مصر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کا مشتر کہ جنگی مشقوں کا فیصلہ

مصر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کا مشتر کہ جنگی مشقوں کا فیصلہ

  



ریاض( آن لائن)مصر اور سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں پرصلاح مشورہ مکمل کرلیا ہے۔ جس کے بعد جلد ہی سعودی عرب کی سرزمین پر مشقیں شروع کی جائیں گی اور ان میں دیگر خلیجی ممالک کی مسلح افواج بھی حصہ لیں گی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنگی مشقوں کے حوالے سے سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے گذشتہ روز قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اپنے مصری ہم منصب جنرل صدقی صبحی سے ملاقات کی۔ دونوں رہ نماؤں سے ملاقات میں سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں شروع کرنے کے لیے مشترکہ ملٹری کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں طے پایا کہ سعودی عرب میں ہونے والی ان جنگی مشقوں میں دیگر خلیجی ممالک کی مسلح افواج کو بھی شامل کیا جائے گا۔سعودی وزیر دفاع اور شاہی دیوان کے انچارج شہزادہ محمد بن سلمان اپنے مختصر دورہ مصر کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ انہیں قاہرہ ہوائی اڈے سے مصری وزیردفاع جنرل صدقی صبحی نے الوداع کیا۔ قاہرہ ہوائی اڈے پر صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ وہ مصری کی حکومت اور پوری قوم کے تہہ دل سے شکرگذار ہیں کہ اس نے مشکل کی گھڑی میں ریاض کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصرکی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں۔ خطے میں امن وامان کیقیام میں مصری فوج کا کلیدی کردار ہے۔خیال رہے کہ سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان گذشتہ روز مختصر دورے پر قاہرہ پہنچے تھے جہاں ان کی ملاقات مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ہوئی۔ ملاقات میں دو طرفہ فوجی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا گیا۔ قاہرہ پہنچنے پر مصرکی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیردفاع جنرل صدقی صبحی سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مصرمیں سعودی عرب کے سفیر احمد بن عبدالعزیز قطان اور ملٹری اتاشی بریگیڈیئر جنرل عبداللہ بن یوسف الجاسر بھی موجود تھے۔

مزید : عالمی منظر