پابندی کے باوجود شاہدرہ میں بھینسوں کے باڑے جا بجا گندگی سے بیماریوں پھوٹ پڑیں

پابندی کے باوجود شاہدرہ میں بھینسوں کے باڑے جا بجا گندگی سے بیماریوں پھوٹ ...

  



                          لاہور(جاوید اقبال)ضلعی حکومت اور راوی ٹاﺅن کی غفلت اور خاموشی سے شاہدرہ اور اس سے ملحقہ درجنوں آبادیوں میں مچھروں کی افزائش سے کئی اقسام کے بخار کا مرض پھوٹ پڑا ہے جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے آبادیوں میں جا بجا گوبر کے ڈھیر خالی پلاٹوں میں گوبر کے پہاڑوں پر ہر اقسام کے مچھر پرورش پا رہے ہیں علاقے میں اس قدر مچھر ہیں کہ لوگ رات بھر سو نہیں سکتے یہ حالات گزشتہ روز شاہدرہ میں سروے کے دوران سامنے آئے۔ شاہدرہ ٹاﺅن میں جا بجا بھینسوں کی حویلیاں آباد، گلیوں، خالی پلاٹوں میں گوبر کی بھرمار، مکھیوں، مچھروں کی افزائش عام، ڈینگی سمیت دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا متعلقہ انتظامیہ نے چپ کا روزہ رکھ لیا تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کے علاقوں نیو لاریکس کالونی ایکسٹنشن ، رسول پارک ، قاضی پارک پراچہ کالونی سمیت دریائے راوی کے بند کے قریبی آبادیاں بھینسوں کے باڑوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، لوگوں نے گھروں میںبھینسیں رکھی ہوئی ہیں، لاریکس کالونی شاہدرہ میں ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب ریلوے کی جگہ پر قائم حویلی کے اردگرد کا علاقہ گندگی کا گڑھ بن چکا ہے، حویلی کے مالکان نے پورے علاقہ کو گوبر خانہ بنا دیا ہے بھینسیں گلیوں اور خالی پلاٹوں میں دوڑتی نظر آتی ہیں جابجا گوبر کے ڈھیروں سے مکھیاں، مچھر اور دیگر حشرات جنم لے رہے ہیں اس حوالے سے لاریکس کالونی کے مکینوں نے پاکستان کو بتایا کہ حویلی مالکان نے پورے علاقے کو گوبر خانے میں تبدیل کر دیا ہے اور ڈینگی کے حوالے سے علاقے کو ہائی رسک بنا دیا ہے کیونکہ یہاں مچھروں کی افزائش بہت تیزی کے ساتھ ہو رہی ہے اور چھوٹے و بڑے مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اہل علاقہ نے بتایا کہ متعلقہ اتنظامیہ اس پر بالکل خاموش ہے رہائشی علاقوں میں بھینسیں رکھنے پر پابندی کے باوجود جا بجا حویلیاں نگران حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...