حرمین شریفین کے تحفظ کی جنگ پرائی نہیں اسلام کے دفاع کی ہے

حرمین شریفین کے تحفظ کی جنگ پرائی نہیں اسلام کے دفاع کی ہے

  



 گوجرانوالہ( بیورورپورٹ)مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور جیدعلماء کرام نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کی جنگ پرائی نہیں اسلام اور دفاع کی جنگ ہے۔ قریہ قریہ بستی بستی جاکر حرمین شریفین کے تحفظ کی تحریک منظم کریں گے۔ عوام الناس ممبران پارلیمنٹ پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ حرمین کے دفاع کی جنگ پر غیر جانبدار رہنے کی قرارداد واپس لیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کے سعودی عرب کو سٹریٹیجک پارٹنر قرار دینے سے تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیءں۔پاکستانی فوج، ایٹم بم اور تمام وسائل لاالہ الااللہ کی امانت ہیں۔ہمارا سعودی عرب سے رشتہ اسی کلمہ کی بنیاد پر ہے۔حرمین شریفین کا تحفظ اپنے ایمان و عقیدے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ 18کروڑ پاکستانی حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرنے کیلئے تیار ہیں۔آج 16اپریل کو لاہور میں تحفظ حرمین شریفین کانفرنس ہو گی۔ کل جمعہ کو پورے ملک میں سعودی عرب کی حمایت میں مظاہرے کئے جائیں گے۔ سب سے بڑا پروگرام فیصل آباد میں ہوگا۔ حکمران سعودی عرب کو سٹریٹیجک پارٹنر قرار دیتے ہیں تو ان کی کھل کر مدد کریں۔شیرانوالہ باغ مین جی ٹی روڈ پر ہونے والی کانفرنس سے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی،علامہ ابتسام الہی ظہیر،علامہ زبیر احمد ظہیر،حافظ عبدالغفار روپڑی،قاری محمد یعقوب شیخ، مولانا سیف اللہ خالد،بلال قدرت بٹ، قاری گلزار احمد، مولانا شوکت الہٰی ظہیر، مولانا احسان الحق شہباز،مولانا عثمان اسماعیل سلفی، مولانا سلمان شاکر، مولانا عبدالوحید شاہ ودیگر نے خطاب کیا۔ تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ اللہ کے دشمنوں نے خوفناک سازشیں کرتے ہوئے سعودی عرب کو مشکلات سے دو چار کر نے کا فیصلہ کیا اور یمن کی سرزمین کو چن کر منتخب حکومت گرا کر باغیوں کا قبضہ کروایا گیا۔ہمیں خوشی ہے کہ جو بات شاہ سلمان نے کہی وہی بات وزیر اعظم نواز شریف نے کہی کہ ہم حوثی باغیوں کی مذمت کرتے ہیں اور یمن میں حکومت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سعودی عرب اور یمن کے معاملہ میں مشترکہ قرارداد اسلام سے دوری کا شاخسانہ ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ودیگر سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ سعودی عرب جیسے حساس معاملہ پر سیاست کی بجائے اسلام سے محبت اور عقیدت کا مظاہرہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔حکمران کہتے ہیں کہ سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو ہم بھر پور دفاع کریں گے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اب خطرات نہیں ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان لاالہ الااللہ کے ملک ہیں۔یہ الگ الگ نہیں ایک ہیں۔اب پس وپیش کی کوئی گنجائش نہیں۔پاکستان کا ایٹم بم اور افواج ،ٹیکنالوجی بھی لاالہ الااللہکی ہے۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے بیان سے غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیءں۔جماعۃ الدعوۃ شعبہ سیاسی امور کے سربراہ حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ ساری قوت جمع کر کے سر زمین حرمین شریفین کا دفاع کیا جائے۔کروڑوں پاکستانی اپنا یہ فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ مسلمانوں کی غیرت کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ حرمین شریفین پر حملہ کی سازشیں کی جائیں۔پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے کٹ مرنے کے لئے تیار ہے۔تحریک تحفظ حرمین شریفین کے چیئرمین اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر بنا ہے یہاں کے عوام کسی طور پراس مسئلہ پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔امیر جماعت اہلحدیث پاکستان حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ پاکستان فوج اور عوام سرزمین حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔پاسبان حرمین شریفین کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ حرمین کا تحفظ کرناہمارا فرض اور اسے ہم سعادت سمجھتے ہیں۔یہ شیعہ سنی مسئلہ یا ایران سعودی عرب کی جنگ نہیں۔جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا سیفاللہ خالد ،تحریک حرمت رسول ؐ کے مرکزی رہنما قاری یعقوب شیخ اوردیگر نے بھی خطاب کیا ۔

مزید : صفحہ اول


loading...