یمن تنازع ‘ اتحادیوں کی بمباری جاری ‘ باغی فوجیں سعودی سرحد پر جمع ‘ شہبازشریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کی سعودالفیصل اور ولی عہد سے ملاقاتیں ‘ فوج بھیجنے کے معاملہ پر بات چیت

یمن تنازع ‘ اتحادیوں کی بمباری جاری ‘ باغی فوجیں سعودی سرحد پر جمع ‘ ...

  



 جدہ (اسد اکرم سے)وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور سعودی عرب فوج بھجوانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بدھ کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور امور خارجہ سرتاج عزیز نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور سعودی عرب بھجوانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور پاکستان کے سفیر منظور الحق، جدہ میں پاکستانی جنرل کونسل آفتاب احمد کھوکھر اور ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر طاہر گلزار ملک بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے ، یمن میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سعودی عرب کی طرف سے پاکستانی فوج بھجوانے کی درخواست پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے سعودی وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان سعودی عرب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گا اور سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ہر طرح سے سعودی عرب کا دفاع کرے گا۔ ملاقات میں وفد نے پارلیمنٹ کی قرارداد اور وزیراعظم کے پالیسی بیان کے حوالے سے سعودی حکام کو بریفنگ دی اورانہیں بتایا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کے متن کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں جنہیں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پالیسی بیان کے بعد اب ختم ہو جانا چاہیے۔ وفد نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے اور سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ۔ ملاقات کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کو اس بات کی امید ہے کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب بھجوائے گا اور مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دے گا، سعودی عرب کی حکومت اور عوام پاکستان کیلئے ہمیشہ اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ یمن میں بغاوت کی گئی ہے اور حوثی قبائل نے بیرونی امداد سے قانونی حکومت کا خاتمہ کیا، سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور اب اقوام متحدہ نے بھی ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، پاکستان کو سعودی عرب کے اتحاد میں شامل ہو کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔

یمن تنازع ‘ اتحادیوں کی بمباری جاری ‘ باغی فوجیں سعودی سرحد پر جمع ‘ شہبازشریف کی قیادت میں پاکستانی وفد کی سعودالفیصل اور ولی عہد سے ملاقاتیں ‘ فوج بھیجنے کے معاملہ پر بات چیت جدہ (اسد اکرم سے)وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور سعودی عرب فوج بھجوانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بدھ کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور امور خارجہ سرتاج عزیز نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور سعودی عرب بھجوانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور پاکستان کے سفیر منظور الحق، جدہ میں پاکستانی جنرل کونسل آفتاب احمد کھوکھر اور ڈیفنس اتاشی بریگیڈیئر طاہر گلزار ملک بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے ، یمن میں پیدا ہونے والی صورتحال اور سعودی عرب کی طرف سے پاکستانی فوج بھجوانے کی درخواست پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے سعودی وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان سعودی عرب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گا اور سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ہر طرح سے سعودی عرب کا دفاع کرے گا۔ ملاقات میں وفد نے پارلیمنٹ کی قرارداد اور وزیراعظم کے پالیسی بیان کے حوالے سے سعودی حکام کو بریفنگ دی اورانہیں بتایا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کے متن کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں جنہیں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پالیسی بیان کے بعد اب ختم ہو جانا چاہیے۔ وفد نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے اور سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ۔ ملاقات کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کو اس بات کی امید ہے کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب بھجوائے گا اور مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دے گا، سعودی عرب کی حکومت اور عوام پاکستان کیلئے ہمیشہ اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ یمن میں بغاوت کی گئی ہے اور حوثی قبائل نے بیرونی امداد سے قانونی حکومت کا خاتمہ کیا، سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور اب اقوام متحدہ نے بھی ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، پاکستان کو سعودی عرب کے اتحاد میں شامل ہو کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔

اسلام آباد (آئی این پی) سعودی عرب کے وزیرمذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارا دوست ہے ، توقع ہے کہ پاکستان اپنی فوج حوثی باغیوں کے خاتمے کیلئے بھیجے گا، حوثیوں نے دہشت گردی کے ذریعے یمن سے منتخب حکومت کا خاتمہ کیا، سعودی عرب حوثی باغیوں کو روکے گا اور شریعت کے مطابق ان کا خاتمہ کرے گا۔ بدھ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں سعودی وزیر نے کہا کہ حوثی باغیوں نے دہشت گردی کے ذریعے یمن سے ایک منتخب حکومت کا خاتمہ کیا، ہم ان باغیوں کو دہشت گردی پھیلانے سے روکیں گے اور شریعت کے مطابق ان کا قلع قمع کریں گے۔ سعودی عرب خطے میں امن کیلئے اپنا کر دار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوست ہے اور میرے دورہ پاکستان سے مثبت نتائج نکلیں گے اور ہم پاکستان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی فوج حوثی باغیوں کے خاتمے کیلئے سعودی عرب بھیجے گا۔دوسری طرف اتحادیوں افواج کی یمن میں حوثی باغیوں پر بمباری جاری ہے اورباغی فوجیں اور یمن کے سابق صدر کی فوجیں سعودی سرحد پر جمع ہوناشروع ہو گئی ہیں،سابق صدر علی عبداللہ صالح نے خلیجی ممالک سے اپیل کی ہے کہ اسکی فیملی کو یمن سے نکلنے کیلئے محفوظ راستہ دیا جائے ،ادھر ایرانی ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب سے بمباری روکنے کی اپیل کی ہے تاکہ حوثیوں کیساتھ اثرورسوخ استعمال کر کے جنگ بندی کی جاسکے۔

مزید : صفحہ اول


loading...