سائنسدانوں کو مریخ پر پانی کے آثار مل گئے

سائنسدانوں کو مریخ پر پانی کے آثار مل گئے
سائنسدانوں کو مریخ پر پانی کے آثار مل گئے

  



واشنگٹن (نیوز ڈیسک) سائنسدان یہ تو پہلے ہی جان چکے تھے کہ سیارہ مریخ پر برف موجود ہے لیکن اب یہ شواہد بھی مل گئے ہیں کہ سرخ سیارے پر رات کے وقت پانی بھی موجود ہو سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:چین میں 'جہنم کا دروازہ'کھل گیا ،لمبی قطاریں

سائنسی جریدے ”نیچر“ میں شائم ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مریخ کی سطح پر کیمیائی مادہ پرکلوریٹ ملا ہے جو نقطہ انجماد کو گرا دیتا ہے جس کی وجہ سے پانی جم کر برف نہیں بنتا ہے بلکہ نمکین محلول کی صورت میں مائع حالت میں موجود رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر رات کے وقت پانی کے بخارات سطح پر جمع ہوتے ہیں اور کیلشیم پرکلوریٹ میں جذب ہو کر جمنے سے محفوظ رہتے ہیں اور مائع حالت میں موجود رہتے ہیں۔

یہ معلومات مریخ پر بھیجے گئے ”مارس روور“ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اخذ کی گئی ہیں اور ان انکشافات کے بعد مریخ پر زندگی کے امکانات کی توقع مزید بڑھ گئی ہے۔ ”مارس روور“ 2012ءمیں مریخ کی سطح پر Gale نامی عظیم گڑھے میں اترا تھا۔ اس گڑھے کا قطر 134 کلومیٹر اور گہرائی 5 کلومیٹر ہے اور مارس روور اس کے پیندے میں 10 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے قیمتی معلومات اکٹھی کر چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس