جاپانی خاتون جو پاکستان آئی تو پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی، پاکستان کا وہ علاقہ جس کی قسمت بدل ڈالی

جاپانی خاتون جو پاکستان آئی تو پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی، پاکستان کا وہ علاقہ ...
جاپانی خاتون جو پاکستان آئی تو پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی، پاکستان کا وہ علاقہ جس کی قسمت بدل ڈالی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کی ایک خاتون توکوناگا تداکو(Tokunaga Tadako)1974ءمیں پاکستان آئیں اور گلگت بلتستان کی سیر کے لیے وہاں پہنچیں۔ انہیں اس علاقے کی خوبصورتی اس قدر پسند آئی کہ وہ یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔انہوں نے اپنا لباس اور رہن سہن کا طریقہ بدلا اور گلگت بلتستان کے لوگوں میں گھل مل گئیں۔ پھر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ اس علاقے کی خواتین کی حالت خاصی دگرگوں ہے۔ چنانچہ انہوں نے خواتین کی فلاح کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔

انگریزی اخبار ”ایکسپریس ٹربیون“ سے گفتگو کرتے ہوئے 72سالہ توکوناگا نے روانی کے ساتھ اردو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ”جب میں یہاں آئی تو اس علاقے کی خوبصورتی سے خاصی مرعوب ہوئی اور یہاں رہنے کا فیصلہ کیا لیکن جلد ہی یہاں کی خواتین کی زبوں حالی میری اس خوشی پر حاوی آ گئی اور میں نے ان کی فلاح کے لیے کام کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔“

عجب پریم کی غضب کہانی، گوری خاتون ہزاروں میل دور بیٹھے نوجوان کے پیار میں دوڑی چلی آئی، ایک دوسرے کی زبان بھی نہیں آتی تو یہ ممکن کیسے ہوا؟ جان کر آپ بھی سوچتے رہ جائیں گے

رپورٹ کے مطابق توکوناگا نے اس علاقے میں ایک ووکیشنل ٹریننگ سنٹر قائم کیا جس سے گزشتہ 15سال کے دوران 10ہزار سے زائد خواتین سلائی کڑھائی کا کام سیکھ چکی ہے اوراس کے ذریعے کما رہی ہیں۔توکوناگا نے 1980ءکے اوائل میں اسلام قبول کرکے گلگت بلتستان ہی کے سمیع الحق نامی شخص سے شادی کر لی تھی۔ قبول اسلام کے بعد توکوناگا نے اپنا نام لیلیٰ رکھ لیا تھا۔ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے لیلیٰ کا کہنا تھا کہ ”اپنی شادی کے بعد مجھے شدت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ اس علاقے کی خواتین کے لیے صحت، تعلیم اور دیگر شہری سہولتوں کا بہت فقدان ہے۔“

لیلیٰ نے مزید بتایا کہ ”دو عشرے گزرنے کے بعد میرے شوہر کا انتقال ہو گیا اور میں واپس جاپان چلی گئی مگر میرا اس علاقے سے تعلق قائم رہا۔ شوہر کی وفات کے بعد میری اس علاقے کی خواتین کے لیے کام کرنے کی خواہش دوآتشہ ہو گئی تھی۔ 1999ءمیں میں نے گلگت بلتستان میں موجود اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کیا اور اس ووکیشنل ٹریننگ سنٹر کی بنیاد رکھی جس کا نام نیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن(Nipa Welfare Association) ہے۔اس سنٹر میں نہ صرف خوتین کو بنیادی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انہیں سلائی کڑھائی سمیت دیگر ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ مالی طور پر خودمختار ہو سکیں اور اپنے ساتھ اپنے خاندان کی کفالت بھی کر سکیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -