اخوت یونیورسٹی!

اخوت یونیورسٹی!

  



 اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرمایہ کاری کے میدان میں کامیابی کے بعد اب تعلیمی میدان میں بھی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے اور یونیورسٹی بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو نفع نہ نقصان کی بنیاد پر تعلیم پھیلائے گی، اس مقصد کے لئے فیصل آباد میں25ایکڑ رقبے پر یہ یونیورسٹی بنے گی۔ یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے ڈاکٹر امجد ثاقب نے ہمت کی اور ان کا ساتھ دینے والے بھی میدانِ عمل میں آ گئے ہیں، چنانچہ یقینِ کامل ہے کہ ثابت قدم ڈاکٹر امجد ثاقب یہ سنگ میل بھی عبور کر لیں گے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں کہا گیاکہ یونیورسٹی کی تعمیر میں لگنے والی ایک اینٹ ایک ہزار روپے کی ہے اور مخیر حضرات کو ایک ایک اینٹ تو اپنے نام سے نصب کر ہی دینی چاہئے۔اخوت ایک ایسی تنظیم ہے، جس نے بہت بڑا انقلاب برپا کیا اور بیروزگاروں اور بے آسرا لوگوں کو خود روزی کمانے کے قابل کیا، معمولی سرمائے سے شروع کی جانے والی سکیم کروڑوں اربوں پر پھیل چکی اور جو قرضے دیئے جاتے ہیں وہ بلا سود ہوتے ہیں اور اقساط میں واپس لئے جاتے ہیں، ان کی واپسی کی شرح95فیصد سے بھی زیادہ ہے۔اب اِسی اخوت کے تحت یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے کام شروع کیاگیا اس میں بھی بڑی کامیابی ملی ہے اور اِن شا اللہ یہ منصوبہ بھی بروقت تکمیل پا جائے گا اور یہ تعلیمی میدان میں ایک سنگِ میل ہو گا۔ اس یونیورسٹی سے وہ طالب علم مستفید ہوں گے جو یونیورسٹی لیول کی تعلیم کے اہل تو ہیں،مگر وہ خود یا ان کے والدین اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مزید : اداریہ


loading...