دنیا کا وہ شہر جہاں کہیں سے بھی آکر کوئی بھی رہائش اختیار کرسکتا ہے، یہاں کسی کام کیلئے پیسہ استعمال ہوتا ہے نہ کسی شخص کا کوئی مذہب ہے

دنیا کا وہ شہر جہاں کہیں سے بھی آکر کوئی بھی رہائش اختیار کرسکتا ہے، یہاں کسی ...
دنیا کا وہ شہر جہاں کہیں سے بھی آکر کوئی بھی رہائش اختیار کرسکتا ہے، یہاں کسی کام کیلئے پیسہ استعمال ہوتا ہے نہ کسی شخص کا کوئی مذہب ہے

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) دنیا بھارت کو اس کی غربت، تعصب اور شدت پسندی جیسی خصوصیات کی وجہ سے جانتی ہے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اسی ملک میں ایک ایسی جگہ بھی موجود ہے کہ جسے ویران صحرا میں نخلستان کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس جگہ کا نام آروول (صبح کا شہر) ہے اور یہ ریاست تامل ناڈو کے ساحلی علاقے میں پونڈو چری کے قریب واقع ہے۔

اس کی بنیاد فروری 1968ءمیں میرا الفاسا نامی خاتون نے رکھی اور اسے عالمی شہر قرار دیا۔ میرا الفاسا نے اس کی بنیاد رکھتے ہی طے کردیا کہ یہ شہر کسی کی ملکیت نہیں ہوگا اور نہ ہی یہاں رہنے کے لئے کسی کو جگہ خریدنے کی ضرورت ہوگی۔ یہاں دنیا بھر سے جس کا جی چاہے آکر رہ سکتا ہے۔ غیر ملکی آرکیٹیکٹ راجر اینگر نے اس چھوٹے سے شہر کا انتہائی خوبصورت نقشہ بنایا اور یہاں درجنوں دلکش عمارتیں موجود ہیں۔ جب اس کا قیام عمل میں آیا تو خصوصی تقریب میں 124 ممالک کے وفود نے شرکت کی اور بعدازاں اس کی بانی کے خواب کے مطابق یہاں ہر ملک کے باشندے آباد ہوئے۔ اس وقت بھی یہاں درجنوں مختلف ممالک کے لوگ رہتے ہیں۔

عجب پریم کی غضب کہانی، گوری خاتون ہزاروں میل دور بیٹھے نوجوان کے پیار میں دوڑی چلی آئی، ایک دوسرے کی زبان بھی نہیں آتی تو یہ ممکن کیسے ہوا؟ جان کر آپ بھی سوچتے رہ جائیں گے

آروول شہر میں ناصرف قیام کرنے کے لئے رقم خرچنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہاں کسی بھی قسم کی کرنسی لین دین کے لئے استعمال نہیں ہوتی۔شہر کا نظم و ضبط آروول فاﺅنڈیشن چلاتی ہے اور شہر کے رہنے والے ایک مرکزی فنڈ میں اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عطیات جمع کرواتے ہیں۔ مرکزی فنڈ سے ہی سب کی ضروریات کا اہتمام کیا جاتا ہے اور جسے بھی کسی چیز کی ضرورت ہو وہ بغیر کچھ اداکئے لے سکتا ہے۔

آروول میں تعلیم، صحت اور جدید کمیونیکیشن سمیت تمام بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں۔ یہاں قائم متعدد اداروں میں جنگلات کے فروغ، زراعت، بنیادی تعلیمی تحقیق، ہیلتھ کیئر، دیہی بہبود اور کلچر و آرٹ سے متعلقہ شعبوں میں کام کیا جاتا ہے۔ اس منفرد شہر کے بارے میں مختصر و طویل دورانیے کی تقریباً نصف درجن ڈاکیومینٹری فلمیں بھی بنائی جاچکی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -