سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت؟

سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت؟
 سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت؟

  



 ہندو مؤرخ اور سیاسی مفکر چانکیہ کی سیاست ہمیشہ سے ہندو آبادی کی رہنما رہی ہے۔ اس سیاست کے مطابق طاقت ور کے سامنے جھک جانا اور اپنے سے کمزور کو دبا کر ظلم و ستم کا نشانہ بنانا کامیاب سیاستدانوں کی صفت ہے۔ میکا ولی کی مغربی سیاسی سوچ بھی یہی تھی کہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہر شیطانی حربہ جائز اور حلال ہے۔ اقتدار مطلوب ہے باقی سب چیزیں غیر اہم ہیں۔ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، چانکیہ اور میکیاولی کی اسی سیاسی سوچ کا نمائندہ ہے۔ اس نے ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کے منصب سے لے کر بھارت کے وزیراعظم کی کرسی سنبھالنے تک ہمیشہ یہی وطیرہ اختیار کیے رکھا ہے۔ اس وقت بھارتی وزیراعظم مودی یورپی ممالک کے سرکاری دورے پر ہے۔ فرانس کے دورے میں اس نے اپنی پرانی خواہش کا اظہار کیا ہے یعنی بھارت کا حق ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا مستقل ممبر ہو اور اسے دیگر پانچ ممالک کی طرح ویٹو کا حق بھی حاصل ہو۔ پیرس سے اے این این کی طرف سے آن لائن جاری کردہ خبر 13اپریل کے اخبارات میں چھپی ہے۔ اس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لئے بھیک نہیں مانگ رہا، بلکہ یہ اس کا حق ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے فرانس کے دورے کے دوران پیرس میں بھارتی شہریوں سے خطاب کیا۔ انھوں نے عالمی امن کے لئے بھارتی حکومت کے اقدامات اور شراکت داری کو بھی سراہا۔ [اپنے منہ میاں مٹھو، بھیڑیا جب چاہے بھیڑ کی کھال اوڑھ لے۔]بھارتی وزیراعظم پیرس کا دورہ ختم کرکے آج جرمنی کے لئے روانہ ہوجائیں گے، جبکہ اپنے غیر ملکی دورے کے آخری مرحلے میں 14 اپریل کو کینیڈا پہنچیں گے۔ ایک جانب بھارتی وزیراعظم کا یہ مطالبہ اور بلند بانگ جھوٹے دعوے اور دوسری جانب انڈیا میں جمہوریت کُشی ، اقلیتوں کی تذلیل اور قتل عام لمحۂ فکریہ ہے۔کشمیرکے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پامالی اور بحیثیت مجموعی انسانی حقوق کی بد ترین صورت حال دیکھتے ہوئے مودی کا یہ مطالبہ چوری اور سینہ زوری کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی روز کے اخبارات میں ایک دوسری خبر اے پی پی نے ممبئی سے جاری کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:’’انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بھارتی مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اتوار کو بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت شیوسینا کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پارٹی کے ترجمان اخبار سمنا میں اپنے تحریر کردہ مضمون میں یہ مطالبہ کیا۔ انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’’ملکی سیاست سے ووٹ بنک کی سیاست کے خاتمہ کے لئے مسلمانوں کو دیا گیا ووٹ دینے کا حق واپس لے لیا جائے۔ اگر مسلمان ووٹ کا حق مانگیں تو انھیں پاکستان میں دھکیل دیا جائے۔‘‘ کانگرس کے رہنما سندیپ ڈکشٹ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ غیر آئینی اقدام ہوگا اس کے خلاف سنجیدہ کارروائی کی جانی چاہیے۔ ‘‘ شیو سینا ہو یا راشٹریا سیوک سنگھ، یہ سب مودی کی محبوب تنظیمیں ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں مودی کی طرح بیشتر لوگ ان ہی تنظیموں سے ہو کر آئے ہیں۔ شیو سینا بی این پی کی اتحادی جماعت ہے۔ ایسے لوگوں کو یو این او میں رکنیت کی سیٹ دینا بھی ایک زیادتی ہے کجا یہ کہ سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت دے دی جائے۔ لیکن خیر یو این او میں بیٹھے ہوئے بیشتر ممالک اپنے ملک و قوم کے درمیان مودی کی طرح کے مظالم نہ بھی ڈھائیں جو بھارت میں حکومتوں کا روزمرہ کا معمول ہے تو دیگر ممالک اور ان کی آبادیوں کے ساتھ امریکی قیادت میں وہ بھی ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ بھارت کو سیکورٹی کونسل کی ممبر شپ دلانے میں امریکہ بھی پیش پیش ہے۔ وہ اس خطے میں چین کے مقابلے پر بھارت کو کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کاازلی دشمن ہے۔ اس کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ پاکستان اپنے آپ کو بھارت کا جونیئر ہمسایہ اور فرمانبردار بنا کر پیش کرے۔ اب یہ اسلامی ملکوں اور بالخصوص پاکستان کی فراست کا امتحان ہے کہ وہ سفارتی سطح پر کیا کارکردگی پیش کرتے ہیں۔ اگر بھارت اپنے ان عزائم میں کامیاب ہوگیا تو پاکستان کے لئے اپنی بقاء کی جنگ لڑنا مشکل ہوجائے گا۔ بھارت ایٹمی قوت بنا تو الحمد للہ پاکستان نے بھی یہ منزل سر کرلی۔ اب بھارت اگر سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان کی پوزیشن خاصی کمزور ہوجائے گی۔ اسلامی ممالک کو متفق و متحد ہو کر یو این او کے فلور پر یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ مسلمان ملکوں میں سے کوئی ایک بھی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر کیوں نہیں۔ حالانکہ وہ عالمی آبادی میں پچیس سے تیس فیصد کا تناسب رکھتے ہیں۔ یہ حق مسلمان ملکوں کو ملنا چاہیے کہ وہ اپنے میں سے کسی کو اس منصب کے لئے منتخب کرلیں اور پھر اس سیٹ پر اگر اپنے درمیان تبدیلی کرنا چاہیں تو اکثریت کے ساتھ ان کو اس کا حق حاصل ہو۔ پاکستان نے اب تک کشمیر کا کیس سنجیدگی سے نہیں لڑا۔ عالمی سطح پر رائے عامہ بالکل اندھیرے میں ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ بھارت نہ صرف یو این او کی قراردادوں کے برعکس کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہے بلکہ وہ کشمیر کی قومیتی و مذہبی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازشیں بھی کر رہا ہے۔ بھارت کا یہ عمل بھی ویسا ہی ہے، جس طرح ناجائز طور پر وجود میں آنے والی صہیونی ریاست اسرائیل نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرکے وہاں یہودی بستیاں آباد کر رہی ہے۔ اسی طرح بھارت بھی کشمیر میں ہندو پنڈتوں کے نام پر مسلمانوں کے علاقوں میں ہندو آبادیاں اور بستیاں بسانے میں لگا ہوا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسا ملک کس منہ سے سلامتی کونسل کی رکنیت کا دعویدار ہے۔ بھارتی بنیا تمام اقلیتوں کے خلاف درندگی کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے۔ مودی کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لئے بھاگ دوڑ کو اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کہ بھارت کی دوسری بڑی اقلیت، سکھ برادری کے کیا خیالات و تحفظات ہیں۔’’حسن ابدال (آن لائن) سکھوں کی خالصہ تحریک کے بانی رہنما سردار من موہن سنگھ خالصہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے 200 فیصد بھارت کا ہاتھ ہے مودی کا بھارت کا وزیر اعظم بننا ایشیا کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ مودی سرکار کا نعرہ صرف ’ہندو کا ہندوستان‘ ہے جس کے تحت بھارتی سرکار مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنا رہی ہے۔ گرونانک کی تعلیمات برہمن ازم کے خلاف ہیں۔ سکھ قوم کی خالصہ تحریک ظلم اور جبر کے خلاف ہے۔ ہماری لڑائی ہتھیار کی نہیں بلکہ ڈیموکریٹک ہے، ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے میلہ بیساکھی کے موقع پر گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔‘‘ خالصہ جی کا یہ بیان بت پرست مودی کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ! لیکن کیا کیجیے بقول غالب ’’شرم تم کو مگر نہیں آتی ‘‘

مزید : کالم