کراچی پولیس مقابلے میں مارے گئے محمد عالم اور ابراہیم گھر والوں سے لڑ کر نکلے اور بمبار بن گئے، بی بی سی

کراچی پولیس مقابلے میں مارے گئے محمد عالم اور ابراہیم گھر والوں سے لڑ کر نکلے ...
کراچی پولیس مقابلے میں مارے گئے محمد عالم اور ابراہیم گھر والوں سے لڑ کر نکلے اور بمبار بن گئے، بی بی سی

  



لندن (ویب ڈیسک) محمد عالم اور ابراہیم جب گھر سے ناراض ہوکر نکلے تو بیٹے اور بھائی تھے لیکن کئی ماہ بعد جب گولیوں سے چھلنی لاشیں گھر پہنچیں تو پولیس انہیں خودکش بمبار قرار دے چکی تھی۔ کراچی کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 16 سالہ محمد عالم اور 18 سالہ محمد ابراہیم پیر کی صبح کورنگی کے علاقے خیر آباد میں پولیس مقابلے میں دیگر تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے، جن کی شناخت منگل کے روز کی گئی۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی محمد عارف حنیف کا کہنا ہے کہ اس مبینہ پولیس مقابلے میں القاعدہ جنوبی ایشیا کا مقامی کمانڈر نور الحسن، نائب کمانڈر عثمان عرف الیاس اور ابراہیم عرف الیاس سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو خودکش بمباروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں خودکش بمباروں کی شناخت محمد عالم اور ابراہیم بنگالی کے نام سے کی گئی ہے جو دونوں کورنگی بلال کالونی کے رہائشی اور کئی ماہ سے گھروں سے لاپتہ تھے۔ 22 سالہ ابراہیم چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ مرجان کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل اس کی ماں سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ’امی نے ابراہیم کو کہا تھا کہ گھر میں بیٹھ کر مفت کی روٹیاں کھا رہے ہو جاکر باہر کام کرو جس کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ دوسرے مبینہ بمبار 16 سالہ محمد عالم کی شناخت والد محمد اسماعیل نے کی جو فیکٹری مزدور ہیں۔ محمد عالم کے رشتے دار فرید عالم نوری نے بتایا کہ عالم گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے لاپتہ تھا۔ فرید عالم کے مطابق والد نے محمد عالم کو منع کیا تھا کہ غلط لڑکوں کے ساتھ اٹھا بیٹھا نہ کرو جس پر وہ ناراض ہوکر گھر سے نکل گیا۔ سی ٹی ڈی کے سربراہ راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ ’بمبار‘ صرف چند ماہ قبل ہی افغانستان کے صوبے ہلمند سے واپس آئے تھے اور پولیس نے چھاپے کے وقت بم بنانے کی فیکٹری بھی برآمد کی ہے۔ کمانڈر نورالحسن بم بنانے میں مہارت رکھتا تھا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...