سلامتی کونسل کی حوثیو ں کے خلاف قرارداد

سلامتی کونسل کی حوثیو ں کے خلاف قرارداد

  



 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کر دیں اور صنعا سمیت دیگر زیرقبضہ علاقوں سے نکل جائیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ یمنی صدر منصور ہادی کے خلاف باغیوں کی مسلح جدو جہد کو ختم کیا جائے اور تمام گروپ تشدد ختم کر کے امن مذاکرات کا حصہ بنیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کے مطابق حوثی رہنما سابق صدر علی عبداﷲ صالح، ان کے بیٹے اور سابق ملٹری کمانڈر احمد علی صالح کو ہتھیار فراہم نہیں کئے جائیں گے۔واضح رہے کہ حوثی قبائل کے دو رہنما عبداﷲ یحییٰ الحکیم اور عبداﷲ اخلاق الحوثی کے ساتھ سابق صدر علی عبداللہ صالح کو سلامتی کونسل نے گزشتہ سال نومبر میں ہی ’’بلیک لسٹ‘‘ کر دیا تھا، ان کے اثاثے منجمد کر کے ان کے سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سلامتی کونسل میں یہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، 14ووٹ اس کی حمایت میں ڈالے گئے، جبکہ روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔روس کا کہنا تھا کہ قرارداد تیار کرنے والے اردن اور دیگر خلیجی ممالک نے اس کی تجاویز کو شامل نہیں کیا۔ خلیجی ممالک اور روس کے درمیان ایک ہفتے تک بندکمرے میں مذاکرات جاری رہے، اس کے باوجود خلیجی ممالک نے سلامتی کونسل میں روس کی جانب سے مکمل طور پر اسلحہ کی فراہمی روکنے کی تجویز کونہیں مانا۔ روس کا موقف تھا کہ تمام فریقین پر پابندی لگائی جائے اور مذاکرات شروع کئے جائیں، لیکن اردن نے روس کی طرف سے فضائی حملے روکنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر رد کر دیا،باقی تمام عرب ممالک نے بھی اردن کے ساتھ اتفاق کیا اور روس کی تجاویز کی مخالفت کی۔ان کا موقف تھا کہ ایسا کرنا حوثیوں کو دوبارہ منظم کرنے کے مترادف ہو گا،لیکن تمام ممالک اس بات پر متفق ہو گئے کہ سیکرٹری جنرل بان کی مون بات چیت کے ذریعے امداد کی فراہمی اور غیر ملکیوں کے انخلاء کا معاملہ طے کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایران نے بھی یمن میں قیام امن کے لئے چار نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جومجوزہ پلان میڈرڈ میں پیش کیا اس میں تجاویز دی گئیں کہ باہمی مذاکرات کے بعد یمن میں حکومت تشکیل دی جائے اور یمن کے مستقبل کے فیصلے کا اختیاراس کے عوام کو دیا جائے، جبکہ یمن میں جنگ بندی اور فضائی و زمینی آپریشن بند کیا جائے اور جنگ بندی کو غیرملکی طاقتیں مانیٹر کریں ۔اس کے علاوہ متاثرین کی مدد کے لئے امداد بھجوائی جائے اور وہاں متحارب تمام فریقین کے درمیان مذاکرات شروع کئے جائیں۔ ایران کی تجاویز ایک طرف، سلامتی کونسل کی قرارداد کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی حوثی باغیوں کے سربراہ پر سفری اور معاشی پابندیاں عائد کر دیں۔اقوام متحدہ میں خاتون امریکی نمائندہ سمانتھا یاور نے کہا کہ ان کا ملک قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہے، کیونکہ قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل ان کے خلاف کارروائی کرے گی، جو مصالحت کی کوششوں کومسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ امریکہ نے مطالبہ بھی کیا کہ ایران بھی سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کرے واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا الزام ہے کہ ایران حوثیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عدن سے دو ایرانی فوجی افسران کو بھی پکڑا جو باغیوں کی سرپرستی کر رہے تھے۔امریکہ بھی اس معاملے میں سعودی عرب کے ہم قدم ہے کہ ایران حوثیوں کی پشت پر ہے اور یمن کی موجودہ صور ت حال کا ذمہ دار ہے، جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔حوثیوں کی بغاوت کی یہ داستان کوئی نئی نہیں ہے، انہوں نے یمن میں 2004ء میں حکومت کے خلاف شورش کا آغاز کیا، مذاکرات اور معاہدے ہوتے رہے لیکن کسی کا پاس نہیں رکھا گیا، 2009 ء میں یہ بغاوت زور پکڑ گئی اور اس کے اثرات سعودی عرب تک بھی پہنچنے لگے۔حوثیو ں نے 2012ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔انتخابات کے ذریعے منصور ہادی بر سر اقتدار آتو گئے، لیکن انہیں نہ صرف استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا بلکہ گھر میں بھی قید کر دیا گیا۔ حوثیوں نے پارلیمنٹ پر بھی قبضہ جما لیا اور ملک چلانے کے لئے ’ریولوشنری کمیٹی‘ بنا دی۔ایک ماہ بعد منصور ہادی اپنے گھر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور عدن پہنچ گئے، وہاں سے ٹیلی ویژن خطاب کے ذریعے انہوں نے حوثیوں کے قبضے کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہی آئینی صدر ہیں،لیکن حوثیوں نے اس بات کو رد کر دیا اور منصورہادی سعودی عرب چلے گئے ،جس دن وہ وہاں پہنچے اسی دن، یعنی 25 مارچ کو اتحادی فوج نے سعودی عرب کی سربراہی میںیمن میں فضائی حملے شروع کر دیے ،جو اب بھی جاری ہیں۔ اس ضمن میں سیکیورٹی کونسل کی یہ قرارداد منظور ہونا اچھی بات ہے ، اب حوثی باقاعدہ طور پر باغی قرار دے دئیے گئے ہیں اور ان کی مکمل سرکوبی کی جانی چاہئے۔ان حالات میں ایران پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اگر وہ اس بات کا دعوے دار ہے کہ حوثیوں کی کوئی مدد نہیں کر رہا تو جنگ بندی میں موثر کردار ادا کرکے یہ بات ثابت بھی کرے کیونکہ جارحیت کو فروغ دینا ہر حال میں فساد ہی برپا کرتا ہے۔مسلم اُمہ پہلے ہی کافی مشکلات کا شکار ہے ، یک جان اور یک آواز ہونے کے بجائے وہ آپس میں ہی لڑنے میں مصروف ہے۔ لیبیا میں بھی اس وقت دو حکومتیں قائم ہیں اور خانہ جنگی جاری ہے، شام بھی انہی حالات سے دوچار ہے۔بندوق کے زور پر اپنی بات منوانا کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی اقتدا ر کا خواہش مند ہے تو آئینی طریقے سے حکومت سنبھالے۔ یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ زور زبردستی سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے اورخانہ جنگی کو فروغ دینے سے معاشرے میں صرف بگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے اور اگر کوئی معاشرہ ایک بار قابو سے باہر ہو جائے تو پھرہولناک تباہی یقینی ہو جاتی ہے۔

مزید : اداریہ