صفاکدل میں آگ کی بھیانک واردات ،11 رہائشی مکانات اور ایک درجن دکانیں خاکستر

صفاکدل میں آگ کی بھیانک واردات ،11 رہائشی مکانات اور ایک درجن دکانیں خاکستر

  



سرینگر(کے پی آئی ) سری نگر کے صفاکدل علاقہ میںآگ کی ایک بھیانک واردات کے دوران قریب ایک درجن رہائشی مکانات اور اسی تعداد میں دکانیں و دیگر تعمیرات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں جس کے نتیجے میں مجموعی طور کروڑوں روپے کی املاک خاکستر ہوئی اور درجن بھر کنبے مکمل طور بے گھر ہوگئے۔واردات کے نتیجے میں بے گھر ہوئے لوگوں نے منگل کو حکام کی عدم توجہی کے خلاف مظاہرے کئے ۔

کے ایم این سٹی رپورٹر کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب کے قریب دو بجے شہر خاص کے سرائے صفا کدل علاقے میں ایک رہائشی ڈھانچے سے اچانک آگ ظاہر ہوئی جس نے آنا فانا ملحقہ مکانوں اور دیگر تعمیرات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔آگ کے شعلے بلند ہوتے ہی علاقہ میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ گھروں سے باہر آکر آگ بجھانے کی کارروائی میں جٹ گئے ۔اس دوران شہر کے مختلف علاقوں سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں درجنوں اہلکاروں کے ہمراہ جائے واردات پر پہنچ گئیں اور بچا کارروائی شروع۔تاہم عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ انتہائی ہولناک تھی جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی اور اسکی وجہ سے علاقے میں رات بھر افراتفری کا ماحول رہا ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ آگ کی تپش دوردور سے محسوس کی جارہی تھی اور اس کے شعلے کافی دور سے بھی دیکھے گئے۔اتھل پتھل کے عالم میں اگر چہ مقامی لوگوں نے کچھ مکانوں میں موجود گھریلو سامان باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن آگ کی بھیانک لپٹوں نے انہیں قریب آنے نہ دیا اور صرف مکانوں میں موجود لوگوں کو ہی بچاسکے۔اس موقعے پر بچوں اور خواتین کی غمناک چیخ و پکار کے دلدوز مناظر بھی دیکھے گئے ۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے مطابق آگ بجھانے کی کارروائی میں شہر کے دس مختلف اسٹیشنوں سے لائے گئے 13فائر ٹینڈرر اور11فائر انجنوں نے حصہ لیا۔کئی گھنٹوں کی سخت جدوجہد کے بعد اگر چہ آگ پر قابو پا لیا گیا لیکن ا س سے قبل ہی 11رہائشی مکانات، درجن بھر دکانیں اور دو شیڈ خاکستر ہو چکے تھے جبکہ مکانوں میں موجود ہر قسم کا سامان بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔ عینی شاہدین نے کے ایم این کو بتایا کہ گنجان بستی ہونے کی وجہ سے آگ انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل گئی اور بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ اس واردات میں جن شہریوں کی املاک خاکستر ہوئی،ان میں محمد یاسین خان ولد عبدالرحمان، عبد الغنی خان ولد غلام محمد،عبد الغنی خان (دوم)ولد غلام محمد، علی محمد بٹ لد غلام محمد، منیر احمد بٹ ولد غلام احمد، محمد مقبول خان ولد عبدالعزیز، عبدالاحد خان ولد عبدالرحیم ، امتیاز احمد ڈار ولد محمد صدیق اورعبدالغنی خان ولد غلام محی الدین خان شامل ہیں۔ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ بجلی کی شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے تاہم پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔اس واردات میں مجموعی طور پرکروڑوں روپے مالیت کی جائیدادمکمل طور پر تباہ ہو گئی اور قریب ایک درجن کنبے مکمل طور بے گھر ہوکر کھلے آسمان کے نیچے آگئے ۔فائر سروس کے ماہرین نے جائے واردات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ واردات کے نتیجے میں 3کروڑ55لاکھ روپے مالیت کی جائیداد متاثر ہوئی جبکہ70لاکھ روپے کی املاک مکمل طور تباہ ہوگئی ہے۔ منگل کی صبح علاقہ میں ماتم کا ماحول تھا اور بے گھر ہوئے افراد بالخصوص خواتین روتے بلکتے نظر آئیں۔متاثرہ لوگوں نے سڑک پر دھرنا دیکر گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل ڈالا اور الزام عائد کیا کہ کسی بھی سرکاری آفیسر نے ان کے پاس آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔انہوں نے نقصان کا فوری تخمینہ لگانے اور ان کی بازآبادکاری عمل میں لانے کا زوردار مطالبہ بھی کیا۔بعد میں پولیس اور ضلع انتظامیہ کے افسران نے بھی جائے واردات کا دورہ کرکے متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مزید : عالمی منظر


loading...