بنگلہ دیشی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اسلامی جمعیت طلبہ نے یوم سیاہ منایا

بنگلہ دیشی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اسلامی جمعیت طلبہ نے یوم ...

  



لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے راہنما قمرالزمان شہید کو 1971ء میں پاکستان کی حمایت کرنے کے جرم میں پھانسی دینے اور حکومتی ظلم وبربریت کے خلاف اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے اسلامی جمعیت طلبہ لاہورنے گزشتہ روز سیاہ منایا اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیر اہتمام بھیکے وال چوک میں احتجاجی مظاہرے اور غائیبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا گیا۔مظاہرے کی قیادت ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور سید مستقیم معین نے کی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو دی جانے والی پھانسیاں شیخ حسینہ واجد کی انتقامی کاروائیاں ہیں جن کی ہم پرزورمذمت کرتے ہیں ۔جماعت کے رہنماؤں کو پاکستان سے محبت کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلہ دیش حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بے گناہ لوگوں کو دی گئی سزاؤں کو واپس لے اور نہتے شہریوں پر ظلم وستم بند کرے نیزاقوام متحدہ ،ایمنسٹی انٹرنیشنل ،او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے اور بنگلہ دیش کی حکومت کو پابند بنایا جائے۔ ۔ ۔ اور دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اس سلسلہ کو بند کرے۔ نام نہاد ٹریبونل کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 40سال قبل 1973ء میں بنگلہ دیش کی پہلی حکومت جس کے وزیراعظم خود شیخ مجیب الرحمٰن تھے انکے اور پاکستانی حکومت و فوج کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں طے پایا تھا کہ باہمی رنجشوں کو دور کر کے ایک دوسرے کے خلاف قائم مقدمات واپس لے لئے جائیں جس کے تحت خود شیخ مجیب نے جنگی جرائم کے نام پر قائم کردہ تمام مقدمات کو ختم کر دیا تھا لیکن حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ٹربیونلز کے ذریعے ناجائز مقدمات قائم کر کے سیاسی مخالفین کا عدالتی قتل عام کروانا چاہتی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہیں ۔انہوں نے پاکستانی حکومت اور ہیومن رائٹس کے عالمی اداروں کی بنگلہ دیش کے حالات پر خاموشی پرگہرے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت 73ء کے معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر بنگلہ دیش حکومت سے شدید احتجاج کرے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی امن کے اداروں کی توجہ سیاسی ٹربیونلز کے ذریعے عدالتی قتل عام کی طرف کروائے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...