زرعی شعبے کی ترقی کیلئے دیہی ترقی پرتوجہ دی جائے گی: جرمن ماہر

زرعی شعبے کی ترقی کیلئے دیہی ترقی پرتوجہ دی جائے گی: جرمن ماہر

  



فیصل آباد(آن لائن) جرمن یونیورسٹی کا سل کے سائنسدان کرسٹوف شیرر کہا ہے کہ آئندہ چار سالوں کے دوران زرعی شعبے میں ویلیو چین اور غیر رسمی اقتصادیات کے ساتھ ساتھ دیہی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پی ایچ ڈی کے سطح پر تحقیقی عمل مختلف ملکوں میں بروئے کار لا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے پر توجہ دی جائے گی ۔دنیا میں پائیدار ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک کو مل کر کاوشیں بروئے کار لانا ہونگی تا کہ جدید تحقیق کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جا سکیں۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں انٹر نیشنل سینٹر برائے ڈویلپمنٹ اینڈ ڈیسنٹ ورک (ICDD) کے زیر اہتمام آٹھ روزہ بین الاقوامی ورکشاپ برائے تحقیق کے تعارفی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا  ۔انہوں نے کہا کہ آئی سی ڈی ڈی بین الاقوامی سطح پر مختلف برآعظموں ایشیا ء، افریقہ، لاطینی امریکہ اور یورپ کے آٹھ ممالک کی یونیورسٹیوں کے تعاون سے مختلف جہتوں میں غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے لیے ہیومن رسورس کی تیاری پر توجہ دے رہا ہے تا کہ آنے والی نسلوں کو افلاس کے خطرات سے بچانے کے لیے پیش بندی کی جا سکے ۔جرمن سائنسدان اینڈریاس برکٹ نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آئی سی ڈی ڈی نیٹ ورک نے یونیورسٹی آف کیپکوسٹ گھانا، یونیورسٹی ایسٹاڈلے برازیل ،ایجرٹن یونیورسٹی کینیا ،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پاکستان، یونیورسٹی آف کاسل جرمنی یونیورسٹی آف یوکیٹن میکسیکو ، ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز بھارت ، یونیورسٹی آف وٹ واٹر سینڈ جنوبی آفریقہ اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) شامل ہیں۔تقریب سے پرنسپل آفیسر امور طلباء پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس ، ماہر سماجیات و عمرانیات ڈاکٹر اظہار احمد خاں و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین نے اپنے تحقیقی کام کے بارے میں تعارفی خاکہ بھی پیش کیا۔بین الاقوامی ورکشاپ کا باقاعدہ افتتاح جمعرات 16اپریل کو ہوگا۔

مزید : کامرس


loading...