ہائی کورٹ نے یکطرفہ محبت میں مبتلا عاشق کو 10ہزار روپے جرمانہ کردیا

ہائی کورٹ نے یکطرفہ محبت میں مبتلا عاشق کو 10ہزار روپے جرمانہ کردیا
ہائی کورٹ نے یکطرفہ محبت میں مبتلا عاشق کو 10ہزار روپے جرمانہ کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ نے محبت سے شادی کرنے والی بیوی کی بازیابی کے لئے شوہر کی جانب سے دائردرخواست مسترد کرتے ہوئے لڑکی کو اس کی ماں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی،عدالت نے درخواست گزار کو جھوٹی درخواست دائر کرنے پر 10ہزار روپے جرمانہ بھی عائدکر دیاہے۔مسٹرجسٹس عبدالسمیع خان نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزارغلام مصطفی نے عدالت کوبتایا کہ اس نے سعدیہ نامی لڑکی سے پسند کی شادی کی مگر بعد اس کے والدین نے اسے زبردستی اپنی پاس رکھا ہوا ہے۔غلام مصطفی نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کی بیوی بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے۔عدالتی حکم پر سعدیہ نامی لڑکی اپنی والدہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئی اور عدالت کو آگاہ کیا کہ غلام مصطفی نامی شخص اسے زبردستی ورغلا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا اور وہ اب اس شخص کے ساتھ نہیں جانا چاہتی جس پر عدالت نے منڈی بہاو ¿الدین کی رہائشی سعدیہ نامی لڑکی کو اس کی ماں کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے حبس بیجا کی درخواست مسترد کر دی۔عدالت نے غلط بیانی سے کام لینے پر درخواست گزار کو 10ہزار روپے جرمانہ عائدکر دیا

مزید : لاہور