پاک چین اقتصادی راہداری کسی ملک کیخلاف نہیں ،منصوبے سے خطے کی تقدیر بدل جائیگی احسن اقبال

پاک چین اقتصادی راہداری کسی ملک کیخلاف نہیں ،منصوبے سے خطے کی تقدیر بدل ...

  



 اسلام آباد(اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس سے خطہ بالخصوص جنوبی ایشیا، چین، مشرق وسطیٰ کی ریاستوں میں نئے اقتصادی مواقع کو فروغ ملے گا،بعض سیاسی جماعتیں پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف منفی پراپیگنڈا کر رہی ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، منصوبہ پر عملدرآمد سے پورے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ ’’اے پی پی‘‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری ملک کے معاشی استحکام اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے وژن 2025ء کے حوالہ سے حکومت کے اقتصادی ایجنڈے کا عملی اظہار ہے اور اس پراجیکٹ سے علاقائی روابط میں اضافہ ہوگا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ چین کے صدر ژی جن پنگ کے آئندہ دورہ پاکستان کے دوران 45 ارب ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری پر عمل درآمد کے بعد پاکستان دنیا کی 25 ویں انتہائی طاقتور معیشت بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کا معاشی طور پر 25واں مضبوط ترین ملک بننے کا ہدف رکھا ہے اور معاشی ترقی میں بہتری لاتے ہوئے اسے 4.5 فیصد سے بڑھا کر تقریباً 8 فیصد کر دیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف جامع فوجی آپریشن شروع کیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ چین اپنے مغربی علاقہ میں جامع ترقی کو فروغ دے رہا ہے اور اکنامک کوریڈور سے اسے گوادر اور خنجراب کے ذریعے مختصر تجارتی راستہ فراہم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو پہلے ہی ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی کارکنوں کو جامع تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک خصوصی فورس تشکیل دی جائے۔ انہوں نے اکنامک کوریڈور پراجیکٹ کے خلاف بعض اپوزیشن جماعتوں کے منفی پروپیگنڈہ کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ 45 ارب ڈالر کے منصوبہ میں چین توانائی کے شعبہ میں انڈیپنڈنٹ پاور پراجیکٹ کے لئے 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور 11 ارب ڈالر رعایتی قرضہ ہوگا جسے گوادر کی بندرگاہ، قراقرم ہائی وے، ملتان سکھر موٹر وے سمیت انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے گا، کچھ سیاسی جماعتیں موجودہ حکومت کی مخالفت میں اکنامک کوریڈور پراجیکٹ کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ یہ جماعتیں چین کو کیا تاثر دینا چاہتی ہیں؟ وہ چینی سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے پر عمل درآمد کے لئے دونوں ممالک کے منصوبہ بندی کے ماہرین کی سال بھر کی کوششوں کے دوران ورکنگ گروپ تشکیل دیئے گئے اور گوادر پورٹ توانائی اور موٹر وے پراجیکٹس کا سروے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اکنامک کوریڈور پراجیکٹ کی کامیابی سے دنیا کو ٹھوس پیغام جائے گا اور دیگر ممالک سے بھی سرمایہ کاری کو ترغیب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء، مشرق وسطیٰ اور چین سمیت یہ خطہ تقریباً تین ارب لوگوں پر مشتمل ہے جو مستقبل کی تجارت کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چینی صدر کے دورہ کے دوران سولر اور ونڈ پاور پراجیکٹس کا بھی آغاز ہوگا جس سے توانائی کے بحران کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور پر عمل درآمد کا سال ہوگا اور اس منصوبے پر عمل درآمد کے بعد یہ پراجیکٹ پورے خطہ کی تقدیر سنوارے گا۔ احسن اقبال

مزید : علاقائی


loading...