لین دین کے تنازع پر بااثر افراد کا خاتون پر وحشیانہ تشدد، قتل کی دھمکیاں

لین دین کے تنازع پر بااثر افراد کا خاتون پر وحشیانہ تشدد، قتل کی دھمکیاں
لین دین کے تنازع پر بااثر افراد کا خاتون پر وحشیانہ تشدد، قتل کی دھمکیاں

  



لاہور(کرائم سیل)سیاسی اثرورسوخ کے حامل افرد کا لین دین کے تنازع پر خاتون پر وحشیانہ تشدد ،ناک کی ہڈی توڑ دی ،تھانہ میں درخواست دینے پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے گھر کے سامان پر قبضہ کر لیا۔متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ پولیس کی جانب سے انصاف کی فراہمی کی امید نہ ہونے پر فریاد لیکر روزنامہ "پاکستان" کے دفترآ گئے۔ ملزمان کے تشدد کا نشا نہ بننے والی خاتون ممتاز بی بی اس کے شوہر اصغر علی اور رشتہ دار محسن نقوی نے موقف اختیار کیا کہ وہ بخشی ٹاؤن نزد پھٹے ایریا تحصیل لالیاں ضلع چنیوٹ کے رہائشی ہیں اور محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے کے ڈیرے پر رہائش رکھی ہوئی ہے جس کے بدلے میں وہ ڈیرے کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ڈیرے پر سیاسی اثرورسوخ کے حامل محمد ریاض عرف گلہ اور اسماعیل آتے جاتے ہیں ۔انہوں نے چند ماہ قبل ہمیں 15ہزار روپے فی مرلہ کے حساب سے 5مرلہ زمین فروخت کرنے بات کی جس پر ہم نے انہیں 55ہزار روپے ادا کیے لیکن ملزمان نے زمین دینے سے انکار کر دیا ۔بعد ازاں علاقہ کے معززین کے کہنے پر انہوں نے47 ہزارروپے مالیت کی ایک بھینس ہمیں دے دی اور باقی رقم بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2اپریل کو ملزم محمد ریاض اور اسماعیل اپنے چند نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ ڈیرے پر آئے جب کہ ممتاز بی بی اکیلی گھر میں تھی۔ملزمان نے زبردستی بھینس کھول کر لے جانے کی کوشش کی جس پر ممتاز بی بی نے مزاحمت کی تو ملزمان نے اسے پکڑ لیا اور ڈنڈوں اور مکوں سے اس پر تشدد کیااور شدید زخمی کرتے ہوئے اس کی ناک کی ہڈی توڑ دی ۔ممتاز بی بی کے شور مچانے پر اہل علاقہ موقع پر پہنچ گئے ۔تو ملزمان فرار ہو گئے ۔اہل علاقہ نے ممتاز بی بی کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال میں منتقل کیا اور پولیس کو اطلاع دی جس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر کے ممتاز بی بی کی درخواست پر تھانہ لالیاں میں ملزمان کے خلاف نامزد پرچہ درج کر لیا ۔متا ثرین نے الزام لگایا کہ ملزمان کو تفتیشی افسر ذوالفقار نے تھانے میں طلب تو کیا لیکن ان کے سیا سی اثرور سوخ کی وجہ سے گرفتار کرنے کی بجائے چھوڑ دیا ۔بعدازاں ملزمان نے 6اپریل کی رات کو ڈیرے میں داخل ہو کر بھینس چوری کرلی جس پر انہوں نے پھر تھانہ میں درخواست دی لیکن تاحال اس واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا ،الٹا ان سے مقدمہ کے انداج کے لیے محرر تھانہ 5ہزار روپے مانگ رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہجس کی وجہ سے ملزمان انہیں معاملے کی پیروی کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ملزمان نے ڈیرے پر موجود ان کے سامان پر قبضہ کر کے ان کو بے گھر کر دیا ہے اور ان کی معصوم بیٹی مسرت شاہین کو اغوا کر کے بد اخلاقی کے بعد قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کے ڈر سے انہوں نے اپنی بیٹی کو دوسرے شہربھجوا دیا ہے۔انہوں نے پولیس حکام سے اپیل کی کہ معاملے کی انکوائری کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔اس حوالے سے تفتیشی افسر ذوالفقار سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ،ممتاز بی بی اور اس کے شوہر کا موبائل لگاتار بند جا رہا ہے اس لیے ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا اور تفتیش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔معاملے میں ذاتی دلچسپی لیکر تحقیقات کر رہا ہوں۔

مزید : علاقائی