سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد اور مزید سزائیں دینے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد اور مزید ...
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد اور مزید سزائیں دینے سے روک دیا

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے چھ مجرموں کودی گئی سزائے موت اور ایک مجرم کو عمر قید پر عملدرآمد اور مزید سزائیں دینے سے روک دیااور درخواست کی سماعت 22اپریل تک ملتوی کر دی ۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ناصر لملک کی سربراہی میں سترہ رکنی بنچ کے اٹھارویں اور اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔دوران سماعت درخواست گزار عاصمہ جہانگیر کا کہناتھاکہ فوجی عدالتوں سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ،پارلیمنٹ کی جانب سے بنایا گیا کوئی بھی قانون اگر آئین کے بنیادی ڈھانچے اور انسانی حقوق کی خلاف ہو تو سپریم کورٹ اسے کالعد م قرار دے سکتی ہے ۔ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل کا کہناتھا کہ آرمی ایکٹ کی شق 133بی کے تحت سزا پانے والوں کو اپیل کرنے کا حق حاصل ہے اور آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتااس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے ۔اس پر چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک نے کہا کہ ان افراد کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں اور انھیں سزا ملنے کی خبر بھی میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے سوال کیا کہ حکومت کو ان سزاؤں پر عمل درآمد کی کیا جلدی ہے اور کیوں نہ انھیں کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیا جائے۔جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیے کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔ فوجی عدالتیں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی تھیں۔عدالت کے فاضل جج کا کہنا تھا ایسی صورت حال میں یہ یقین کیسے ہو کہ ان کے خلاف مقدموں کی کارروائی منصفانہ تھی اور یہ کہ ان کی اپیل پر بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی یا نہیں۔جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔ اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ماضی میں بھی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت تک دو افراد کو پھانسی دی جا چکی تھی۔انھوں نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ اچانک پتا چلے کہ اپیل خارج ہونے کے بعد پھانسی دی جا رہی ہے۔

سماعت کے بعد عدالت نے فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر حتمی فیصلہ آنے تک یہ سزا معطل رہے گی۔عدالت نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی سماعت 22 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

مزید : قومی /Headlines