یمن پر سلامتی کونسل کا فیصلہ، پاکستان کو مشکل سے نکالنے کا ذریعہ بنے گا؟

یمن پر سلامتی کونسل کا فیصلہ، پاکستان کو مشکل سے نکالنے کا ذریعہ بنے گا؟
یمن پر سلامتی کونسل کا فیصلہ، پاکستان کو مشکل سے نکالنے کا ذریعہ بنے گا؟

  



تجزیہ، چودھری خادم حسین 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں برسر پیکار حوثی قبائل کو باغی قرار دے کر ان کو اسلحہ کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کر دی اور ایران سے بھی کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کرے کہ حوثی قبائل کو اسلحہ ایران ہی کی طرف سے مل رہا ہے۔ روس کے سوا باقی تمام اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے، روس نے نہ تو قرارداد ویٹو کی اور نہ ہی ووٹ دیا۔ یوں غیر جانبداری ظاہر کی اور کہا ہے کہ جو تجویز اس(روس) کی طرف سے پیش کی جانا تھی اسے زیر غور نہیں لایا گیا۔ یہ تجویز ایرانی فارمولے کے مطابق تھی کہ فریقین جنگ بندی کر کے مذاکرات کریں، جن کے ذریعے حکومت سازی یا اقتدار کے لئے عوام کی مرضی حاصل کی جائے۔ دوسرے ممالک حوثی قبائل کو برابر کا فریق نہیں مانتے ان کے لئے یہ قبائل باغی ہیں اور ایک آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کی گئی ہے۔ پاکستان کے لئے پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کے بعد جو پریشانی پیدا ہوئی اس فیصلے سے اس میں سے نکلنے کا راستہ مل جائے گا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک پاکستان سے غیر جانبداری نہیں، طرف داری کی توقع رکھتے اور مطالبہ کرتے ہیں ان کے مطابق تو پاکستان کو عرب لیگ کی متحدہ افواج کا ساتھ دینے کے لئے پاکستان کو فوجی دستے بھیجنا چاہئیں، پارلیمنٹ کی قرارداد سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے لئے سر بکف اور ہر قربانی دینے کا اظہار بھی کرتی ہے، لیکن سعودی اور خلیج کی ریاستوں والے دوستوں کو یہ پسند نہیں آئی۔ اس ضمن میں سعودی عرب سے عوامی حوالے کے طور پر جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق سعودی باشندے وہاں روزگار کے لئے مقیم پاکستانیوں کو طعنے دے رہے ہیں، وزیراعظم محمد نواز شریف نے پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی، جو پوری طرح کامیابی حاصل نہیں کر پائی، چنانچہ اب پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ہنگامی طور پر سعودی عرب گئے ہیں کہ وہاں حکومتی عہدیداروں سے مل کر وضاحت کریں اور یقین دہانی کر سکیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عربی زبان پر بھی عبور رکھتے اور تعلقات بھی اچھے ہیں، سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد اور فیصلے کی روشنی میں ثالثی والا مسئلہ تو ازخود کالعدم ہو جاتا ہے کہ پاکستان بھی اس قرارداد کا پابند ہے۔ سعودی عرب نے ثالثی ہی کو مسترد کیا تھا۔ توقع ہے کہ جو ابہام پیدا ہوا وہ جلد ہی دور ہو جائے گا، ضرورت ہوئی تو پاکستان میں پارلیمانی لیڈروں سے پھر مشاورت اور مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں۔ جوڈیشل کمشن بن گیا۔ آج (جمعرات) سے کارروائی کا بھی آغاز ہو رہا ہے،ابتدا میں فریقین ہی کا مسئلہ پیش ہو گا اور وکالت نامے یا مختار نامے دیئے جائیں گا، غالباً آج کمشن طریق کار طے کر لے گا اور پھر باقاعدہ سماعت شروع ہو گی۔ کمشن بن جانے کے بعد بیان بازی کا سلسلہ رک جانا چاہئے، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہو رہا، تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) لفظی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں حتیٰ کہ وزیراعظم کا دورہ گلگت، بلتستان بھی اعتراض کی زد میں ہے۔ تحریک انصاف کا ایک محاذ یہ ہے تو دوسرا کراچی میں ضمنی انتخاب کی وجہ سے ایم کیو ایم کے ساتھ کھل چکا ہوا ہے اور معمول سے ہٹ کر سیاسی ماحول گرم ہے، اس کی وجہ سے بے چینی کا ماحول موجود ہے، حالانکہ حالات کا تقاضہ پُرسکون رہنے کا ہے۔

مزید : تجزیہ