قدم بڑھاؤ ، رحمان ملک!

قدم بڑھاؤ ، رحمان ملک!
قدم بڑھاؤ ، رحمان ملک!

  

’’پانامہ لیکس‘‘ نے نہ صرف پاکستان ،بلکہ دنیا کے کئی ممالک بشمول ہندوستان ’’رونقیں ‘‘ لگا دی ہیں۔ ٹی وی چینلوں اور اخبارات کی موجیں ہوگئی ہیں۔ ہر پروگرام اور ہر کالم اسی موضوع پر لکھا جارہا ہے۔ پانامہ لیکس میں پاکستان سے ’’قابل حسد‘‘ سیف اﷲخاندان چونتیس کمپنیوں کے ساتھ اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔شریف خاندان کی بھی چار پانچ کمپنیاں بتائی جارہی ہیں،آہستہ آہستہ اور بھی نکل رہی ہیں۔اس سلسلے میں ان کی ’’آنیاں جانیاں‘‘ ۔۔۔بلکہ ’’جانیاں‘‘ قابل دید ہیں۔ہندوستان سے امیتابھ بچن اور ان کی خوبصورت بہو کی چار کمپنیاں بتائی گئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بقول ’’بی بی سی‘‘ امیتابھ بچن اور ایشوریا رائے نے کہا ہے کہ ان کی کوئی ’’آف شور‘‘ کمپنی نہیں ہے ،اس لئے براہِ مہربانی اس سلسلے میں شو رنہ مچایا جائے۔ یہی بات اپنے رحمان ملک بھی فرما رہے ہیں کہ ان کا نام ’’را‘‘ کی یا کسی اور کی سازش کی وجہ سے پانامہ لیکس میں ڈالا گیا ہے۔ یقین مانیں ہمیں ان کی اہمیت کا علم ہی پہلی بار ہوا ہے۔روس کے صدر، برطانیہ ، مالٹا، آئس لینڈ ، پاکستان اور دیگر کئی ممالک کے وزرائے اعظم کے ساتھ نام آنا، چاہے منفی سرگرمیوں میں ہی سہی ، ویسے بھی فخر کی بات ہے اور جب یہ علم ہو کہ ملک صاحب کا نام بطور خاص سازش کرکے ڈالا گیا ہے تو ہمیں واقعی ان کے قد کا پہلی بار علم ہوا ہے ۔

دروغ بر گردن ’’پانامہ لیکس‘‘ کہ رحمان ملک نے شہید سابق وزیر اعظم کے ساتھ مل کر ایک کمپنی بنائی جس کی طرف سے عراقی صدر شہید صدام حسین کو دو ملین ڈالر رشوت دے کر بارہ ملین ڈالر کے ٹھیکے حاصل کئے گئے۔غور کیا جائے تو یہ کوئی چھوٹا الزام نہیں ہے کہ سرسری طور پر اس کی تردید کردی جائے۔ یہ ٹھیکے ’’آئل فار فوڈ‘‘ پروگرام کے تحت دیئے گئے، یعنی جو رقم صدام حسین اور رحمان ملک اینڈ کمپنی نے کھائی، وہ رقم عراق کے بھوکے اور بیمار لوگوں کے منہ سے چھینی گئی، جس کے نتیجے میں دوائیں اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے سینکڑوں بچے موت کی وادی میں اتر گئے ہوں گے،جن کی موت کی وجہ یہ اصحاب بنے۔رحمان ملک نے شروع میں کہا کہ وہ عدالت جائیں گے، لیکن بعد میں شایدمصروفیات کی وجہ سے انہیں یاد نہیں رہا،بہرحال ہمیں یقین ہے کہ وہ سچ بول رہے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے ’’رہنما‘‘ ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہم اس قوم کے فرد ہیں جس کو ’’رہنما‘‘ چاہئے، ’’منزل‘‘ نہیں۔

رحمان ملک کے متعلق ایک اور گھناؤنی سازش بھی منظر عام پر آئی ہے ،وہ یہ ہے کہ برطانوی حکومت نے انہیں بطور پاکستانی وزیر داخلہ اس بات کے دستاویزی ثبوت دیئے کہ الطاف حسین نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں ۔ رحمان ملک نے بجائے اس کے کہ یہ بات فوج اورمقتدر حلقوں کے علم میں لاتے ، الٹا الطاف حسین کو ہلا شیری دی کہ ’’لگے رہوالطاف بھائی‘‘ میری برطانوی انڈر سکیرٹری سے بات ہوگئی ہے ، تمہیں کوئی نہیں چھیڑے گا۔ اس کے بعد رحمان ملک نے اس بات یا راز کو بطور بلیک میلنگ ہتھیار استعمال کیا اسی لئے تو متحدہ بار بار پیپلز پارٹی کی حکومت سے بغاوت کرکے واپس آنے پر مجبور ہوتی رہی ، شائد اسی ’’حسن کارکردگی‘‘ کے نتیجے میں موصوف کو ’’تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ بہرحال ہم رحمان ملک کے بیان سے سو فیصد متفق ہیں کہ ان کے خلاف سازش کی گئی ہے اور وہ بھی ’’گھناؤنی‘‘ ۔۔۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کو پاکستان نے اتنی عزت بخشی ہو، اسے تمغہ سے نوازا ہو ، اس کو فرض سونپا ہو کہ تم نے داخلی طور پر میری حفاظت کرنی ہے اور اس کے عوض اسے کروڑوں روپے سالانہ کی ’’جائز‘‘ مراعات بھی حاصل ہو ں اور اسے قدرت نے اپنے ملک کی محبت کا حق ادا کرنے کا سنہری موقع بھی عطاء کیا ہو کہ خود برطانیہ سرکاری طور پر ثبوت کے ساتھ دو مرتبہ اسے آگاہ کرے کہ تمہارے پاک وطن سے غداری اور دشمنی کی جارہی ہے، اس کا کچھ مداوا کرو اور وہ شخص اپنے حلف کو بھول کر، اسے بالائے طاق رکھ کرخود بھی ’’را کے ایجنٹ‘‘ سے مل جائے۔ ناممکن، ناممکن ،ناممکن!!

رحمان ملک نے پہلے الزام کندہ ’’مصطفی کمال‘‘ نامی شخص کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اس کے خلاف عدالت جائیں گے۔ کتنے دن ہوگئے ہیں، رحمان ملک ’’مصروفیات‘‘ کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکے اور بقول مصطفی کمال وہ بے چینی سے ان کے کا عدالت جانے کا نتظار کررہے ہیں۔ اب پھرانہوں نے شہر یار خان نیازی کی طرف سے لگائے گئے الزامات پران کے خلاف عدالت جانے کا ’’عندیہ‘‘ ظاہر کیا ہے۔ رحمان ملک ہمارے رہنما، یعنی ہمیں ’’سیدھا راستہ دکھانے والے‘‘ ہیں ، ہم سے برداشت نہیں ہورہا کہ کوئی ان کے خلاف جھوٹے اور گھناؤنے الزام لگائے اور وہ صرف ’’عندیہ‘‘ ہی ظاہر کریں۔ہماری اپنے رہنما سے گزارش ہے کہ ’’صرف عندیہ‘‘ سے بات نہیں بنے گی ، مخالفین کو منہ توڑ جواب دینے کا وقت آ پہنچا ہے۔ آپ کی شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کچھ عاقبت نااندیش لوگ سیکیورٹی اداروں کو بھی پکار رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کی توجہ آپ کی طرف ہوجائے ، آپ ہی پیش قدمی کرکے، ساری مصروفیات، اجلاس اور دورے منسوخ کرکے ان سازشی لوگوں کو عدالت میں گھسیٹیں ،تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ ہمارے لیڈر رحمان ملک کے اپنے کہنے کے مطابق یہ سب ان کے خلاف سازشیں ہیں اور وہ معصوم اور بے گناہ ہیں۔ ہم ان کے اس بیان سے سو فیصد متفق ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایسا ہی ہے، اسی لئے تو ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ ’’قدم بڑھاؤ رحمان ملک، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ ۔

مزید : کالم