کانفرنس آف یونیٹی 2015

کانفرنس آف یونیٹی 2015

  



موسم بہار کے تمام رنگ لگتا تھا کہ جیسے اسی ہال میں اتر آئے ہیں، زرق برق ملبوسات میں ملبوس خواتین ایک ایک کرکے ہال میں داخل ہورہی تھیں، ان کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جا رہا تھا۔ ہر چہرہ پری جمال تھا۔ ہال خوشبوؤں سے مہک رہا تھا اور اس میں چار اطراف لگی بڑی بڑی فلیکس تقریب کی رونق کو دوبالا کر رہی تھیں۔ ایک میز ایوارڈز سے سجی ہوئی تھی اور کیوں نہ ہو کہ آج تقریب میں شریک مہمانوں کو اپنی سال بھر کی کارکردگی پر ایوارڈ سے نوازا جانا تھا، لیکن کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا اس کے حصے میں ایوارڈ آئے گا بھی کہ نہیں لیکن یہ ضرور تھا کہ یہاں موجود خواتین اپنی سال بھر کی کارکردگی سے انتہائی مطمئن اور خوش تھیں۔ یہ منظر انرویل انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 340 پاکستان کی سالانہ تقریب ’’کانفرنس آف یونیٹی 2015ء‘‘ کا تھا جو کسی وقت بھی منعقد ہونے کو تھی۔ کانفرنس میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے انرویل انٹرنیشنل کی کلبز کے عہدیداروں نے شرکت کرنا تھی،وہ منظر دیدنی تھا جس وقت انرویل انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 340 کی چیئرمین ناصرہ عتیق خان ہال میں داخل ہوئیں انہیں دیکھتے ہی خواتین احتراماً کھڑی ہو گئیں، ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا، ناصرہ عتیق، ایک ایک مہمان کے پاس خود گئیں، ہر خاتون سے ملاقات کی، کانفرنس مقررہ وقت پر شروع ہوئی۔ صدارت ڈسٹرکٹ چیئرمین ناصرہ عتیق نے کی مہمان خصوصی مسز سرتاج واجد اور گیسٹ آف آنر نبیلہ خان تھیں۔ پی این آر انجم فراست اور کانفرنس چیئرمین شاہدہ طاہر تھیں۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز حافظ تنویر احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

ڈسٹرکٹ چیئرمین ناصرہ عتیق خان کو دعوت دینے سے قبل ان کا بھرپور تعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ انرویل انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 340 کی چیئرمین ناصرہ عتیق خان جس طرح متحرک کردار ادا کررہی ہیں، لفظوں میں اس کا اظہار ممکن نہیں۔ ناصرہ عتیق کے سماجی بہبود کے کاموں کے متعلق بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ بتایا گیا کہ کوئی بھی موقع ہو، ناصرہ عتیق اپنی کارکردگی سے اس میں جان ڈال دیتی ہیں۔ بطور ڈسٹرکٹ چیئرمین ان کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں سماجی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انرویل کے ناراض ممبران کو منایا۔ آپس میں دوستیاں کرائیں، اختلافات ختم کرائے۔ انرویل کے پیغام کو عام کیا۔ کراچی سے بطور کانفرنس میں شرکت کے لئے آئی نگہت سرفراز نے ناصرہ عتیق خان کی کارکردگی کا اظہار ایک نظم کی صورت میں کیا۔ نظم کے ایک ایک مصرعے پر ہال میں موجود مہمانوں نے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ایک ایک لفظ پر داد دی گئی ناصرہ عتیق کے خطاب سے قبل ڈاکٹر عنبر فیصل کی وفات اور ان کی خدمات کے اعتراف میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور اللہ رب العزت کے حضور ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعا کی گئی۔

ڈسٹرکٹ چیئرمین ناصرہ عتیق خطبہ ء استقبالیہ کے لئے تشریف لائیں تو ان کا زبردست استقبال کیا گیا، ہال میں موجود خواتین نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر ان کی خدمات کو سراہا۔ناصرہ عتیق نے انرویل کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور کانفرنس آف یونیٹی 2015ء کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے رفقاء کار کی ممنون ہیں، جن کی محنت، قابلیت ،لگن، خلوص اور تعاون سے کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔ میں نے اپنی پوری لگن اور خوش دلی کے ساتھ ہر وہ اقدام کیا جس کے کرنے سے خواتین کی بہتری اور بہبود کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں۔ ہم نے پاکستان میں پہلی بار این آر اور ڈی آر کے الیکشن کرائے جو غیر جانبدارانہ اور مثبت بنیادوں پر ہوئے اور 65لاکھ سے زائد رقوم سے فلاحی کام سرانجام دیئے گئے جن میں تھرپارکر کے قحط سے متاثرہ بچوں ، شمالی علاقہ جات کے آئی ڈی پیز، آرمی پبلک سکول پشاور کے زخمی بچوں کا علاج، ساہیوال میں فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب، ڈاکٹر عنبر فیصل کے نام پر حجاز ہسپتال میں ڈائیلسز مشین لگوائی گئی اور جگر کے عارضہ میں مبتلا ایک نوجوان کے لئے پانچ لاکھ روپے کی رقم فراہم کی گئی۔ بعدازاں مختلف کلبز کے صدور نے اپنی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ کانفرنس کی ایک خاص بات سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی آمد تھی جو بطور خاص لندن سے کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں انرویل کی کارکردگی کو سراہا اور پانچ لاکھ روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ بعدازاں بہترین کارکردگی پر مختلف کلبز کو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جس میں آنٹی فقیر محمد کی خدمات کو بطور خاص سراہا گیا کہ جنہوں نے مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی پر 6ایوارڈز حاصل کئے۔ ملتان کے کلبز کو بہترین کارکردگی پر ایوارڈ دیئے گئے جس میں ثمینہ الطاف، فاطمہ بلال اور یاسمین خاکوانی کی خدمات کو سراہا گیا۔ جھنگ کی شافع خالد کو بہترین کام کے عوض ایوارڈ دیا گیا۔ شاہیوال کی کارکردگی کی بھی تعریف کی گئیاور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سرگودھا اور ایبٹ آباد کو بہترین کو آپریشن کے ایوارڈ سے نوازاگیا۔ساہیوال کے تینوں کلبوں کی کارکردگی بہترین رہی۔ کلبز کی بہترین صدور کے ایوارڈ اسلام آباد کی لبنیٰ اسد، ملتان کی ثمینہ الطاف، شاہین کلب لاہور کی ثمرا اسلم،بہترین سیکرٹری طاہرہ ظفر سمیت عائشہ مظہر، حنا ظفر، ندا فراز ،رضوانہ خان کو بھی ایوارڈ دیئے گئے۔لاہور کے کلبوں کی کارکردگی بھی نمایاں رہی اور انہوں نے بھی ایوارڈ حاصل کئے۔ این آر اور ڈی این آر کے انتخابات میں عظمیٰ بشیر کو این آر اور نگہت سرفراز کو ڈی این آر منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی اس موقع پر انرویل انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 340، 2015-16ء کی ٹیم کا بھی اعلان کیا گیا جس میں چیئرمین ناصرہ عتیق خان، وائس چیئرمین سعدیہ آصف فتیانہ، سیکرٹری غوثیہ نوید، خزانچی شافع اسلم، بلٹین ایڈیٹر صبا ناصر، آئی ایس او مسز آغا اور ای ایس او ساجدہ خلیل کو مبارکباد دی گئی۔ کانفرنس صبح 9بجے سے شروع ہو کر شام ساڑھے 5بجے اختتام پذیر ہوئی جس میں پُرتکلف ظہرانہ اور عصرانے کا بھی اہتمام تھا۔ کانفرنس میں شریک ہر مہمان کو انعامات سے نوازا گیا۔ تقریب میں وقفے وقفے سے موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس سے سامعین بہت محظوظ ہوئے۔ تقریب اس قدر جاندار ، خوبصورت اور باوقار تھی کہ مہمانوں کو ایک لمحہ بھی بوریت کا احساس نہیں ہوا، بعدازاں خوشگوار یادیں لئے مہمان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...