پاکستان کا بڑا مسئلہ معاشی اور سیاسی دہشت گردی سے نجات حاصل کرنا ہے ،سراج الحق

پاکستان کا بڑا مسئلہ معاشی اور سیاسی دہشت گردی سے نجات حاصل کرنا ہے ،سراج ...

  



 اسلام آباد(اے این این )امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پر ویز مشرف کے خلاف وکلاء کی جدوجہدکی مثال ماضی میں نہیں ملتی، پاکستان کا بڑا مسئلہ معاشی و سیاسی دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنا ہے،جب نظام صرف امراء اور اشرافیہ کو سہارا دیتا ہو تو کس طرح معاشرہ ترقی کر سکتا ہے،بلوچ ہی مظلوم ،پنجاب ظالم اور پنجاب ہی مظلوم، سندھی ظالم اور سندھی ہی مظلوم ،پٹھان ظالم اور پٹھان ہی مظلوم ہے،پی ٹی آئی کے کراچی میں بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد بار ایسو سی ایشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس مو قع پر نائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم، امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد ، زبیر فاروق خان اسلام آباد بار کے صدر زاہد محمد راجہ اور سیکر ٹری جنرل آصف عرفان بھی موجود تھے۔ سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام آباد بار سے خطاب کرنا میرے لیے عزاز کی بات ہے وکلاء پاکستان میں عدل وانصاف اور جمہوریت کی جدو جہد کی علامت ہیں۔ جماعت اسلامی اور وکلاء میں جمہوریت حقیقی روح کے مطابق مو جود ہے۔ دونوں انتخابات میں میرٹ اور صلاحیت کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ سیاسی کارکن پرجب تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں توصرف بارکا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ وکلاء نے ایوب خان اورضیاء الحق کے خلاف آواز بلندکی اور پر ویز مشرف کے خلاف وکلاء کی جدوجہدکی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ایک طویل جدوجہدکے بعد ڈکٹیٹرکوگھربھیجاگیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کوبنانے والے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی ایک وکیل تھے۔وکلاء کو یہ فریضہ قائد اعظم سے وراثت میں ملا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان 4صوبوں اور قو میتوں کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے اور فلسفے کا نام ہے۔عوام نے اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت اور مشکلات کاسامنا چند وڈیروں اور جاگیر داروں کے لیے نہیں کیا تھا قائداعظم نے اپنے114خطابات میں بارباراعلان کیاکہ ہمارا مقصد صرف زمین کا ٹکڑاحاصل کرنانہیں بلکہ ایک ایسی مملکت بنانا ہے جو اسلامی فلاحی ریاست ہو ار دنیا کے لیے تجربہ گاہ کی حیثیت رکھے۔لیکن قائد اعظم کے بعد ملک پر ان لوگوں نے قبضہ کر لیا جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ میری جیب میں کھو ٹے سکے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف مسلح دہشتگردی نہیں ہے بلکہ معاشی اور سیاسی دہشتگردی بڑے پیمانے پر مو جود ہے جس نے تمام اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ اسی دہشتگردی کی وجہ سے بنگلہ دیشن بنا ۔ہماری 90 ہزار فوج دشمن کی قیدی بنی۔ان معاشی و سیاسی دہشت گردوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں پنجاب،بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا تو نظر آتا ہے لیکن پاکستان اور پاکستانی نظر نہیں آتا۔پاکستان کا بڑا مسئلہ ان دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اس گندے نظام کو سہارا ہم سب نے دیا ہے سب کی کوشش ہے کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ برقرار رہنے جو بھی اس کے خلاف بات کرے اس کو ملک دشمن کہا جاتا ہے مٹھی بھر لوگوں نے پارٹیاں بنائی ہیں چچا کسی پارٹی اور بھتیجا دوسری میں بات کسی اور جماعت اور بیٹا دوسری جماعت میں ہے جس پارٹی کی بھی حکومت ہو یا آمریت ہو یہی مٹھی بھر لوگ بااثر ہوتے ہیں وہی وی وی آئی پی ہوتے ہیں احتساب نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ میں آپ کے پاس عام آدمی کا ایجنڈہ لے کر آیا ہوں ملک کا مسئلہ بے انصافی ہے معاشرے میں ہر جگہ لوگوں کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اتنی ناانصافی کرتا ہے آج ہمارے ہاتھ میں کتاب اور میزان نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر انسان پریشان ہے کیا ہماری ریاست اور جمہوریت غلام نہیں کیا ہماری اسمبلیاں یرغمال نہیں بنی ہوئی ہیں معاشی نظام اور صرف اور صرف امراء اور اشرافیہ کو سہارا دیتا ہے ایسی صورتحال میں کس طرح معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ امیر جماعت کا کہنا تھا کہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس کشتی میں ہم سوار ہیں وہ منزل کی طرف بڑھ رہی ہے یا تباہی کی طرف بلوچستان میں آج بھی بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔نوجوانوں نے پہاڑوں اور غاروں کا رخ کر لیا ہے وہ جنگ پر آمادہ ہیں اب تو لڑکیوں نے بھی بندوق اٹھا لی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن یمن اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کرانا ہی سعودی عرب کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہو گا۔ہمیں مسئلے کا حصہ بننے کی بجائے اس کے حل کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ سراج الحق

مزید : صفحہ آخر


loading...