بھی جمہوری حق ہے، اسی طرح جمہوریت میں جہاں اختیار ہوتا ہے وہاں احتساب بھی اتنا ہی کڑا ہوتا ہے، احتساب کا عمل بھی جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کے ذریعے ہی ایک اجتماعی سوچ کو لے کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا ملک میں ایک بہت بڑا اور اہم کردار ہوتا ہے، پاکستان میں قانون سازی، اداروں میں ریفارمز لانے یا  انتخابی اصلاحات ہوں ان سب میں پارلیمان کی بالادستی اور کردار بہت اہم ہوتا ہے، جمہوری عمل کے تسلسل کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ نیب کی مضبوطی کے حوالے سے کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، اپوزیشن کی جانب سے تو کہا جاتا رہا کہ احتساب کے ادارے کو بند ہونا چاہیے جبکہ ہم کہتے ہیں کہ احتساب کے عمل اور مضبوط اور مزید بہتر ہونا چاہیے اور جہاں پر بھی کوئی کمی نظر آئے اس کو مل بیٹھ کر دور کیا جانا چاہیے، چیئرمین نیب کی توسیع یا آرڈیننس کے حوالے سے میرے پاس ابھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کو سلیکٹڈ کہہ رہی ہیں، اپوزیشن جماعتیں کسی بھی مسئلے پر یکجا نہیں ہیں، اپوزیشن جماعتیں آپس میں دوسری اور تیسری پوزیشن یا اپوزیشن لیڈر کے لئے لڑ رہی ہیں، ہم نے انتخابی اصلاحات 16 اکتوبر 2020ء کو متعارف کروائیں، اس کے لئے ہم نے سینئر پارلیمنٹیرین فخر امام کی سربراہی میں کمیٹی بنائی، سپیکر اسمبلی نے بھی اپوزیشن سے رابطے کئے لیکن اپوزیشن نے اس میں حصہ ہی نہیں لیا، متعدد مرتبہ ہم نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو دیکھیں لیکن اپوزیشن نے بغیر دیکھے ہی ووٹنگ مشین کو مسترد کر رہی ہے، آج دنیا ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے، موبائل سم لینی ہو یا شناختی کارڈ بنوانا ہو تو مشین کے ذریعے ہی بائیو میٹرک شناخت کی جاتی ہے، اپوزیشن جماعتوں کو اپنے رویوں میں سنجیدگی لانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ہم آج بھی اپوزیشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اپوزیشن نے حکومت پر تنقید کرنی ہے، جلسے کرنے ہیں، عدم اعتماد یا لانگ مارچ جو بھی کرنا ہے وہ کریں لیکن جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے صاف اور شفاف انتخابات بہت ضروری ہیں، صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ آ چکا ہے کہ انتخابات میں شفافیت لانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے علاوہ اپوزیشن جماعتیں تو اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں، اوورسیز پاکستانی 30 ارب ڈالرز سالانہ پاکستان میں بھیجتے ہیں، جو الیکشن ایکٹ 2017ء میں متفقہ طور پر منظور ہوا اس کی شق نمبر 103 میں ای وی ایم کا استعمال لکھا ہوا ہے اور اس ایکٹ کی شق نمبر 94 میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے حوالے سے لکھا ہوا ہے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پی ایم ڈی اے کے حوالے سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں حکومت اور میڈیاورکرز کے نمائندوں سمیت وزارت اطلاعات کے حکام اور قانونی ماہرین شامل ہوں گے، کمیٹی پی ایم ڈی اے قیام سے متعلق کاغذی کام کا جائزہ لے گی۔

مزید :

قومی -