اگر آپ بھی نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں تو یہ تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

اگر آپ بھی نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں تو یہ تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں
اگر آپ بھی نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں تو یہ تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

  



نیویارک (نیوز ڈیسک)خراٹوں کی بیماری نیند میں خلل اور بے آرامی کا باعث تو بنتی ہے لیکن ایک حالیہ امریکی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے ذہنی بیماریوں اور یاد داشت کی کمزوری کا آغاز بھی قبل از وقت ہوجاتا ہے۔

مزیدپڑھیں:اسلام کی ایک اور خوبصورت بات سائنس بھی مان گئی

نیویارک یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے 55سے90سال عمر کے 2470افراد کی طبی تاریخ کا مطالع کیا تو معلوم ہوا کہ خراٹوں کی بیماری کے شکار افراد میں دماغی کمزوری اور متعلقہ امراض کا آغاز 77سال کی عمر میں ہوجاتا ہے جبکہ اس کے برعکس خراٹوں سے محفوظ افراد میں یہ مسائل تقریباً 90سال کی عمر کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح خراٹے لینے والوں میں دماغی بیماری الزائمرز کا آغاز نارمل افراد کی نسبت تقریباً5سال پہلے یعنی 83سال کی عمر میں ہوجاتا ہے ۔یہ افراد خراٹوں کی وجہ سے نیند اور آکسیجن کی کمی کا بھی شکار رہتے ہیں اور یوں ان میں دیگربیماریوں کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔یہ تحقیق سائنسی جریدے ’’نیورولوجی‘‘میں شائع کی گئی ہے ۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...