جنرل حمید گل مرحوم اور ایک یادگار سفر!

جنرل حمید گل مرحوم اور ایک یادگار سفر!
جنرل حمید گل مرحوم اور ایک یادگار سفر!

  

میں اپنی گرد آلود ڈائری کے پرانے اوراق دیکھ رہا ہوں۔ یہ 19؍اگست 1999ء کی بات ہے، جب مجھے دوسری بار ناروے کا سفر درپیش تھا۔ اس سفر میں جنرل حمید گل مرحوم اور ان کی اہلیہ بھی میرے ساتھ تھیں۔ ہمیں اسلامک کلچرل سنٹر ناروے نے اپنے مختلف پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اسلام آباد سے برٹش ائیرویز کی پرواز سے روانگی تھی۔ جب میں کاؤنٹر پر پہنچا تو دیکھا کہ تمام کاؤنٹر مسافروں کے ہجوم سے اٹے پڑے ہیں۔ ادھر کسٹم حکام پاکستانی مسافروں کا سامان کھول کھول کر اس طرح بکھیر رہے تھے، جیسے ہر شخص مشکوک ہو۔ بہرحال میرے مختصر سے سامان کی بغیر کھولے ہی کلیئرنس دے دی گئی۔ چیک ان کاؤنٹر پر غالباً میں آخری مسافر تھا۔ معلوم ہوا کہ دوسرے کاؤنٹر پر جنرل حمید گل اور ان کی اہلیہ بھی آخری مسافروں میں شامل تھے۔ ہم تینوں کا ٹکٹ تو اکانومی کلاس کا تھا ،مگر نجانے کیا وجہ ہوئی کہ کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی لڑکی نے بتایا کہ آپ کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اور اب آپ کلب کلاس میں سفر کریں گے۔ ممکن ہے کہ اوور بکنگ کی وجہ سے یا سینئر سٹیزن ہونے کے ناطے ہم لوگوں کو ایڈجسٹ کیا گیا ہو۔ بہرحال تاخیر سے چیک ان ہونا نعمت ہی ثابت ہوا۔ میری سیٹ جنرل حمید گل اور ان کی اہلیہ کے ساتھ ہی تھی۔ امیگریشن کے جھمیلوں سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ لاؤنج میں آگئے۔ حمید گل صاحب حسب معمول تروتازہ تھے۔ جنرل صاحب کی اہلیہ محترمہ سے پہلی مرتبہ تعارف ہوا تھا۔ وہ بہت خوش اخلاق اور انسان دوست خاتون ہیں۔ اپنی عمر اور نقاہت کے باوجود جس طرح سے سفر کے دوران انہوں نے جنرل حمید گل صاحب کی خدمت کی، اسے دیکھ کر احساس ہوا کہ ہماری مشرقی خواتین آج بھی مثالی خواتین ہیں۔

بیگم حمید گل کی گفتگو اور سوال جواب سے معلوم ہوا کہ وہ عقیدے اور عمل میں نہایت پختہ کار مسلمان خاتون ہیں ۔ اس طویل پرواز سے ہمیں پہلے مانچسٹر اور لندن جانا تھا ،پھر لندن سے دوسری پرواز لینا تھی۔ لندن جاتے ہوئے جہاز کو مانچسٹر اترنا تھا۔ یہاں اس کا قیام تقریباً ایک گھنٹے کا تھا جس کے دوران میں بیشتر پاکستانی مسافروں کو اتر جانا تھا۔ اس طویل پرواز کے دوران میں مسافر سوتے رہے یا وقتاً فوقتاً اکل و شرب سے دل بہلاتے رہے۔ اس کلب کلاس میں ایک ائیرہوسٹس اور ایک فلائٹ سٹیورڈ مسافروں کی خدمت کے لئے موجود تھے۔ ائیرہوسٹس برطانوی تھی اور سٹیورڈ کے لب و لہجے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ غیر برطانوی ہے۔ ائیرہوسٹس بڑی صحت مند اور چاق و چوبند ،مگر نہایت باتونی تھی اور جس کسی پسنجر کے ساتھ وہ باتیں شروع کر دیتی، اس کا دماغ ہی چاٹ لیتی۔ چونکہ جہاز میں جگہ بہت کھلی تھی، سیٹیں بھی کھلی کھلی تھیں اور پسنجر بھی کم تھے، اس لئے چلنے پھرنے کی بھی سہولت حاصل تھی۔ جنرل حمید گل صاحب نے تو زیادہ وقت سوتے ہوئے گزارا ،جبکہ میں بیشتر وقت اخبارات کی ورق گردانی کرتا رہا اور کچھ دیر کے لئے استراحت کا مزہ بھی لیا۔ ائیرہوسٹس اور سٹیورڈ جب فارغ ہوتے تو میرے سامنے والی خالی نشستوں پر بیٹھ جاتے اور گپ شپ شروع کردیتے۔ ان کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ سٹیورڈ کا تعلق میکسیکو سے ہے اور اگلے اتوار کو وہ چھٹی پر میکسیکو جارہا ہے۔

ہر چند کہ برطانوی ائیرلائنز میں بہت اچھی شرائط پر ملازمت ملتی ہے۔ [برطانیہ کی موجودہ فی کس آمدنی 46,300 امریکی ڈالر ہے، جبکہ میکسیکو کی فی کس آمدنی 10,325امریکی ڈالر ہے۔]دنیا بھر کا سفر کرنے کے علاوہ دیگر سہولتیں بھی حاصل ہوتی ہیں ،جبکہ میکسیکو نسبتاً ایک پسماندہ ملک ہے۔ اس کے باوجود وطن کی مٹی سے کتنی محبت ہوتی ہے اور اپنی جنم بھومی سے انسان کس طرح ٹوٹ کر پیار کرتا ہے، اس کا اندازہ اس نوجوان کی گفتگو سے ہوا۔جب وہ ائیرہوسٹس کو بتارہا تھا کہ ’’اگلے اتوار کو میں میکسیکو میں ہوں گا، کتنا خوبصورت منظر ہوگا جب میکسیکو کی سرزمین پر قدم رکھ رہا ہوں گا۔ ہر جانب خوشیاں ہوں گی، بہاریں ہوں گی اور ایسا دل افروز منظر ہوگا کہ اس کے تصور ہی سے روح جھوم اٹھتی ہے۔ پرندے گا رہے ہوں گے اور موسیقی کی دھنوں سے ایسا سماں باندھ دیں گے کہ بے ساختہ رقص کرنے کو جی مچل جائے گا‘‘۔۔۔ ان لوگوں کی گفتگو سن کر مجھے اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے دل میں وطن کی محبت کا لافانی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔

برٹش ائیرویز کی فلائٹBA-128 پہلے مانچسٹر کے ہوائی اڈے پر اتری۔ یہاں کوئی نیا مسافر تو کم ہی سوار ہوا، البتہ اسلام آباد سے سوار ہونے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد اتر گئی۔ یہ زیادہ تر پاکستانی لوگ تھے جو برطانیہ میں مقیم ہیں اور اپنی فیملیوں کے ساتھ پاکستان گئے ہوئے تھے۔ یہاں ایک گھنٹے کے قیام کے بعد جہاز اڑا۔ باہر بوندا باندی ہو رہی تھی اور مانچسٹر ائیرپورٹ کے باہر حدنگاہ تک سبز کھیت اور باغات خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ سڑکوں پر بے انتہا ٹریفک تھی۔ جہاز مانچسٹر سے اڑ کر چند منٹ میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر اتر گیا۔ لندن اور مانچسٹر کے درمیان موٹرویز، باغات اور کھیت، چھوٹے چھوٹے قصبات اور شہر عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔ خود لندن ایک وسیع و عریض سمندر ہے۔ لندن کے اوپر پرواز کرتا ہوا جہاز دریائے ٹیمز کے مختلف حصوں کو کراس کرتا ہے۔ جگہ جگہ بنے ہوئے پل عجیب نظارہ پیش کرتے ہیں ،پھر انسانوں کا ہجوم اور ٹریفک جام، ہر جانب شور اور ہنگامہ ،موجودہ دور کی شہری زندگی کے گھمبیر مسائل اور مشکلات کا احساس دلا رہے تھے۔ لندن ائیرپورٹ پر دو گھنٹے قیام کے بعد ہم کو اگلی پرواز سے اوسلو جانا تھا۔ میں نے تو جہاز ہی میں نمازیں پڑھ لی تھیں ،کیونکہ وضو کی سہولت بھی موجود تھی اور جہاز میں جگہ بھی خاصی تھی۔ جنرل حمید گل صاحب نے یہاں ائیرپورٹ پر ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرکے ادا کیں۔ بیگم حمید گل پاکستان ٹیلی فون کرنا چاہتی تھیں۔ چنانچہ وہ فون کرنے پی سی او بوتھ پر چلی گئیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی فون کرکے اپنی خیر خیریت اپنے بچوں کو بتائی اور آتے ہوئے ہمارے لئے مشروبات بھی لے آئیں۔

ہیتھرو ائیرپورٹ ایک بہت بڑے شہر کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے اندر ٹرین بھی چلتی ہے اور بسوں کا بھی ایک لمبا چوڑا روٹ ہے۔ ایک ٹرمینل سے دوسرے ٹرمینل تک کئی میل کا فاصلہ ہے جو بسوں کے ذریعے سے طے کیا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ جس ٹرمینل پر ہمیں جانا ہے، اس کے لئے بس باہر کھڑی ہے۔ ہم لوگ وہاں پر پہنچے تو بس پُر ہوچکی تھی۔ سکھ ڈرائیور لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے روک رہا تھا کہ اب بس میں جگہ نہیں ہے ،دوسری بس کا انتظار کریں، چنانچہ وہ بس چلی گئی۔ دوسری بس آئی تو اس کے ڈرائیور بھی ایک سردار صاحب تھے۔ ہم اس بس میں بیٹھ گئے اور اپنے ٹرمینل تک کا سفر دس منٹ میں طے کیا۔ وہاں پہنچ کر ہمیں نئے بورڈنگ کارڈ دیئے گئے۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد اعلان ہوا کہ ہمارا جہاز تیار ہے۔ ہم جہاز میں سوار ہوگئے جو دو گھنٹے کے بعد اوسلو ائیرپورٹ پر اترا۔ اوسلو ائیرپورٹ بدلا بدلا سا نظر آرہا تھا۔ نیچے کا منظر تو بلاشبہ خوبصورت تھا ہی ،مگر عماراتیں بھی پہلے سے زیادہ پُرشکوہ اور وسیع و عریض تھیں۔ ناروے ایک خوبصورت ملک ہے، اس میں دور تک سرسبز و شاداب جنگلوں کا سلسلہ چلتا ہے، بیچ میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی ہیں اور ساحل سمندر کے ساتھ کئی ایک جھیلیں، چشمے اور کئی ایک ندی نالے نظر آتے ہیں۔ نیا ائیرپورٹ شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے ،جبکہ سابقہ ائیرپورٹ ،جس پر پچھلی مرتبہ اترنے کا اتفاق ہوا تھا، شہر سے بالکل متصل تھا۔ اب وہ متروک ہوچکا ہے ۔معلوم ہوا کہ وہاں کوئی ہاؤسنگ سکیم زیر غور ہے۔

ائیرپورٹ پر اترنے کے بعد ایک لمبا فاصلہ پیدل طے کیا گیا جس کے آگے امیگریشن ہال اور کسٹم ہال کی سلسلہ در سلسلہ عمارتیں تھیں۔ یہاں پر ہمیں جو امیگریشن کارڈ دیئے گئے وہ صرف نارش زبان میں تھے۔ بہرحال اندازے سے ہم نے پُرکئے اور اپنی باری کے لئے قطار میں لگ گئے۔ مختلف کاؤنٹرز پر لوگ باری باری جارہے تھے۔ ہم بھی اپنی باری پر امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے۔ امیگریشن افسر نے نارش زبان میں کچھ کہا، جسے ظاہر ہے میں سمجھ نہیں سکا۔ میں نے انگریزی میں معذرت کی تو وہ بھی انگریزی میں معذرت کرتے ہوئے پوچھنے لگا کہ میرے ناروے آنے کا مقصد کیا ہے؟ میرا قیام کہاں ہوگا؟ اور کتنے دنوں کے لئے مجھے ٹھہرنا ہوگا؟ میں نے اس کے سوالوں کے جوابات دیئے۔ اس نے میری طرف دیکھے بغیر میرے پاسپورٹ پر مہر لگائی اور دعائیہ کلمات کے ساتھ تیزی سے پاسپورٹ میری طرف بڑھا دیا۔ کسٹم کے عملے نے کسی بھی مسافر کا سامان چیک نہیں کیا۔ بغیر چیکنگ کے لوگ باہر جارہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ میری پرانی ڈائری کا ورق تھا۔ اس کے بعد بارہا جانا ہوا اور ہر مرتبہ عملے کے تیور بدلے ہوئے اور رویہ مختلف پایا۔

مزید : کالم