ڈی این اے میں پایا جانے والا نقص

 ڈی این اے میں پایا جانے والا نقص
 ڈی این اے میں پایا جانے والا نقص

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 صدر عارف علوی نے بالآکر گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیا اور تجویز کیا ہے کہ 6نومبر کو عام انتخابات کا ڈول ڈالا جا سکتا ہے جو قومی اسمبلی کے تحلیل کئے جانے کا 89واں دن بنتا ہے۔ تاہم جس پھسپھسے انداز میں تجویز کیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پَر کٹ چکے ہیں اور وہ محض پی ٹی آئی کارکنوں کی اشک شوئی کی خاطر ایسا کر رہے ہیں۔ 
اس سے قبل جب پی ٹی آئی کے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کاروائی کو معطل کیا اور اگلے لمحے عمران خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھیجی تو انہوں نے آناً فاناً اس تجویز کو منظور کر لیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے بروقت نوٹس لیا اور سارے عمل کو وہیں سے شروع کیا جہاں سے معطل ہوا تھا اور یوں نہ صرف صدر کا عمل بے کار ٹھہرا بلکہ خود عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ صدر یہ دھول پہلے بھی چاٹ چکے ہیں، اب دوسری مرتبہ ہے کہ ایک آئینی ادارے نے انہیں اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر مسترد کیا ہے۔ 


پاکستان میں شائد ہی کوئی اور صدر اس قدر ہلکا لیا گیا ہو جتنا ہلکا صدر عارف علوی کو لیا جا رہا ہے۔ ان کی حالت تو صدر فضل الٰہی سے بھی پتلی معلوم ہوتی ہے جن کی رہائی کے لئے ایوان صدر پر اپیل لکھی گئی تھی۔ صدر عارف علوی سے تو نون لیگ کے صدور بشمول محمد رفیق تارڑ اور ممنون حسین کہیں بہتر رہے کہ انہوں نے خاموشی اور آئینی حدودوقیود میں رہتے ہوئے اپنا وقت مکمل کیا اور نون لیگ کے اقتدار سے باہر ہوتے ہی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر گھر کی راہ لی۔ پی ٹی آئی کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد ایوان صدر کو ان کی آماجگاہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی اور سوچا گیا کہ جب تک عمران خان ملک کے صدر منتخب نہیں ہو جاتے تب تک عارف علوی ان کی جگہ ان جیسے کام کریں۔ پھر چشم فلک نے جو کچھ دیکھا، سنا اور سہا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 
صدر عارف علوی نے پہلے دن سے اس عہدے کی توقیر کا خیال نہیں رکھا۔ آغاز انہوں نے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیج کر کردیا تھا اور جب چال الٹی پڑی تو انہوں نے یہ کہہ کر پہلو بچالیا کہ انہوں نے تو ڈاکخانے کا کام کیا تھا اور حکومت کی جانب سے آنے والے ریفرنس کو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا تھا۔ اللہ اللہ خیر سلہ!


عارف علوی کی بے توقیری کا وہ عالم تو دیدنی تھا جب سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کے موقع پر ایک طرف تو عمران خان نے ان کی ڈرائیونگ کے فرائض سرانجام دے کر وزیر اعظم کے عہدے پر سوالیہ نشان کھڑے کئے اور دوسری جانب جب ان کے اعزاز میں صدر عارف علوی سپاس نامہ پڑھنے لگے تو عمران خان نے آداب محفل کو نظر انداز کرتے ہوئے جہاں سامنے پڑی سلاد پر منہ چلانا شروع کردیا وہاں پر انتہائی بدتمیزی کے ساتھ کہا ”عارف، کھڑے ہو جاؤ“ اور وہ میکانکی انداز میں کسی روبوٹ کی طرح کھڑے ہو کر سپاس نامہ پڑھنے لگے۔ تب سے اب تک عارف علوی عمران خان کے حضور کھڑے ہیں، بلکہ ان کے حضور بھی کھڑے ہیں جو عمران خان کو چلا رہے ہیں۔ 
جس زمانے میں وہ پارلیمنٹ کا حصہ تھے جو گلے میں لمبی تنی والا ایک بستہ ڈال کر گھومتے نظر آیا کرتے تھے، اس بستے میں یقینی طور پر وہ اسباق ہوں گے جو وہ گاہے بگاہے عمران خان سے لیتے ہوں گے۔ وہ بات بھی کسی کو نہ بھولی ہوگی کہ پی ٹی وی کی عمارت پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی خبر بھی ٹیلی فون پر سب سے پہلے عارف علوی نے عمران خان کو دی تھی۔ 


یہ ساری صورت حال اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ چھوٹے لوگ بڑے عہدوں پر جا بیٹھے ہیں اور نتیجہ سب کے سامنے ہے، کچھ بھی سیدھا نہیں ہے بلکہ الٹ پر الٹ ہوئے جا رہا ہے جبکہ عارف علوی ہیں کہ ایک کے بعد ایک شعبدہ اپنے تھیلے سے نکال کر اپنے چیئرمین کے حضور پیش کر تے جا رہے ہیں۔ عمران خان سے وفاداری کی حد تو یہ تھی کہ اقتدار سے باہر نکالے جانے کے بعد ان کی اور سابق آرمی چیف کی ملاقات کا اہتمام بھی ایوان صدر میں کیا گیا تھا۔ مگر وہ کیا کہ حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھاگئے!
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عارف علوی کا تذکرہ صدر پاکستان سے کم اور پی ٹی آئی کارکن کے طور پر زیادہ شدومد سے کیا جائے گا۔ ممکن ہے وہ اس پر بھی ناز فرماتے پائے جائیں۔ تاہم اس بارے میں ابھی اہتمام سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ صدر عارف علوی سے اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ زندہ رہنے کے لئے تاریخ کوئی اچھی جگہ نہیں ہوتی، خواہ ایک پارٹی کارکن کے طورپر ہی کیوں نہ رہنا ہو۔ 
ہماری طرح عارف علوی بھی پاکستان کی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی کبھی ہماری طرح بیٹھ کر کہتے ہوں گے کہ ملک کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا  کیونکہ سیاستدان اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ ملک چلا سکیں۔ وہ بھی کبھی ہماری طرح سوچتے ہوں گے کہ اگر ہمیں موقع ملے تو ہم پاکستان کو امریکہ اور چین کے مقابلے کی ریاست بناسکتے ہیں لیکن جب انہیں موقع ملا ہے تو وہ روائتی سیاستدان ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ہماری طرح ان کے ڈی این اے میں بھی کوئی نقص ہے! 

مزید :

رائے -کالم -