ٹرینوں پر حملے،آپریشن، تصادم اور بلوچستان

ٹرینوں پر حملے،آپریشن، تصادم اور بلوچستان
 ٹرینوں پر حملے،آپریشن، تصادم اور بلوچستان
کیپشن:   amaan ullah سورس:   

  

 بلوچستان نواب بگٹی کے بہیمانہ قتل کے بعد پرسکون نہیں رہا۔دھماکے ،حملے ، قتل و غارت کا بازار گرم رہا ہے۔اغواءبرائے تاوان اور تصادم اس صوبہ کی شناخت بن گئی ہے۔ شہرپہلے کی نسبت کچھ پرسکون ہوگیا ہے۔بلوچ اور پشتون قوم پرست پارٹیوں کو صوبے کا اقتدار دے دیا گیا ہے۔ نوازشریف کی یہ پالیسی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے داد کی مستحق ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ کے صوبائی صدر نواب ثناءاللہ اور بعض مسلم لیگی وزراءنے پوری کوشش کی ہے کہ حکومت قوم پرستوں کے ہاتھوں سے نکل کر مسلم لیگ کے ہاتھ میں آ جائے۔لیکن نوازشریف اس سیٹ اپ کو آگے لے جانا چاہتے ہیں اور فوج بھی ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور عبدالمالک بلوچ کو مکمل تائید حاصل ہے۔اس لئے یہ سفر دور تک جاری رہتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ہاں اگر کسی کی نظر لگ گئی تو پھر نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہوگا؟ایک طرف مسلم لیگ کی یہ کشمکش ہے تو دوسری طرف مسلح تصادم بھی جاری ہے اور کئی مسلح گروہ وجود میں آ گئے ہیں اور ان کی کمانڈ مختلف لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، ہم آہنگی نہیں ہے اور نہ کوئی قیادت پر اتفاق ہے۔نوابزادہ براہمداغ بگٹی اور نوابزادہ حیر بیار مری میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے اور نہ وہ ایک دوسرے کی بالادستی کو قبول کرتے ہیں۔چند دن قبل نوابزادہ حیر بیار مری نے بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے لندن سے ایک چارٹر پیش کیا ہے اس کو کسی طرف سے بھی پذیرائی نہیں ملی ہے، بلکہ بلوچ ری پبلیکن پارٹی کی ایک خاتون نے اس چارٹر کی حمایت کی تو پارٹی کے ترجمان نے اس کی رکنیت معطل کردی ہے۔ اور کسی بھی بلوچ قوم پرست پارٹی کی طرف سے حمایت میں کوئی سامنے نہیں آیا ہے۔مسلح گروہوں اور قوم پرست پارٹیوں کی طرف سے توپیں خاموش ہیں ۔لیکن بعض حصوں میں مسلح تصادم ہو رہا ہے اور کچھ حصے مضطرب ہیں۔ہفتہ میں کوئی نہ کوئی تصادم ایف سی اور مسلح گروہوں میں ہوتا رہتا ہے لیکن کچھ واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ اس سے پورا بلوچستان سوگوار ہوگیا ہے۔یہ واقعہ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ ہے جب کوئٹہ سے جعفر ایکسپریس ایک بج کر 30منٹ پر سبی اسٹیشن پہنچی اور رک گئی تو اس کے چند لمحوں بعد دھماکوں سے اسٹیشن گونج اٹھا اور بموں کے دھماکوں نے پورے اسٹیشن کو ہلا کر رکھ دیا۔دھماکے نے ایک پرسکون ماحول کو قیامت صغریٰ میں تبدیل کردیا۔آگ اور خون کا بازار گرم ہو گیا۔دھماکے کے ساتھ انسانی اعضاءبکھر گئے، چیخ و پکار اورفلک شگاف صداﺅںسے اسٹیشن قیامت میں بتدیل ہوگیا۔عورتوں اور بچوں کی لاشیں بکھری پڑی ہوئی تھیں۔آدھا اسٹیشن تباہ ہوگیا اس دہشت گردی میں 19افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کوئی 50کے قریب شدید زخمی ہوگئے۔ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سی ایم ایچ کوئٹہ پہنچایا گیا۔اس دھماکے میں نوشکی سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان جو اپنی رسومات ادا کرکے لوٹ رہا تھا کہ دھماکے کی زد میں آ گیا اس میں تمام لوگ ایک خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور یہ ہندو برادری کے لوگ تھے سب ختم ہوگئے اس کی مذمت حیربیار مری اور سردار اختر مینگل نے بھی کی اور شدید مذمت کی۔حیر بیار نے کہا کہ میں اس کی حمایت نہیںکرسکتا خواہ اس کو میرے لوگوں نے کیا ہے یا ہم خیال لوگوں نے کیا ہے قابل مذمت ہے ۔اس سے پورا صوبہ سوگوار ہوگیا اور نوشکی شہر میں بطور احتجاج مکمل ہڑتال ہوئی اور تمام بازار مکمل بند رہا۔بعض حلقوں کی رائے یہ ہے کہ یہ دھماکہ دراصل قلات میں فوجی آپریشن کا ردعمل ہو سکتا ہے۔قلات کے علاقہ میں ایف سی کو اطلاع ملی کہ اس حصہ میں مسلح گروہوں کے فراری کیمپ ہیں جہاں سے لوگ دھماکے کرتے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ٹرینوں پر حملے اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں اس لئے خضدار اور قلات کے درمیانی علاقہ میں ایف سی کے آئی جی میجر جنرل محمد اعجاز شاہد کی نگرانی میں یہ آپریشن کیا گیا ۔آپریشن 24 گھنٹے تک جاری رہا اور اس میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوئے ہیں۔یہ آپریشن پسرد اور چوہان کی پہاڑیوں میں کیا گیا۔بھٹو اور ایوب خان کے دور میں بھی مسلح گروہ اس حصہ میں موجود تھے اور مسلح کارروائیوں میں مصروف رہتے تھے اس ٹارگٹڈ آپریشن میں ایف سی کے 10ٹھکانے تباہ کئے گئے اور اس حملے میں کوئی 30کے قریب فراری مارے گئے۔ وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں اس آپریشن کی تفصیلات بتائیں ۔مسلح باغیوں کا موقف تھا کہ انہوں نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر مارگرایا ہے مگر وزیر داخلہ نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ہیلی کاپٹر فنی خرابی کی وجہ سے گرا ہے اور اس میں تین فوجی کرنل ،ایک میجر اور جوان موجود تھے مگر وہ سب محفوظ رہے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور کہا کہ جہاں بھی فراری کیمپ ہوں گے ان کو ختم کر دیا جائے گا۔یہ فوجی آپریشن 7اپریل کو کیا گیا اور جعفر ایکسپریس پر حملہ 8اپریل کو کیا گیا۔ 2013ئ، 2014ءتک بلوچستان میں ٹرینوں پر چار بار حملے کئے گئے ہیں اور ان حملوں میں 29افراد جاں بحق ہوئے اور 150سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔بولان کے علاقہ میں اس طرح کے حملے ایوب خان اور بھٹو کے دور میں بھی ہوئے ہیں اور حکومت ان کو روک نہیں سکی۔اس علاقے میں پنجاب سے آئے لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا گیا ۔اس لئے حکومت کو چاہیے کہ اس حصہ کی خاص نگرانی کرے۔بھٹو کے دور میں ٹرین میں ایک بوگی مسلح فوجیوں کی ہوتی تھی تاکہ کوئی حملہ ہو تو اس کا جواب دیا جائے اس کے بعد ٹرین پر حملے بند ہوگئے تھے۔ماہ اپریل بلوچستان کے حوالے سے بہتر نہیں رہا ہے اب نواب ثناءاللہ زہری نے پہیہ جام، شٹر ڈاﺅن اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔نواب ثناءاللہ زہری صوبائی حکومت میں ویزر ہیں اور یہ ہڑتال 17اپریل کو ہوگی ایک سال قبل ان پر حملہ کیا گیا جب وہ اپنے آبائی علاقہ کو لوٹ رہے تھے اس حملہ میں وہ محفوظ رہے اس اچانک حملے میں ان کے صاحبزادے اور بھائی مارے گئے۔انہوں نے اس کی ایف آئی آر درج کی ہے اور اس میں نواب خیر بخش خان مری ،سردار عطاءاللہ مینگل کو نامزد کیا ہے ان کے ساتھ حیر بیار مری ،جاوید مینگل(سردار مینگل کے صاحبزادے ہیں ان دنوں سبی میں ہیں) وہ بھی مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں اور لشکر بلوچستان کے نام سے تنظیم ہے جاوید مینگل نواب خیر بخش خان مری کے داماد ہیں اور اختر مینگل کے بھائی ہیں اور سینیٹررہ چکے ہیں۔اس ایف آئی آر کے بعد نوابزادہ چنگیز مری اور نواب ثناءاللہ میں حد فاصل قائم ہوگئی ہے دونوں کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے اور چنگیز مری ایک طویل عرصہ سے نوازشریف کے ساتھ ہیں۔نواب ثناءاللہ زہری بہت بعد میں شامل ہوئے ہیں۔اس چپقلش کی وجہ سے مسلم لیگ اپنے سر وزارت اعلیٰ کا تاج نہیں رکھ سکی ہے۔دونوں ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔نوابزادہ چنگیز مری ، نواب خیر بخش کے بعد نوابی کی پگڑی اپنے سر پر باندھیں گے ایک لحاظ سے مستقبل کے نواب ہیں اور مسلم لیگ میں ہیں ان کا چھوٹا بھائی حیر بیار مری بھائی کا مخالف ہے۔دونوں چند سال قبل ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی بھی کر چکے ہیں اب دونوں خاموش ہیں۔چنگیز مری اور نواب خیر بخش خان مری کی سیاسی راہیں جدا جدا ہیں ایک پاکستان کا حامی اور دوسرا مخالف۔یہ ایک دلچسپ سیاسی صورت حال ہے ،کچھ ایسا ہی نقشہ سردار مینگل اور جاوید مینگل کے درمیان ہے۔جاوید مسلح جدوجہد میں مصروف اور سردار مینگل پارٹی سیاست کا ہم سفر اور اختر مینگل صوبائی اسمبلی کا ممبر۔ بلوچستان میں مسلح تصادم اور پارلیمانی سیاست ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن ریل کی پٹڑی کی طرح قریب ہونے کے باوجود فاصلہ برقرار ہے۔

مزید :

کالم -