پاکستان پر ناٹو حملے کا جواز؟

پاکستان پر ناٹو حملے کا جواز؟
 پاکستان پر ناٹو حملے کا جواز؟

  



 پرسوں 14اپریل 2015ء شام کے سوا سات بجے چینل 24پر ایک ٹاک شو کا آخری حصہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ موضوع وہی تھا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی درخواست مان کر اپنی افواج یمن کی پراکسی وار میں بھیجنی چاہئیں یا نہیں۔ یہ موضوع میڈیا پر اتنی بار رگیدا جا چکا ہے کہ اب اس میں جانبین کی طرف سے ڈسکس کرنے والا کوئی نیا پن باقی نہیں رہا، لیکن پھر بھی ہمارے دانشور اپنے موقف کی سپورٹ میں کوئی نہ کوئی ایسی دلیل لاتے ہیں کہ جو بظاہر نئی معلوم ہوتی ہے، لیکن بہ باطن اس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ شرکائے بحث میں فرید پراچہ صاحب اور اوریا مقبول جان صاحب کی تصاویر نمایاں نظر آ رہی تھیں۔ اہل سنت والجماعت کے ایک تیسرے صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ مجاہد بریلوی صاحب اس شو کے اینکر تھے۔ جس وقت میں نے ٹی وی آن کیا، جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں،شام کے سوا سات بج چکے تھے اور سکرین پر اوریا مقبول جان صاحب بڑے زور و شور سے استدلال کررہے تھے کہ پاکستان کو سعودی عرب کی مدد کرنے کے سوال پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔ کیا ہم نے پہلے اپنی افواج غیر ممالک میں نہیں بھیجیں؟۔۔۔ کیا انہوں نے پہلے ان ممالک کی خانہ جنگیوں میں کوئی حصہ نہیں لیا؟۔۔۔ کیا ہم نے جب اردن میں اپنی فوج بھیجی تھی، فلسطین میں بھیجی تھی تو پارلیمنٹ سے کوئی منظوری لی تھی؟۔۔۔ کوئی قرار داد پاس کروائی تھی؟۔۔۔ کیا جب ہمارے فوجی سعودی عرب میں (سکانڈمنٹ پر) جاتے رہے ہیں تو پارلیمنٹ سے پوچھ کر جاتے رہے ہیں؟۔۔۔ کیا دنیا کے دوسرے ممالک میں پاک فوج، جب قیام امن کے نام پر راونہ کی جاتی ہے تو پارلیمان کا اجلاس بلا کر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہم فلاں ملک میں اپنا فلاں بریگیڈ/ بٹالین بھیج رہے ہیں۔ اس کی منظوری یا نامنظوری کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے؟۔۔۔ اگر پہلے درجنوں بار ایسا نہیں کیا گیا تو اب سعودی عرب کی مدد کے لئے اجلاسِ پارلیمان کا کھڑاگ کیوں کھڑا کیا گیا ہے؟۔۔۔ میں اوریامقبول جاں صاحب کا استدلال سن سن کر حیران ہوتا رہا کہ ایک سینئر بیورو کریٹ، دانشور اور صاحبِ فکر و نظر کی طرف سے جو مثالیں دی جا رہی ہیں ان میں اور آج یمن میں پاکستانی افواج اتارنے کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس میں کتنا فرق اور کتنا فاصلہ ہے۔ٹی وی کے بہت سے سامعین اور ناظرین کو چونکہ ماضی میں ایک طویل عرصے تک پاکستان کے بیرونی ممالک سے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں بے خبر رکھا گیا، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کو اصل حقائق سے مطلع کیا جائے تاکہ وہ مسئلے کی تہہ تک پہنچ سکیں۔ پہلے اردن کا ذکر کرتے ہیں۔۔۔ یہ 1970-71ء کی بات ہے۔ پاکستان کا ایک عسکری مشن شاہِ اردن کی درخواست پر وہاں بھیجا گیا تھا۔ تنازعہ یہ تھا کہ اردن کے شاہ حسین (موجودہ شاہ عبداللہ کے والد مرحوم) کو PLO (فلسطین کی تنظیمِ آزادی ) سے سخت خطرات لاحق تھے۔ یاسر عرفات مرحوم PLO کے سربراہ تھے۔ ان کی کرشماتی شخصیت تمام عالمِ اسلام میں مسلم تھی۔ فلسطینیوں کو جب اسرائیل نے فلسطین سے بے دخل کرنے کی کوششیں تیز کر دی تھیں تو وہ لاکھوں کی تعداد میں دریائے اردن کو عبور کرکے اردن میں آ گئے تھے اور وہاں خیمہ زن ہو گئے تھے۔ رفتہ رفتہ فلسطینیوں کا عسکری بازو اتنا طاقتور ہو گیا کہ شاہ حسین کو اپنی سلطنت ڈگمگاتی نظر آنے لگی۔ جنرل گلب پاشا کی تربیت یافتہ اردن کی شاہی افواج کی تاریخ کی تفصیل بیان کرنے کا یہ محل نہیں لیکن اتنا ساری دنیا جانتی تھی کہ عرب دنیا میں اردنی افواج(بالخصوص اس کی آرمرڈ فارمیشنیں) پروفیشنل اعتبار سے نہایت طاقتور تھیں۔ ان کو مزید ٹریننگ دینے کے لئے شاہ حسین نے پاکستان سے درخواست کی اور اس طرح حکومت پاکستان نے (اس وقت جنرل ایوب خان اور بعد میں جنرل یحییٰ خان کا مارشل لائی دور تھا) اردنی ٹینک افواج کی ٹریننگ کے لئے اپنا ایک مشن عمان بھیجا(جو اردن کا دارالحکومت ہے)۔ جب PLO کی طرف سے شاہ حسین کو مزید خطرہ لاحق ہوتا نظر آیا تو اس نے اس ٹریننگ مشن کی تعداد میں اضافے کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی کہ ایک سینئر آرمرڈ کور آفیسر عمان بھیجا جائے۔ قرعہ ء فال بریگیڈیئر ضیاء الحق (بعد میں آرمی چیف اور صدر پاکستان) کے نام نکلا کہ جن کا تعلق آرمرڈ کور سے تھا۔ شاہ حسین نے درخواست کی کہ یاسر عرفات کی PLO کو اردن سے باہر نکال دیا جائے گا۔ لیکن اس وقت تک PLO بھی ایک طاقتور گوریلا عسکری تنظیم بن چکی تھی اور اردنی آرمی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ اس لئے آرمر (ٹینک فورس) کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اردنی آرمی کا 2آرمرڈ ڈویژن فلسطینیوں کے خلاف لانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کی کمانڈ، ذاتی طور پر شاہ حسین کی درخواست پر، بریگیڈیئر ضیاء الحق کو دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء نے ٹینکوں کی یلغار کرکے ہزاروں عسکریت پسند فلسطینیوں کو اردن سے نکال دیا اور ان کو لبنان میں جا کر پناہ لینا پڑی۔ اس آپریشن میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 10ہزار سے لے کر 25ہزار فلسطینی مارے گئے۔۔۔ اس آپریشن کو ’’بلیک ستمبر‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ 15 ستمبر1970ء سے لے کر جولائی 1971ء تک جاری رہا۔ فلسطینی فدائین اور اردنی فوج کے درمیان گھمسان کارن پڑا اور کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ آخر بریگیڈیئر ضیاء کی زیر کمانڈ، اردن کے 2آرمرڈ ڈویژن نے اس لڑائی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس وقت کے شاہ حسین کا تخت و تاج بچ گیا اور آج کے شاہ عبداللہ پر بھی پاکستان اور پاکستان آرمی کا وہ احسان ایسا ہے کہ جس کو عرب دنیا بڑے احترام سے یاد کرتی ہے۔ قارئین کرام! یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان آرمی، اس وقت کے مشرقی پاکستان کی جنگ میں ٹخنوں ٹخنوں تک پھنسی ہوئی تھی۔ اردن میں جو ٹینک ڈویژن استعمال ہوا وہ اردنی فوج کا تھا، پاکستانی فوج کا نہیں۔ پاکستان کا صرف تربیتی عملہ (Training Personnel) تھا جو 1967ء سے بھی قبل اردنی فوج کو ٹریننگ دے رہا تھا اور اردن ہی پر کیا منحصر آج بھی سعودی عرب میں تبوک اور دوسرے سعودی شہروں میں پاک فوج کے تربیتی دستے سعودی مسلح افواج کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔۔۔ اوریاصاحب کا یہ سوال کہ ہم نے اردن میں فوج بھیجی تو کس پارلیمنٹ کی منظوری لی گئی، اس لئے بے بنیاد ہے کہ وہاں اردن میں تو پاکستانی فوج کبھی گئی ہی نہ تھی۔۔۔ سعودی عرب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سعودی کہہ رہے ہیں کہ یمن میں لڑنے کے لئے تینوں افواج بھیجو۔ 1970ء میں ا ردن یا فلسطین میں پاکستان نے جو ٹریننگ دستے بھیجے تھے وہ اردن کی اندرونی خانہ جنگی کو فرو کرنے کے لئے بھیجے تھے۔ یمن میں پاکستانی دستے بھیجنا ایک تیسرے ملک میں فوج بھیجنے کے مترادف ہے۔۔۔ یہ فرق ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے۔ پاکستان نے جب بھی اور جہاں بھی ٹریننگ فوج بھیجی وہ صرف اس ملک کے اندر لڑی کہ جس کی قیادت نے یہ ٹریننگ فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ سعودی عرب اگر اپنی حدود میں پاکستان کی ’’اصلی‘‘ فوج استعمال کرنے کی درخواست کرتا تو ہم ہزار بار کہہ چکے ہیں کہ ہم فوراً سعودیوں کی کال پر لبیک کہیں گے۔۔۔ دوسری طرف یہ بھی نہ بھولئے کہ پاکستان نے بھارت سے دو بڑی جنگیں لڑیں (1965ء اور 1971ء میں) ۔۔۔ کیا ان جنگوں میں سعودی عرب یا کسی اور اسلامی ملک کی کوئی فوج پاکستان کی مدد کو آئی؟۔۔۔ اگر پاکستان نے درخواست نہیں کی تھی تو کیا پھر بھی یکجہتی کے اظہار کے طور پر ہی سہی کسی برادر اسلامی ملک نے اپنی گراؤنڈ، ائریا نیول فورسز کو بھیجنے کی کوئی پیشکش ہمیں کی تھی؟  کیا اوریا جان صاحب کو معلوم نہیں کہ سکانڈمنٹ پر فوجی دستے یا فوجی افراد بھیجنے اور موجودہ سعودی مطالبے میں کیا فرق ہے؟۔۔۔ اردن نے اسرائیل کے خلاف 1967ء اور 1973ء میں دو جنگیں لڑی تھیں ۔کیا شاہ حسین نے ان جنگوں میں پاک آرمی کے بوٹ (Boots)طلب کئے تھے؟ جہاں تک پارلیمنٹ کی طرف سے قرارداد کی منظوری یا نا منظوری کا تعلق ہے تو 1967ء میں اردن میں ٹریننگ دستے بھیجنے یا 1970ء میں ٹریننگ مشن کو اردن میں اپ گریڈ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی اس لئے ضرورت نہیں تھی کہ ان وقتوں میں پاکستان میں مارشل لاء تھا اور جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان خود پارلیمنٹ تھے۔ دوسرے اس وقت آزاد اور خود مختار میڈیا کہاں تھا؟ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹی وی عوام کی آواز نہیں، حکمرانوں کی آواز تھے۔ تیسرے پاکستان کے سوادِ اعظم میں آج جو بین الاقوامی (اور کسی حد تک عسکری) موضوعات کا شعور پیدا اور بیدار ہو چکا ہے، وہ پاکستانی پبلک کا ایک فطری اور ارتقائی عمل ہے۔ لوگ اپنے پاکستان کی محدودات اور مقدورات کو بڑی حد تک سمجھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی حالیہ جنگوں اور بالخصوص افغانستان کی 1980ء اور 2000ء کے عشروں کی جنگوں نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ان کو پتہ لگ چکا ہے کہ ہزاروں پاکستانی جانوں کی ہلاکت اور اربوں ڈالر کی پاکستانی املاک کی بربادی کے لئے ہتھیار کہاں سے آئے اور فنڈنگ کہاں سے کی گئی؟ پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ کس طرح بھڑکی اور کس نے بھڑکائی؟ پاکستانی سیاستدانوں، جرنیلوں، میڈیا والوں اور دوسرے درجنوں طبقاتِ آبادی کے مفادات کے منابع کہاں سے پھوٹتے ہیں، کہاں بہتے ہیں اور کن سمندروں میں جا گرتے ہیں؟ایک اور اہم تر موضوع جو یمن میں فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کے سوال سے جُڑا ہوا ہے وہ بڑا ہولناک ہے اور اس پر میڈیا میں زیادہ تفصیل سے بحث و مباحثے نہیں ہو رہے۔ موضوع یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ کا اصل ہدف عراق، شام، لیبیا اور یمن نہیں، بلکہ نیو کلیئر پاکستان ہے۔ اگر پاکستان کے پاس 1980-90ء میں نیوکلیئر وار ہیڈز آ ہی گئے تھے تو وہ اس وقت تک بے فائدہ تھے کہ جب تک ان کے لئے ڈلیوری سسٹم نہ تیار کئے جاتے۔ اگر آج پاکستان کے پاس شاہین سوم (2650 کلومیٹر کی رینج والے) اور دوسرے کروز Nuclear Capableمیزائل نہ ہوتے تو بھارت اپنے سرجیکل سٹرائک اور کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرینوں پر ضرور عمل پیرا ہوتا( یا کروایا جاتا)۔۔۔ امریکہ اور ناٹو کا افغانستان میں آنا اور ایک عشرے تک ہمارے نیو کلیئر ترکش کو نہایت قریب سے ’’سونگھنا‘‘ اور سونگھ کر دم دبا کر واپس چلے جانا کس حقیقت کا غماز ہے؟ اب مغربی دنیا کا آخری حربہ یہ ہے کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان کے ساتھ بھی عراق، لیبیا اور افغانستان جیسا سلوک کیا جائے۔ اسی حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئے پاکستانی افواج کو یمن بلایا جا رہا ہے، تاکہ کل کلاں ناٹو افواج کو آواز دی جا سکے کہ اگر پاکستان کسی تیسرے ملک میں اپنی افواج بھیج سکتا ہے تو پاکستان میں کسی تیسرے ملک کی افواج کیوں نہیں بھیجی جا سکتیں؟  کھول آنکھ، زمیں دیکھ فلک دیکھ، فضا دیکھ ’’مغرب‘‘سے ابھرتے ہوئے ’’فتنے‘‘ کو ذرا دیکھ

مزید : کالم


loading...