موبائل فونز کے بارے میں وہ 7 جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں

موبائل فونز کے بارے میں وہ 7 جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں
موبائل فونز کے بارے میں وہ 7 جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) موبائل فونز کے متعلق کئی جھوٹ ایسے بولے جاتے ہیں جنہیں ہم لوگ سچ سمجھتے ہیں۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں ماہرین نے یہ جھوٹ بے نقاب کر دیئے ہیں۔ سچ کیا ہے، آپ بھی جانئے۔

پہلا جھوٹ یہ ہے کہ ہوائی جہاز میں داخل ہوتے ہیں مسافروں کے موبائل فونز آف کروا دیئے جاتے ہیں اور جھوٹ یہ بولا جاتا ہے کہ اس سے جہاز کا سمت نمائی کا نظام متاثر ہوتا ہے، حالانکہ جہازوں کے سمت نمائی اور پیغام رسانی کے نظام اتنے جدید ہو چکے ہیں کہ اگر جہاز میں بیٹھے تمام مسافروں کے فون بھی آن رہیں تو اس سے جہاز کے نظام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دوسرا جھوٹ اس وقت بولا جاتا ہے جب ہم اپنی گاڑی میں پٹرول بھروانے پٹرول پمپ پر جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فون آف کر لو کیونکہ فون آن ہونے سے آتشزدگی کا خدشہ ہوتا ہے حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا۔آگ صرف ماچس، لائیٹر یا شارٹ سرکٹ وغیرہ ہی سے لگ سکتی ہے۔ ہاں آپ کا فون یا اس کی بیٹری اگر خراب ہوتو پھر یہ آتشزدگی کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ خراب فون یا بیٹری سے چنگاریاں نکل سکتی ہیں جن سے آگ لگ سکتی ہے۔ بصورت دیگر موبائل فون پٹرول پمپس پر بھی بالکل محفوظ ہوتا ہے۔

دنیا کا سب سے سستا 2 سم والا یہ بہترین موبائل فون آپ صرف 570 روپے میں خرید سکتے ہیں

تیسرا جھوٹ یہ بولا جاتا ہے کہ فون کو رات بھر ری چارج نہیں کرنا چاہیے اور جونہی بیٹری مکمل بھر جائے اسے اتار لینا چاہیے ورنہ بیٹری اوورچارج ہونے کے باعث پھٹ بھی سکتی ہے اور آگ لگ سکتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج کے جدید موبائل فونز میں ایک سیفٹی سرکٹ نصب ہوتا ہے جو بیٹری مکمل بھرنے پر اس کا رابطہ چارجر سے منقطع کر دیتا ہے اور مزید کرنٹ بیٹری کی طرف نہیں آتا۔ لہٰذا اس کے اوورچارج ہونے یا پھٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چوتھا جھوٹ اس وقت بولا جاتا ہے کہ بیٹری جتنی بڑی ہو گی اتنی ہی زیادہ ٹائمنگ دے گی۔ سچ یہ ہے کہ ایک ری چارج پر بیٹری کی عمر(ٹائمنگ) کا انحصار بیٹری پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ جس ڈیوائس میں وہ بیٹری لگائی گئی ہے وہ کتنا کرنٹ لیتی ہے۔ ایک ہی ماڈل کے دو موبائل فونز کی بیٹری ٹائمنگ میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے جس فون کی بیٹری زیادہ ٹائمنگ دے رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ اس فون کی سکرین اور دیگر پرزہ جات دوسرے سے بہترہیں اور کم توانائی استعمال کرتے ہیں۔

پانچواں جھوٹ موبائل فون کے براﺅزرز(Browsers) کے متعلق بولا جاتا ہے۔ ان میں ایک پرائیویٹ موڈ ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر آپ یہ موڈ آن کر لیں تو آپ کی معلومات محفوظ رہیں گی۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ یہ موڈ صرف آپ کی ڈیوائس کے براﺅزر کی ہسٹری(History) اور ککیز(Cookies) کو محفوظ نہیں ہونے دیتا۔ اس کے علاوہ یہ آپ کی شناخت کو دوسروں سے نہیں چھپا سکتا۔ آپ اس براﺅزر پر کون سی ویب سائٹ وزٹ کر رہے ہیں، کون سا انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں ، سمیت تمام معلومات کسی بھی وقت سرکاری عمال، آپ کو انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیاں اور ویب سائٹس کی انتظامیہ دیکھ سکتی ہے۔

چھٹا جھوٹ یہ ہے کہ موبائل فون جب چارجنگ پر ہو تو اس کو استعمال مت کریں کیونکہ یہ پھٹ بھی سکتا ہے اور آپ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ موبائل فون کبھی نہیں پھٹتا۔ یہ اس کی بیٹری ہوتی ہے جو پھٹتی ہے۔

ساتواں جھوٹ لوگ یہ بولتے ہیں کہ موبائل فونز سے خطرناک شعاعیں خارج ہوتی ہیں لہٰذا انہیں اپنے جسم کے حساس حصوں، شرٹ کی سامنے والی(دل کے اوپر کی)جیب وغیرہ میں نہیں رکھنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی اچھی کمپنی کے فون کو ایک ٹیسٹ پاس کرنا پڑتا ہے جسے سپیسیفک ابزورپشن ریٹنگ ٹیسٹ(Specific Absorption Rating Test) کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں یہی چیک کیا جاتا ہے کہ فون کہیں اس قدر شعاعیں تو خارج نہیں کر رہا جو صارف کے لیے نقصان دہ ہوں۔لہٰذا اگر آپ کے پاس اچھی کمپنی کا فون ہے تو آپ کو فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -