تعلیم اور تہذیب

تعلیم اور تہذیب
 تعلیم اور تہذیب

  



 ایک معاصر کی اطلاع کے مطابق حکومت نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خبر میں بتایا گیا ہے کہ جو وائس چانسلر سفارش ، سیاسی پریشر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے انہیں بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔اس خبر میں امید کی ایک کرن تو تلاش کی جاسکتی ہے ،مگر اس خبر کو ایک اعتراف نامہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ ماضی میں اعلی تعلیمی اداروں کے سربراہان کے تقرر کے سلسلے میں کیا ہوتارہا ہے ۔اگر کسی بڑے ادارے کا سربراہ سیاسی بلیک میلنگ ، سفارش یا چور راستے سے آئے گا تو وہ اس ادارے کی تعلیم کے ساتھ کیا کرے گا۔ اس قسم کے نظارے اکثر اداروں میں دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ سلطان غیاث الدین بلبن نے کہا تھا کہ بچوں کو پست ہمت ، پست اخلاق اور بھکاری قسم کے اساتذہ سے دور رکھا جائے۔ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں نہ تو کوئی نماز چھوڑی اور نہ ہی کوئی بھائی۔ اس نے مغلیہ سلطنت کی وسعتوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا تھا۔عالمگیر کے متعلق ممتاز مورخ برنیر نے لکھا تھا کہ جب اس کا استاد اپنے سابق شاگرد سے ملنے کے لئے آیا تو عالمگیر نے اس سے کہا کہ’’ آپ نے مجھے عربی زبان پڑھائی، جس سے شناسائی دس بارہ برس کی محنت کے بغیر نہیں ہوتی اورصرف و نحو اور ایسے فن کی تعلیم دی جو ایک قاضی کے لئے ضروری ہے لیکن آپ نے مجھے انسانی تاریخ سے آگاہ نہیں کیا۔ یہ نہیں بتایا کہ سلطنت کی بنیادیں کیونکر مضبوط ہوتی ہیں اور اس کے عروج و زوال کی داستان کیا ہے ۔ یہ تاریخ تو ایک طرف آپ نے خود ہمارے اسلاف کی تاریخ بھی کہیں نہیں پڑھائی کہ انہوں نے کیونکر فتوحات حاصل کیں اور اور نہ یہ پڑھایا کہ بادشاہی کے کیا آداب ہیں؟ بادشاہ اور رعایا میں کیا تعلقات ہوتے ہیں ؟ اس کے برعکس آپ نے لفظی اور مہمل بحثوں میں میری جوانی برباد کی غرضیکہ زندگی کے حقیقی مسائل پر آپ نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔اگر آپ مجھے ایسا فلسفہ پڑھاتے جو ژولیدگی فکر کا موجب نہ بنتا ،بلکہ یہ درس دیتا کہ انہی باتوں کو قبول کیا جائے جو دلیل و برہان کے ترازو پر پورا اترتی ہیں یا انسانی نفس کو ایسے بلند اخلاق فضائل سے آراستہ کرتے ، جس پر دنیاوی اقدامات اثر انداز نہیں ہوتے۔اگر آپ نے مجھے یہ پڑھایا ہوتا تو آج میں آپ کی ایسی عزت کرتا کہ اسکندر نے بھی ارسطو کی ایسی عزت نہ کی ہوگی۔‘‘ آج بھی جب اعلی تعلیم حاصل کرکے نوجوان میدان عمل میں اترتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے جو تعلیم حاصل کی تھی اس کا خاصا حصہ محض وقت کا ضیاع تھا ،بلکہ بعض اوقات انہیں اپنی تعلیم کا بہت سا حصہ فراموش کرنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔اس کے بعد عملی زندگی میں ان کے لئے کامیابی کے راستے کھلتے ہیں۔برصغیر کے تعلیمی نظام میں انگریز ایک بڑی تبدیلی لے کر آئے۔برطانوی ہندوستان میں ملک کی تعلیمی حالت پر متعدد رپورٹیں لکھی گئیں ۔ڈاکٹررشید احمد جالندھری کے مطابق سب سے پہلے 1792ء میں چارلس گرانٹ نے اہل ہند کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ لکھی اور اسے 1797ء میں کورٹ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پیش کیا۔گرانٹ نے اپنی رپورٹ میں ہندوؤں اور خاص طور پر مسلمانوں کی اخلاقی پستی کا ذکر کرنے کے بعد کہا : ’’ مختصر یہ ہے کہ ہم کو ماننا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے لوگ ایک نہایت ہی بگڑی ہوئی اور ذلیل قوم ہیں اور ان کو اخلاقی فرض کا بہت ہی کم خیال ہے اور حق الامر کی پروا نہ کرنے میں بہت ہی شہ زور ہیں اور اپنے برے اور وحشیانہ جذبات کے محکوم ہیں اور اخلاق کی عام برائی جو سوسائٹی پربرے اثرات چھوڑتی ہے ان کے پورے نمونے ہیں۔۔۔اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے مصیبتوں میں گرفتار ہیں۔۔۔میں بے ضرورت یا حقارت کی راہ سے کسی فرد یا افراد کے عیوب کو ظاہر کرنا نہایت برا جانتا ہوں ۔اگرچہ میں نے برائیاں دکھائی ہیں، مگر اس سے میرا مقصد نفرت دلانا نہیں، بلکہ رحم دلانا ہے۔۔۔جو چیز ہمیں اول سکھانی چاہیے اور جو کہ باقی اور چیزوں کے سکھانے کا ذریعہ ہوگی۔ وہ ضروری طور سے انگریزی زبان ہے۔یہی وہ کنجی ہے جو ان پر (اہل ہند) دنیا کے نئے خیالات کا دروازہ کھول دے گی ۔ اور صرف مصلحت ملکی نے اس وقت ان کے ہاتھ میں یہ کنجی دینے سے روکا تھا‘‘۔ انگریزی زبان کی کنجی مسلمانوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ لارڈ میکالے نے کیا تھا۔انہوں نے 2فروری 1835 ء کو انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی سفارش کی جسے حکومت نے تسلیم کرلیا۔لارڈ میکا لے عربی اور سنسکرت زبانوں کے ذخیرہ علم سے بالکل متاثر نہیں تھا۔ اس نے اپنی ایک تقریر میں کہا:’’ میں ذاتی طور پر عربی یا سنسکرت زبان سے واقف نہیں لیکن میں نے ان دونوں زبانوں کی مشہور کتابوں کے تراجم پڑھے ہیں ۔ایسے ہی ان زبانوں کے ماہرین سے بھی علمی بات چیت کی ہے لیکن ان میں سے کسی کو بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مغرب کی کسی بھی لائبریری کی ایک الماری کی قیمت ہندوستان اور عرب کے تمام سرمایہ فکر کے برابر ہے۔‘‘ برصغیر میں انگریزی کی تعلیم تو شروع ہوگئی۔ اگرچہ لارڈ میکالے کی رائے عربی اورسنسکرت کے ذخائر علم کے متعلق درست نہیں تھی ،تاہم انگریزی کے ذریعے بے شمار علوم مقامی لوگوں تک پہنچنے لگے۔لیکن برصغیر میں انگریزی نے آداب کے متعلق ایک بڑا مسئلہ پیدا کیا۔1873ء میں خود پنجاب کے گورنر نے کہا:’’ انگریزی زبان اور انگریزی لٹریچر کو سائنٹفک یا عمدہ سسٹم کے تحت پڑھایا نہیں گیا جس کے نتیجے میں پنجاب میں انگریزی کامیاب نہیں رہی۔ایسے ہی اس نظام تعلیم نے جو سکالرز پیدا کئے وہ مہذب آدمیوں کی تخلیق میں زیادہ کامیاب نہیں رہے۔۔۔۔۔۔چنانچہ اچھے خاندانوں کے بچوں کو سرکاری مدارس میں بھیجنے کا اب تک یہ نتیجہ نکلا ہے کہ وہ گستاخ، خود فریبی کاشکار ،آزاد اور بے ادب بن کر گھر لوٹے ہیں۔‘‘ سرسید احمد خان کا کہناتھا کہ مسلم قوم کی اجتماعی زندگی اور نئے حالات کی سنگینی کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کی اجتماعی اور سماجی اور اقتصادی مشکلات کی ذمہ داری ان کی جہالت اور وقت کے تقاضوں سے ان کی بے اعتنائی پر ہے۔ سرسید نے کہا کہ مسلمان، خاص طور پر کھاتے پیتے گھرانے اپنے بچوں کو پڑھانا عیب گردانتے ہیں اور اپنی جھوٹی روایات کی توہین۔جمال الدین افغانی نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو پورے اعتماد اور وثوق کے ساتھ نئی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور اس فلسفہ کو اختیار کرنا ضروری ہے جو مغربی تعلیم اور ثقافت کے پیچھے کام کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کواپنی روایات کا وفادار بھی رہنا چاہیے۔ برصغیر میں انگریزی تعلیم نے کیا اثرات مرتب کئے؟اس پر بحث کے لئے کئی کتابوں کی ضرورت ہے ،مگر علامہ اقبال نے اپنے ایک مکتوب بنام سید سلیمان ندوی میں کہا تھا’’ گزشتہ چار پانچ سال کے تجربہ نے مجھے بے حد افسردہ کردیا ہے۔مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ انتہائی پست فطرت ہے‘‘۔ پاکستان میں بچے کو کیسی تعلیم دینی چاہیے یہ آج بھی دانشوروں اور والدین کے لئے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ہمارے ہاں ہر خرابی کا ذمہ دار نظام تعلیم کو قرار دیا جاتا رہا ہے اس لئے ہر حکومت نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیوں کا دعوی کرتی رہی ہے، مگریہ تبدیلیاں سیکرٹریٹ سے تعلیمی اداروں تک کا سفر کرنے میں اکثرناکام رہی ہیں۔ ہمارے ایک دوست کی اہلیہ نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر غیرمعمولی توجہ دی تھی۔ان کے دوبچے ڈاکٹر ہیں اور ایک انجینئر۔۔۔ان کا خیال ہے کہ بچوں کو میٹرک اور ایف ایس سی کی تعلیم دینی چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ بچے ایف ایس سی کرنے کے بعد سب کچھ کرسکتے ہیں، جبکہ اے لیول کے بعد جب بچے انجینئرنگ یونیورسٹی یا میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے جاتے ہیں تو ان کے نمبروں کو ظالمانہ طریقے سے کم کیا جاتا ہے۔ان کا خیال تھا کہ اگر بچے نے محض نمائشی تعلیم حاصل کرنی ہو تو اسے او لیول یا اے لیول ضرور کرنا چاہیے وگرنہ دوسری تعلیم کے ذریعے اندرون ملک اور بیرون ملک کی ہر تعلیم کا دروازہ کھل سکتاہے۔ہمارے ایک بزنس مین دوست شکوہ کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اے لیول کرایا تھا، مگر اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے میں ان کے کاروبار کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رہی، وہ اپنی ممی ڈیڈی ٹائپ عادات سے کاروبار کو تباہ کربیٹھے گا۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں اور نظام پر بے پناہ تنقید کی جاسکتی ہے ،مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔اور اس کے سائنسدانوں ، انجینئروں ، اور ڈاکٹروں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتو ں کا لوہا منوایا ہے۔ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھنے والے دنیا کے جدید ترین اداروں میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ،مگر پاکستان میں اہل علم کی انتظامی افسر بننے کی خواہش اور انتظامی افسروں کی اہل دانش کی تذلیل کرنے کی عادت نے اس ملک کے لئے بے شمار مسائل پیدا کئے ہیں۔ہم اپنی تقریروں اور تحریروں میں تعلیم کی ضرورت پر اکثر زور دیتے ہیں ،مگرنجانے کب تعلیم کے اثرات ہمار ے رویوں سے بھی ظاہر ہوں گے!

مزید : کالم


loading...