لیبیا کے لئے امریکی حکمت عملی

لیبیا کے لئے امریکی حکمت عملی
لیبیا کے لئے امریکی حکمت عملی

  

امریکی صدر بارک اوباما نے 10اپریل کو امریکی ٹی وی’’ فوکس نیوز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی آٹھ سالہ حکومت کی کامیابیوں اور نا کامیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا ہے کہ لیبیاکی صورت حال کا صحیح طور پر ادراک نہ کر پا نا ان کے دور صدارت کی سب سے بڑی غلطی رہی۔گزشتہ ما ہ بھی ’’ اٹلانٹک میگزین‘‘ کو انٹرویو دیتے ہو ئے اوبا ما نے لیبیا کے حوالے سے امریکی پا لیسی کو بڑی غلطی قرار دیا تھا،تاہم لیبیا پر اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے با وجود اوباما نے اسی ماہ 5اپریل کو وائٹ ہا وس میں میڈیا سے با ت چیت کرتے ہو ئے یہ موقف اختیا ر کیا کہ امریکہ اور نیٹو ممالک لیبیا پر نئے حملے کرنے کے لئے سوچ بچا ر کر رہے ہیں۔اس مقصد کے لئے اوبا ما نے اسی روز نیٹو کے جنرل سیکرٹری جینز سٹولٹن برگ سے بھی ملا قات کی ۔سٹولٹن برگ نے واضح طور پر عندیہ دیا کہ لیبیا پر حملے کے لئے نیٹو مکمل طور پر ہا ئی الرٹ ہو چکی ہے اور احکامات ملتے ہی لیبیا پر حملوں کا آغاز کر دیا جا ئے گا ۔5اپریل کو ہی امریکی میڈیا نے واضح کیا تھا کہ امریکی عسکری ما ہرین افریقی کما نڈ کے ساتھ مل کرلیبیا میں اجدابیاسبراتھا، درناکے علاقوں میں با قاعدہ حملوں کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی خبر کے مطابق امریکی سپیشل آپریشن فورسز، فرانسیسی اور برطانوی سپیشل فورسز کے ساتھ اس حوالے سے با قاعدہ تعاون کا بھی آغاز کر چکی ہیں۔

حال ہی میں فیض السراج کی قیا دت میں نئی حکو مت کو تشکیل دینے کا ایک اہم سبب یہی بتا یا جا رہا ہے کہ السراج حکو مت امریکہ اور اس کے اتحا دی ممالک سے لیبیا پر حملہ کرنے کے لئے با قاعدہ طورپر درخواست دے۔ امریکی اور یورپی طاقتوں کا لیبیا پر حملوں کا بنیا دی مقصد یہی ہے کہ دارالحکومت’’ طرابلس‘‘ میں اپنی حامی حکومت کے لئے دوبا رہ کنٹرول حاصل کیا جا ئے اور اس کے ساتھ ساتھ تیل کے اہم انفراسٹرکچر پر بھی اپنے کنٹرول کو مضبوط بنایا جا ئے۔لیبیا کے حوالے سے امریکی پا لیسوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ امریکہ لیبیا میں اپنے کنٹرول کو مضبوط بنا کر اس کے ذریعے براعظم افریقہ کے دیگر علا قوں میں اپنے سامراجی عزائم کی مو ثر طور پر نگرانی کر نا چاہتا ہے۔ امریکی جنرل ٹونی تھا مس نے ما رچ میں امریکی کا نگرس کو بتا یا تھا کہ امریکہ لیبیاکے لئے مخصوص عزائم رکھتا ہے ،کیو نکہ لیبیا میں امریکی آپریشن افریقہ کے کسی بھی اور ملک میں آپریشن کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ لیبیاپر حملے کے لئے اٹلی بھی نہا یت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اپنی اس سابقہ کا لو نی پر حملے کے لئے اٹلی نے نیٹو کو یقین دلا یا ہے کہ ممکنہ حملے میں اٹلی آدھے سے زیادہ وسائل فرا ہم کرے گا ،بلکہ لیبیا پر ممکنہ حملے کے لئے اٹلی نے 6000 فوجیوں کو زمینی کار روائیوں کے لئے ابھی سے ہی مکمل طور پر تیا ر رہنے کا حکم دے دیا ہے،جبکہ گزشتہ پا نچ سال سے لیبیا میں جاری ڈرون حملوں کو اٹلی کے خود مختار علاقے سسلی سے ہی کنٹرول کیا جا تا ہے۔

یہاں پر بنیا دی سوال یہی پیدا ہو تا ہے کہ لیبیا کے حوالے سے امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کی حکمت عملی کس حد تک کامیاب رہے گی؟اس سوال کے جواب کے لئے ہم حال ہی میں اس امریکی حکمت عملی کا جا ئزہ لیتے ہیں، جس کے تحت امریکہ نے اقوام متحدہ کا سہا را لے کر فیاض السراج کی قیادت میں حکو مت قائم کر وائی۔اس مقصد کے لئے فیا ض السراج 6اپریل کو تیونس سے اپنی جلا وطنی ختم کرکے بحری جہاز کے ذریعے لیبیا پہنچے۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر فیاض السراج کو اس لئے لیبیا بھیجا گیا ہے تا کہ وہ نا م نہا د اتحا دی حکومت کی سربرا ہی کر سکیں۔فیا ض السراج کو جس ملک کی قیا دت سنبھالنے کا کہا جا رہا ہے۔ وہا ں اس وقت کم از کم دو متوازی حکو متیں اور پا نچ بڑے مسلح گروپوں کے مابین خانہ جنگی جا ری ہے۔فیاض السرا ج کو اس وقت لیبیا کے مشرقی علا قے طبروق میں قائم پا رلیمنٹ کی حما یت حاصل ہے، اس پا رلیمنٹ کو امریکہ اور اس کے اتحا دی قانونی تسلیم کر تے ہیں،جبکہ طبروق کی اس پا رلیمنٹ کے مد مقابل طرابلس میں ایک اور پا رلیمنٹ قائم ہے جس میں اخوان المسلمین کی حما یت کے ساتھ خلفیہ الغویل کو اکثریت حا صل ہے۔الغویل کی اس حکومت کو جنرل ہفتار کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ہفتار معمر قذافی کے دور میں اہم دفاعی عہدوں پر تعینات تھے اور 2011ء میں انہوں نے سی آئی اے کی مدد سے قذافی کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جنرل ہفتا ر ا طرابلس میں قائم پا رلیمنٹ اور فیاض السراج کی حکومت کو تسلیم کر نے کے لئے تیا ر نہیں ہیں۔الغویل نے تو السراج کو روکنے کی ہر ممکن کو شش کی۔طرابلس میں ایمر جنسی کا نفاذکر دیا گیا۔ شہر کے ائر پورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔الغویل نے با قا عدہ طور پر اعلان کیا کہ فیاض السراج اپنے آپ کو اس کی حکومت کے سامنے سرنڈر کر دے یا پھر تیونس واپس چلا جائے۔

یہاں اس با ت کا ذکر کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ امریکہ اور یو رپی حما یت یا فتہ لیبیا کے اس وزیر اعظم فیا ض السراج کو لیبیا میں داخل ہو نے کے بعد تین دن تک ابوستا کے ایک بحری بیس میں ہی چھپ کر رہنا پڑا ،کیونکہ طرابلس جا نے والی سڑکو ں کو الغویل کے حامیوں نے بند کیا ہو ا تھا۔اس ساری صورت حال کے با عث طرابلس شہر کے اندر فیاض السراج اور الغویل کے حامی گر وپوں کے مابین زبر دست جھڑپیں بھی ہو ئیں۔ جن میں 10سے زائد افراد ہلا ک ہو ئے۔اس ساری صورت حال کو دیکھ کر یہ اندا زہ لگا نا زیا دہ مشکل نہیں کہ لیبیا میں امریکہ کے سامراجی عزائم مستقبل قریب میں پو رے ہو تے دکھا ئی نہیں دیتے۔جس طرح امریکہ کو کا بل میں 2001ء اور بغداد میں2003ء کے حملوں کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہی درپیش تھا کہ اپنی قابض افواج اور کٹھ پتلی حکومتوں کے لئے ’’گرین زون‘‘کے علاقے بنا ئے جا ئیں۔ آج امریکہ کو ویسی ہی مشکلا ت کا سامنا لیبیا میں کر نا پڑ رہا ہے۔اور تا حال اس امر کے کو ئی آثا ر بھی نظر نہیں آرہے کہ امریکہ اور اس کے یو رپی اتحادی اپنے حامی فیا ض السراج کی حکومت کے لئے طرابلس میں کو ئی گرین زون بنا پا ئیں گے۔

دراصل لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی جن مسائل کا شکا ر ہیں وہ خود انہی کے پیدا کر دہ ہیں۔سامراجی ممالک نے 2011ء میں اپنے مقاصد کے لئے لیبیا میں القاعدہ سمیت دیگر جہا دی گرو پوں کو امداد فراہم کی ۔پا نچ سال قبل لیبیا پر حملے کے لئے یہ مو قف اختیا ر کیا گیا کہ ’’بن ٖغازی‘‘ میں قذافی کی حامی فوج مخالفین پر ظلم کے پہاڑ تو ڑ رہی ہے، مگر اس کے بدلے میں لیبیا پر نیٹو کے حملے سے اب تک 30ہزار عام افراد ہلا ک ہو چکے ہیں۔65لاکھ کے لگ بھگ آبا دی والے ملک لیبیا میں 20لاکھ افراد اس خانہ جنگی کے با عث جلا وطن ہو نے پر مجبور ہو ئے۔لیبیا کا ہر شہر تبا ہ ہوا۔اس ملک کی پُرشکوہ تہذیب تباہ و برباد ہوئی۔تعلیم وصحت کا نظام بر با د ہو گیا۔ ’’دی اکانومسٹ‘‘ نے ابھی حال ہی میں لیبیا کو ایک ایسا ملک قرار دیا ہے جس کی معیشت دنیا کے کسی بھی اور ملک کے مقابلے میں تیزی کے ساتھ انحطاط کا شکا ر ہو ئی۔اس ساری صورت حال کے با وجود امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کو چین نہیں آیا ۔ تیل کی لوٹ مار اور دوسرے سامراجی عزائم کو پورا کر نے کے لئے پہلے سے تبا ہ حال لیبیا پر مزید حملے کر نے کے منصوبے بنا ئے جا رہے ہیں۔امریکہ ، لیبیا کے حوالے سے اپنے عزائم پو رے کر پا ئے گا یا نہیں؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا، تاہم ایک با ت طے ہے کہ عراق، افغانستان اور شام کی طرح لیبیا کے عام انسانوں پر بھی ابھی ظلم کے با دل چھائے رہیں گے۔

مزید :

کالم -