فراڈ کے مقدمہ میں 30 مرتبہ ضمانت، پولیس اور سیشن عدالت جاگے،ہائیکورٹ

فراڈ کے مقدمہ میں 30 مرتبہ ضمانت، پولیس اور سیشن عدالت جاگے،ہائیکورٹ

  



 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پولیس افسرحکمرانوں کی ڈیوٹیاں نہ کریں نیکو کار(برطرف ایس ایس پی ) سے سبق سیکھیں، نیکو کارا کا حال سب کے سامنے ہے ، حکمران ایک منٹ میں پولیس افسروں کو ادھر سے ادھر کر دیتے ہیں۔ سیشن عدالت کے جج بھی سو رہے ہیں، انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ 5 برس قبل درج کے گئے مقدمہ میں ملزم کی درخواست ضمانت پر کیا حکم دینا ہے۔مسٹر جسٹس مظاہر علی نقوی نے یہ ریمارکس ضمانت منسوخی کے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران سیشن عدالت لاہور سے فراڈ کے ایک ہی مقدمے میں ملزم کی طرف سے 30 مرتبہ ضمانتیں حاصل کرنے کا واقعہ نوٹس میں آنے پر دیئے ۔مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ایک شہری شیخ ندیم انور کی درخواست کی سماعت کررہے تھے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم دلشاد اکبر کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں حصہ بھی لے رہا ہے اور ملزم نے بھاری رشوت دے کر مختلف موضع جات کے ریونیو ریکارڈ میں تبدیلیاں کروا کر لوگوں کی زمین بھی ہتھیا رکھی ہیں، انہوں نے استدعا کی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے گرفتار کرنے کا بھی حکم دیا جائے، سیشن عدالت لاہور سے فراڈ کے ایک ہی مقدمے میں 30 مرتبہ ضمانت حاصل کرنے کے انکشاف پر کمرہ عدالت میں موجود کلاء اور دیگر سائلین حیران ہو گئے، عدالتی حکم پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایاز سلیم عدالت میں پیش ہوئے ، عدالت نے ایس ایس پی سے استفسار کیا کہ کیا ملزم دلشاد اکبر آپ کا خاص مہمان ہے؟ جس پر ایس ایس پی نے جواب دیا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کوتاہی کی وجہ سے ملزم ضمانتیں حاصل کرتا پھر رہا ہے، عدالت نے ایس ایس پی سے کہا کہ پولیس افسران نیکو کارا سے سبق سیکھیں، نیکو کارا کا حال سب کے سامنے ہے ، حکمرانوں کی ڈیوٹیاں نہ کریں جو ایک منٹ میں پولیس افسروں کو ادھر سے ادھر کر دیتے ہیں، پولیس افسروں کو چاہیے کہ وہ عوام کی خدمت کریں اور انکی ڈیوٹی دیں، عدالت کو بتایا گیا کہ سیشن عدالت سے حاصل کر دہ عبوری ضمانت کی اگلی تاریخ 17اپریل مقرر ہے، فاضل عدالت نے سیشن عدالت کی کارکردگی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیشن عدالت کے جج سو رہے ہیں، انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ پانچ برس قبل درج کے گئے مقدمہ میں ملزم کی درخواست ضمانت پر کیا حکم دینا ہے۔عدالت عالیہ نے مزید کارروائی 20اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو آئندہ سماعت پر ملزم کو مقدمے کے ریکارڈ سمیت پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ 30مرتبہ ضمانت

مزید : صفحہ آخر


loading...