الیکشن کو جنگ نہ بنائیں

الیکشن کو جنگ نہ بنائیں
 الیکشن کو جنگ نہ بنائیں

  



 اسلام آباد میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا،جس کا مقصد یمن کی صورت حال میں پاکستان کے کردار سے متعلق تھا۔وزیردفاع خواجہ آصف کے بقول ہمارے دوست اور مہربان ملک سعودی عرب نے پاکستان سے فضائی، بحری اور بری مدد مانگی ہے، اس پر بحث ہوئی، اصولاً یہ ایک ہی دن میں ختم ہو جانا چاہیے تھا،لیکن یہ تین دن سے بھی آگے بڑھ گیا کہ ہر رکن پارلیمنٹ اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ مجموعی طور پر جن خیالات کا اظہار کیا گیا، اس سے حکومت کو تھوڑی پریشانی ہوئی کہ سب نے فوری طور پر فوجی امداد یا فوج بھیجنے کی مخالفت کر دی۔ خورشید شاہ کی طرف سے بند کمرے کے اجلاس کی تجویز آئی، غالباً اس کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور ہو گئی۔  مَیں ایک عام شہری اور پاکستانی کی حیثیت سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ یمن ہی نہیں ، اس سے پہلے عراق، شام اور مصر بھی ہمارا مسئلہ رہے ہیں۔ ہم نے کسی جگہ مداخلت نہیں کی تو اچھا کیا تھا، اب بھی شہریوں کی رائے یہی ہے کہ پاکستان صلح کرا سکتا ہے تو بہتر ورنہ جنگ میں شامل ہونا بہتر نہیں ہے۔حکومت کو اب تک لوگوں کے احساسات کا علم ہوگیا ہو گا، لیکن پاکستان کے شہری اس بات پر ضرور پریشان اور تشویش میں مبتلا ہیں کہ مصائب اور مسائل مسلمان ممالک ہی کو پیش آ رہے ہیں اور ان ملکوں کے حکمران تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیتے اور خود ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔ ان کی نااتفاقی کی وجہ سے آج اسرائیل سر پر چڑھا ہوا ہے۔ غزہ میں جو مظالم ہو رہے ہیں ان کی بازگشت بھی سنائی نہں دے رہی کہ یمن اورشام وغیرہ نے توجہ مبذول کرالی ہے۔ عام پاکستانی تشویش میں مبتلا ہے اور اس کا یقین اور تجویز یہ ہے کہ مسلمان ممالک آپس کی تفرقہ بازی ترک کریں اور اپنے مسائل بات چیت کرکے حل کریں۔اس مقصد کے لئے پاکستان کو قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ میاں نوازشریف نے پیش قدمی کی، ترکی گئے اور اب ایران کے وزیرخارجہ سے بھی بات ہوئی، جو اسلام آباد آئے تھے۔ بہتر یہی ہے کہ ثالث بن کر فریقین کو جنگ بندی پرآمادہ کیا جائے اور پھر ارادہ مسئلہ حل کرنے کا ہوا تو ہو جائے گا۔ اس صورت حال میں تمام شہریوں کو سیاسی لڑائیوں سے بھی تکلیف پہنچی ہے۔ ماضی قریب میں دھرنے اور سخت قسم کی محاذ آرائی نے بہت زیادہ معاشی اور اقتصادی نقصان پہنچایا۔ اب پھر یہ سلسلہ جاری ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی خدا خدا کرکے اسمبلیوں میں آئے۔ ان کا مطالبہ پورا ہوا، جوڈیشل کمیشن بن گیا،جس نے اپنی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، اب ان کو اپنی تمام تر توجہ ادھر دینا چاہیے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ کراچی کے عام سے ضمنی انتخاب کو اہم بنا دیا ہے۔ یہ ان کی کامیابی سہی، لیکن اس سے جو پھڈا ہوا، وہ ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہاں اندرونی استحکام نہیں۔ فوج دہشت گردوں کو مار بھگا رہی ہے اور وہ جواب میں انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔شہروں میں دھماکے کرکے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ یہ دہشت گردی بھی اسلام کا نام لے کر ہو رہی تھی اور اب بھی اسلام ہی کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹھیک کیا حکومت نے کہ واضح اور کھل کر پوری دنیا کو بتا دیا کہ یہ دہشت گردی ہے اور اب بھی صورت حال کے صحیح ادراک کی ضرورت ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب دینی جماعتوں کی وجہ سے عدم اتفاق پایا جا رہا ہے، حالانکہ ان کو جذباتی یا مسلکی نہیں حقیقی تجزیہ کرنا چاہیے۔ ایران نے مغربی دنیا کے ساتھ ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے ایک بڑا بریک تھرو کیا ہے اور معاہدہ ہونے جا رہا ہے، اس سے خطے میں بھی اثر پڑے گا، تاہم ضروری ہے کہ پاکستان کا کردار اہم اور مضبوط ہو، جو اسی صورت میں ممکن ہے جب اندرونی استحکام بھی ہو۔  میرا تعلق کسی جماعت سے نہیں، لیکن پھر بھی کہوں گا کہ عمران خان مقبول لیڈر سہی ، اگر ان کویہ مان ہے تو پھر ان کو سیاست بھی مثبت کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ ہر روز ایک نیا پھڈا لے لیا جائے۔ اب ان کی جماعت کراچی کے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہی ہے۔ یہ الیکشن ہے اور اسے الیکشن ہی رہنا چاہیے، لیکن عمران خان اسے بہت اونچی پچ پر لے گئے ہیں اور ان کا اعلان ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو شکست فاش دیں گے۔ سیاسی لیڈر اور سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے ناطے ان کا یہ بھی حق ہے ،لیکن ایسے اقدامات نہ کریں، جس سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہو کہ پہلے ہی عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں مندا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ٹھنڈی سیاست کریں، اگر الیکشن ہے تو اسے الیکشن کے طور پر لڑیں ،یہ نہیں کہ ضمنی انتخاب کے بدلے کراچی کو محاذ جنگ بنا دیا جائے، بہتر یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف عزت اور بردباری کا رشتہ رکھیں اور اپنے لئے جدوجہد جاری رکھیں۔ ان حالات نے کاروبار کو بُری طرح متاثر کیا ہے جو صرف امن سے ٹھیک ہو سکتا ہے۔

مزید : کالم


loading...