شہباز شریف سعودی عرب اور خواجہ آصف روس کے دورے پر

شہباز شریف سعودی عرب اور خواجہ آصف روس کے دورے پر
 شہباز شریف سعودی عرب اور خواجہ آصف روس کے دورے پر

  



عالمی سیاسی منظر روز بروز بدل رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر گئے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف روس کے دورہ پر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یمن کے معاملہ پر روس سعودی عرب کے ساتھ نہیں ہے۔ اور روس نے سلامتی کونسل میں یمن کے حوالے سے عرب ممالک کی قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ نہ حق میں ووٹ ڈالا نہ خلاف ۔ لیکن اس کے ساتھ روس نے ایران کو میزائل فروخت کرنے کے معاہدہ کا بھی اعلان کیا ہے۔ اور سب سے بڑی خبر کہ بالآخر چین کے صدر 20 اپریل کو تیس گھنٹے کے مختصر دورے پر پاکستان آرہے ہیں۔ چین نے بھی یمن کی لڑائی میں ابھی تک کھل کر سعودی عرب کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ۔ چینی صدر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خظاب کر یں گے۔ ایران نے بھی یمن میں امن کے لئے اثر و رسوخ استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مطلب ایران حوثی باغیوں کو کسی امن فارمولہ پر راضی کرنے کو تیار نظر آرہا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنر ل راحیل شریف بھی روز بار بار مل رہے ہیں۔ تا کہ بدلتے عالمی منظر نامہ پر نظر رکھی جا سکے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف تین روزہ دورے پر ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ وہ وہاں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب بھی کریں گے۔ کیا یہ روس میں اس نوعیت کی پہلی کانفرنس ہو رہی ہے۔ کیا اس سے قبل روس میں اس قسم کی کوئی کانفرنس منعقد نہیں ہو ئی۔ کیا پہلے کبھی کوئی پاکستانی وزیر دفاع روس گیا ہے۔ اس دورہ کی ٹائمنگ اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ روس اور پاکستان کے تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان تو شروع سے ہی امریکہ کے ساتھ رہا ہے۔ افغان جنگ نے بھی پاکستان اور روس کے درمیان فاصلے وسیع کر دئے۔ اس کے ساتھ روس ہمیشہ بھارت کا دوست رہا ۔ جس جس طرح پاکستان نے افغان جنگ میں مجاہدین کی مدد کی۔ اس اس طرح روس اور بھارت کے درمیان قربت بڑھتی گئی۔ یہ تو جب بھارت نے امریکہ کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ کیا اور امریکہ کو روس پر فوقیت دینا شروع کی تو روس اور پاکستان کے درمیان بند دروازے کھلنا شروع ہو ئے۔ اسی ضمن میں میاں نواز شریف کے دور میں ہی روس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد آیا۔ جس کے بعد یہ خبریں بھی گرم ہوئیں کہ روسی صدر پوٹن بھی پاکستان آئیں گے۔ اور پھر چند ماہ قبل مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی روسی صدر پوٹن کے جلد دورہ اسلام آباد کی نوید سنا دی ۔ اور اب وزیر دفاع خواجہ آصف ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ روس نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب بھیجے۔ اسی لئے یہ سفارتکاری ہو رہی ہے۔ ایران اور روس ایک ہیں۔ اس لئے ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے بعد وزیر دفاع کا دورہ ماسکو کافی معنی خیز ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب میاں شہباز شریف سعودی عرب میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سعودی عرب کیوں گئے ہیں۔یہ کوئی راز کی بات نہیں ۔ سب کو معلوم ہے۔ وہ سعودی عرب کو تسلی دینے گئے ہیں ۔کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ فوج بھی دیں گے۔ بس تھوڑا وقت دے دیں۔ پاکستان سعودی عرب کی دوستی لازوال ہے۔ ہمیں سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ محبت کا احساس ہے۔ پارلیمنٹ کی قرارداد آپ کے حق میں ہے۔ وہ قرارداد کے وہ حصے سعوی حکام کو پڑھ کر سنائیں گے جو ان کے حق میں ہیں۔ قرارداد کے متنازعہ حصوں پر وضاحت کریں گے۔ کہ ان کا پاک سعودی تعلقات پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔لیکن میاں شہباز شریف کو اندازہ ہو گا کہ اب سعودی حکام کو مزید لالی پاپ نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے وہ سعودی حکام کو ایک روڈ میپ دیں گے ۔ جو اگر سعودی حکام نے مان لیا تو پاکستان کے اندر کا سیاسی منظر نامہ فورا بدل جائے گا۔ لیکن اگر سعودی حکام کو پاکستان کے روڈ میپ پر تحفظات ہو ئے یا انہوں نے وقت مانگ لیا تو یہ چکر بازی مزید چند دن چلتی رہے گی۔ چینی صدر کا دورہ پاکستان ۔ پاکستان کے مستقبل کے لئے نہایت اہم ہے۔ ان کے ہمراہ ساٹھ رکنی وفد بھی آرہا ہے۔ یہ سب بڑی بڑی چینی کمپنیوں کے سربراہ ہیں۔ جو پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ چین پاکستان میں چالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ یہ میاں نواز شریف کا واحد ترپ کا پتہ ہے۔ صرف یہی ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی امید ہے۔ جو میاں نواز شریف کی سیاسی بقاء کی ضمانت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اگلے انتخابات سے قبل ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہیں ہو تا تو ان کیلئے انتخاب جیتنا مشکل ہوگا ۔ اسی لئے چینی صدر کے دورہ پاکستان کے درمیان رکاوٹیں حائل بھی تھیں۔ شنید یہی ہے کہ چین بھی پاکستان کے سعودی عرب فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہے۔ اور چین کا موقف ہے کہ پاکستان اندرونی طوپر اتنے مسائل کا شکار ہے کہ ایسے میں فوج بھیجنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے عالمی سیاسی منظر نامہ میں پاکستان کی اس وقت اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ دوست دشمن سب پاکستان سے بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ سب چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کی مرضی کا فیصلہ کرے۔ لیکن کوئی ایک فیصلہ تو کرنا ہو گا۔ معاملات کو زیادہ دیر تک التوامیں نہیں رکھا جا سکتا۔ کیونکہ کوئی فیصلہ نہ کرنا زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اللہ پاکستان کی قیادت کو درست فیصلہ کرنے کی توفیق اور ہمت و حوصلہ دے۔ بس یہی دعا کی جا سکتی ہے۔

مزید : کالم


loading...