دارارقم کی بدولت ایک لاکھ ر سے زائد طلبا ء تعلیم سے آراستہ ہیں، اشتیاق احمد

دارارقم کی بدولت ایک لاکھ ر سے زائد طلبا ء تعلیم سے آراستہ ہیں، اشتیاق احمد

  



 لاہور(انٹرویو ذکاء اللہ ملک،تصاویر ندیم احمد) دارارقم دینی و دنیاوی تعلیم کی بدولت ملک میں شرع تعلیم میں بہتری کا موجب ہے ، اس ادارے کے تحت پورے پاکستان میں قائم 470 سے زائد تعلیمی ادارے ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ دارارقم سکولز کا ایک برانچ سے شروع ہونے والا سفر آج پورے پاکستان میں وسیع نیٹ ورک کی صورت میں پھیل چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہر تعلیم اور ڈائریکٹر دارارقم سکولز ڈاکٹر اشتیاق احمد گوندل نے روزنامہ پاکستان کو انٹرویو کے دوران کیا۔انہوں کا کہنا ہے کہ دارارقم سکولز پاکستان کی تاریخ میں پہلا نیٹ ورک ہے جس نے ’’خوبصورت دنیا بہترین آخرت ‘‘ کا نعرہ نا صرف بلند کیا بلکہ اسے عملی صورت میں کر دکھایا۔معاملہ چاہے نصابی سرگرمیوں کا ہو یا غیر نصابی سرگرمیوں کا دارارقم سکولز کے طلباء ہمیشہ آگے رہے ہیں۔ چیف منسٹر پنجاب تقریری مقابلہ جات،آرٹ کمپیٹیشن اورکھیلوں کے مقابلوں میں دارارقم سکولز کی نمایاں پوزیشنز اس کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔دارارقم سکولز نے پہلی مرتبہ پاکستان میں ٹی سی ڈی یونی ٹوٹل چائلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کروایا اس پروگرام کے تحت طلباء طالبات کی کردار سازی سائنٹیفک بنیادوں پر کرنے کا اہتمام کیا گیا۔  ۔ ۔نجی تعلیمی اداروں کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بچے کو میٹرک تک زندگی کے بنیادی اصول اور آگے بڑھنے کے گُر سیکھ لینے چاہئیں لیکن بڑے تعلیمی اداروں کا یہ المیہ ہے کہ بچوں کو اچھی تعلیم تو دیتے ہیں لیکن سکلز نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا وقت ضائع کرکے اور عملاً خالی ہاتھ نکلتے ہیں ۔ نہ ہی وہ اپنی اخلاقی اقدار سے آگاہ ہوپاتے ہیں ۔جو کہ سسٹم کی ناکامی ہے ۔ اس کا تعلق ہماری تعلیمی پالیسی سے بھی ہے اور ہم پالیسی سازی کے حوالے سے بہت ناکام ہیں ۔ جو چند لوگ اس پر کام کررہے ہیں ان کا اپنا ایجنڈا ہے ۔ نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کے حوالے سے انکا کہنا ہے کہ کسی بھی نظام کو موثر بنانے کے لئے پالیسی کو مستقل بنیادوں پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں 10 تعلیمی پالیسیاں آچکی ہیں اور تقریباً ہر 5 سال بعد ان میں ترامیم بھی کی جاتی ہیں لیکن کوئی ایک پالیسی بھی ابھی تک نافذ نہیں ہوپائی ہے ۔ یہ ریاست کی ناکامی ہے جو اپنا کردار ادا نہیں کررہی ۔ ریاست کو سسٹم Regulate کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔ نیز نجی اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ تعلیم کو دکانداری نہ بنائیں اور زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی بجائے تعلیمی و اخلاقی اقدار کی شرح کو بڑھائیں تاکہ ایک محب وطن نسل تیار ہوسکے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کو تعلیمی ، اخلاقی اور تربیتی انحطاط سے نکالنے کیلئے ابتدائی تربیت کا بیڑ ہ حکومت کو اٹھانا چاہئے ۔ جو میٹرک تک کے بچوں کو سکلز(Skills) سکھائے اور انہیں ہنرمند بنانے کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں کا بھی محافظ بنائے ۔ تربیت کا تعلق چونکہ وسائل سے بڑھ کر وژن کے ساتھ ہوتا ہے ، اس لیے ہم بچوں کی نہ صرف تعمیر سیرت ، بلکہ ان کی قرآن فہمی پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ نصاب میں 2 جزئیات اسلام اور پاکستان بنیادی ہونے چاہئیں ۔ ان حوالہ جات کا اسلام پاکستان سے اشتراک مضبوط کرنا ہی اصل کامیابی ہے ۔ نصاب میں یہ دونوں جزو لازم و ملزوم ہیں ۔ دوسری جانب نصاب سے اہم کردار استاد بھی ہے جس کی پیشہ ورانہ تربیت پر ہم خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاہمارے ہاں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ ہم تعلیم کیلئے بجٹ کا حصہ بہت کم رکھتے ہیں ۔ بیرون ممالک میں نہ صرف میٹرک تک تعلیم مفت ہے بلکہ اس ضمن میں تمام وسائل بھی ریاست کی طرف سے مہیا کیے جاتے ہیں ۔دارارقم گروپ کی کامیابی یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک ماڈل سیٹ کرتا ہے اور اس ماڈل کے ذریعے حکومت اور دیگر اداروں کو یہ باور کراتا ہے کہ نیت اگر خالص ہو تو محدود وسائل کے باوجود بہتر سے بہتر کام کیا جاسکتا ہے ۔ زندہ ادارے وہی ہوتے ہیں جو رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود نئے راستے تلاش کرتے ہیں ۔ ان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آگے کی جانب سفر ہی کامیابی ہے ۔ ہم کسی کے ساتھ مقابلہ یا اپنا موازنہ نہیں کرتے ۔ آؤٹ پٹ پر توجہ دیتے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4