پاکستان تین سال کے قلیل عرصہ میں سوئی سے فائٹر جہاز تک تمام دفاعی سامان تیار کرنے والے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا:وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

پاکستان تین سال کے قلیل عرصہ میں سوئی سے فائٹر جہاز تک تمام دفاعی سامان تیار ...
پاکستان تین سال کے قلیل عرصہ میں سوئی سے فائٹر جہاز تک تمام دفاعی سامان تیار کرنے والے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا:وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

  

لاہور(خبر نگار خصوصی)دفاعی امور اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار میں افواج پاکستان کی 80فیصد ضروریات پوری کر رہا ہے تین سال کے قلیل عرصے میں ہم سوئی سے فائٹر جہاز تک تما م دفاعی سامان تیارکرنے والے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گئے ہیں اور امریکہ سمیت وسطی ایشیاءافریقی اور یورپی ممالک کو چھوٹے بڑے ہتھیار فروخت کر رہے ہیں۔دفاعی پیداوار کی برآمدات 25ملین ڈالر سے بڑھ کر 100ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں ۔یوں ہم دنوں کے ان 10ممالک میں بھی شامل ہو گئے ہیں جو مشاق طیارے تیار کر رہے ہیں پاکستان دنیا کے8 ممالک سے جدید ہتھیاروں سمیت ماڈرن تکنیکی صلاحیتوں کے حامل ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ کر ہا ہے ہمارے ہاں تیار کردہ جدید ہتھیار معیار میں اعلیٰ اور قیمت میں نہایت کم ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مدیران اخبارات کی تنظیم لاہور ایڈیٹر ز کلب کی راو¿نڈ دی ٹیبل کانفرنس سے خطاب کے دواران کیا ۔تقریب میں عطاالرحمٰن،سجاد بخاری،ممتاز طاہر،نوید چوہدری،نعیم مصطفی ،رحمت علی رازی ،میاں حبیب اللہ،اسد فیروز،خواجہ منور،عدنان ظفر ،شفقت محمود سمیت دیگر سنئیر صحافیوں نے شرکت کی جبکہ تقریب کی صدارت کلب کے سربراہ ضیاءشاہد نے کی ۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم ایم ای آر ڈی میں ڈرون طیارے بھی تیار کر رہے ہیں جو افواج پاکستان کے زیر استعمال ہیں ہماری ڈیفنس انڈسٹری ایڈوانس سٹیج پر ہے ایف16کی طرز پر جے ایف 17فائٹر ز بھی بنائے جا رہے ہیں۔مشاق ایٹ جہاز اور جے ایف 7اپنی طرز کی بہترین ٹیکنالوجی ہے جو ہتھیار ہماری ضرورت سے زائد ہوتے ہیں انہیں قطر ،نائجیریا،عراق اور اردن بھجوایا جا رہا ہے جبکہ ترکی کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت کا ایک وسیع معاہدہ بھی زیر تکمیل ہے ہم اور بھی بہت کچھ کر رہے ہیں لیکن مصلحت کے تحت انہیں پبلک نہیں کیا جا سکتا چونکہ ایسا کریں تو ہمارے مخالفین سرگرم ہو گئے ہیں اس سوال پر کہ کیا دفاعی پیدوار اور ہتھیاروں کی فروخت پر پاکستان کو کسی دباو¿ اور پابندیوں کا سامنا ہے اس پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسا قطعاً نہیں ہے تاہم امریکہ کی حد تک ہمیں چند ایک مجبوریوں کا سامنا ہے چونکہ امریکہ پاکستان کے دفاعی معاملات کے حوالے سے ہم پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے ہم نے ضرب عضب کے دوران جے ایف 17کا استعمال کیا جس کے بہتر نتائج برآمد ہوئے۔پاکستان نے چین سے جو 2جہاز لیے تھے ہم نے اس سے کہیں بہتر 2جہاز خود بھی تیار کیے ہیں ۔ہم نے دفاعی پیداواری ایکسپورٹ کے ذریعے اربوں روپے کمائے اور بچائے بھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ دفاع کےلئے استعمال کیے جانیوالے تمام ہتھیار اور آلات100فیصد ہم خود ہی تیار کریں ۔پہلے ہتھیاروں سمیت دیگر دفاعی آلات کےلئے کم و بیش ایک ہزار این او سی جاری کروائے جاتے تھے اب یہ تعداد کم ہو کر 100پر آگئی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نے درآمدات پر برآمدات کو کس طرح ترجیح دی ہے،رانا تنویر حسین کے بقول پاکستان کے پاس اٹیک ہیلی کاپٹر یعنی گن شپ نہیں ہیں ترکی بھی اس قسم کے اٹیک کاپٹر امریکہ سے لے کر استعمال کر رہا ہے۔پاکستان کے پاس نیو کلئیر سمیت ہر دفاعی ہتھیار موجو دہے ہم دفاعی صنعت کی ری سٹرکچرنگ کر رہے ہیں اور اس میں کارپوریٹ کلچر کو شامل کرنا چاہتے ہیں ۔میں نے اس حوالے سے خاصی کوشش کی ہے کہ لیکن بعض اوقات بے بسی کا عالم ہوتا ہے اور بعض مجبوریاں بھی آڑے آ جاتی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ میر اخیال یہ ہے کہ پروفیشنل افراد کی ایک باقاعدہ کمپنی قائم ہونی چاہیے جو مارکیٹ میں جا کر پاکستان کی دفاعی پیداوار کے حوالے سے ریسرچ کرے اور دنیا بھر میں ہماری دفاعی پیداوار کی مارکیٹنگ بھی کی جائے۔جہاں تک افواج پاکستان کا تعلق ہے تو انہیں ہماری دفاعی پیداوار کا پور ا ادراک ہے اور وہ اس کے معترف بھی ہیں ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہماری وزارت کے تحت14ادارے اور 2یونیورسٹیاں کامسٹس اور نسٹ کام کر رہی ہیں یہ دونوں یونیورسٹیاں تحقیق کے میدان میں عالم گیر شہرت کی حامل ہیں کامسٹس قائد اعظم یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے بعد ریٹنگ میں تیسرے نمبر کا اداراہ ہے ہماری وزارت نے فوڈ آئٹمز کےلئے حلال اٹھارٹی بھی قائم کی ہے جو 25ملین ڈالر کا مختلف قسم کا گوشت ایکسپورٹ کرتی ہے۔حلال گوشت ایکسپورٹ کرنے والوں میں 10غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں ہماری کوشش ہے کہ حلال اتھارٹی کے تحت حلا ل گوشت میں بھی اپنا حد ف جلد حاصل کر لیں اس شعبے میں جی ڈی پی کا 0.29فیصد خرچ آتا تھا ہم اس میں نئی ایڈوانس ریسرچ ٹیکنالوجی لا رہے ہیں میں نے وفاقی وزیر خزانہ کو بجٹ میں اس مقصد کےلئے جی ڈی پی کا 5فیصد مختص کرنے کےلئے کہا تھا جس پر انہوں نے معذرت کی تاہم آئندہ بجٹ میں یہ رقم عشاریہ 5فیصد کر دی جائے گی۔ہم ہر شعبے میں تبدیلی اور بہتری لائے ہیں2018تک ہماری حکومت کے اصل کارنامے اور ان کے نتائج عوام کے سامنے ہونگے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم آبدوزوں کےلئے ایک وسیع سنٹر بنا رہے ہیں جس میں پرانی آبدوزوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئی آبدوزیں بھی بنانا شروع کر دیں گے جبکہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت عالمی یونیورسٹی بھی قائم کی جا رہی ہے۔20ٹیکنیکل اداروں کو ملا کر ووکیشنل یونیورسٹی جلد بن جائے گی ہم پاک میڈ ہتھیاروں اور آلات کی نمائش بھی کروا رہے ہیں جبکہ ملائشیا میں ماہ رواں کے دوران ہونے والی دفاعی نمائش میں پاکستانی مصنوعات کا سٹال بھی لگائیں گے جس میں شمولیت کےلئے سروسز کے اعلی افسران وہاں پہنچ چکے ہیں اور میں بھی ایک دو روز میں جا رہا ہوں ۔پاکستان کے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے وفاقی وزیر کا کہناتھا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں تاہم اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو کچھ مشکلات درپیش ہیں ہم نے اس ترمیم کے ذریعے پانچ پاکستان بنا ڈالے ہیں ۔صوبائی خود مختاری ضرور ہونی چاہیے لیکن وفاق کو بھی کمزور کرنا دانشمندی نہیں ۔ڈیوولیشن پلان نے ملکی سسٹم تباہ کر دیا ہے وفاقی حکومت کی رٹ ختم ہوتی جا رہی ہے یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے ہمیں اٹھارہویں ترمیم کو ری وزٹ کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس ترمیم کے حوالے سے کچھ عرصہ بعد پتا چلے گا کہ ہم نے کیا کھویا ہے۔

مزید : لاہور