کاروبار کی بندش: تاجروں سے مذاکرات کر لیں!

کاروبار کی بندش: تاجروں سے مذاکرات کر لیں!

  



 تاجر تنظیموں کی طرف سے رات آٹھ بجے کاروبار بند کرنے سے انکار تعجب کا باعث نہیں، وزیراعظم کے فیصلے پر انہی سطور میں گزارش کی گئی تھی کہ یہ فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہئے تھا کہ تاجر اسے قبول نہیں کریں گے اور ایسا ہی ہوا ہے اور اب حکومت نے مذاکرات شروع کرنے فیصلہ کیا جس میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ دکانیں9بجے بند کر لی جائیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ مسلم لیگ(ن) ہی نے پنجاب میں پہلے بھی یہ کوشش کی اور تاجروں کو قائل کرنے کے لئے پاپڑ بیلے، لیکن کامیابی نہ ہوئی،کیونکہ پاکستان میں مختلف کلچر رائج ہو چکا جسے بدلنے کے لئے مسائل پیش آ رہے ہیں۔لوڈشیڈنگ کا مسئلہ زیادہ شدید ہوتا جا رہا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، پنکھے چلنے لگے اور اکثر صاحب حیثیت حضرات نے ایئر کنڈیشنر چلانا بھی شروع کر دیئے ہیں۔ دوسری طرف ڈیموں سے پانی کا اخراج ارسا کی تجویز کے مطابق ہوتا ہے جس کے مطابق موجودہ وقت میں فصلوں کو پانی کی ضرورت نہیں کہ گندم پک چکی اور اس کی کٹائی شروع ہو گئی، اس لئے ڈیموں کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا رہا ہے اور پانی اِسی تناسب سے خارج کیا جاتا ہے۔ یوں پن بجلی کی پیداوار کم ہوتی ہے۔ یہ معاملہ معمول اور ہر سیزن کا ہے جس سے بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والوں کے علاوہ ارسا والے اور دوسرے متعلقین بھی واقف ہیں اور حکومت بھی غافل نہیں، چنانچہ یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے وقت کے لئے متبادل انتظام کیا جائے،جو تھرمل پیداوار ہے جس میں اضافہ کر کے ضرورت پوری کی جا سکتی ہے، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہو رہا۔ اِسی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر بجلی کی بچت کے منصوبے پر غور کیا گیا اور شادی ہالوں کے علاوہ ریستورانوں اور مارکیٹوں کے بند کرنے کے اوقات کار کا تعین ہوا۔ طے ہوا کہ مارکیٹیں رات آٹھ بجے، شادی ہال رات10بجے اور ریستوران رات11بجے بند ہوں۔ یہ فیصلہ کوئی عجب اور غلط نہیں۔ دُنیا بھر میں مارکیٹیں سورج غروب ہونے ساتھ بند ہوتی ہیں، لیکن پاکستان میں اُلٹا رواج ہو چکا، یہاں صبح تاخیر سے کاروبار شروع ہوتا ہے اور رات گئے تک جاری رہتا ہے، حالانکہ ماضی کی یہ روایت ہے کہ کاروبار جلد شروع کر کے جلد بند کیا جاتا تھا۔اِسی روشنی میں یہ فیصلہ ہوا تاہم تاجروں نے اسے مسترد کر یا ہے کہ یہاں کا کلچر تبدیل ہو چکا، پہلے ہی تاجر حضرات سے مشاورت کر کے وقت کا تعین کر لیا جاتا تو یہ نوبت نہ آتی۔ بہرحال اب حکومت کو مذاکرات کرنا ہیں تو پھر باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کرا لیا جائے۔

مزید : اداریہ