لوہے کے خول

لوہے کے خول
لوہے کے خول

  

پاناما لیکس میں اور بھی بہت سے ممالک کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا نام آیا ہے، مگر کسی اور ملک کی سیاست میں اس طرح کا بھونچال نہیں آیا، جیسا ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔ کسی اور ملک کی سیاست اور حکمران اس طرح لندن بھی منتقل نہیں ہوئے، جس طرح ہمارے حکمران ہو چکے ہیں۔کیاعجیب صورت حال ہے کہ ہمارے ملک میں نہ تو بیماریوں کا علاج ہے اور نہ سیاسی بحرانوں کا، سب کچھ بیرون ملک پڑا ہے اور اقتدار کے دنوں میں پاکستان کو اپنی اول و آخر منزل سمجھنے والے اقتدار سے محرومی کے دنوں میں لندن ،دبئی یا نیویارک کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی بھی بحران اتنا شدید ہوتا نہیں،جتنا اسے خوفزدہ سیاستدان بنا دیتے ہیں۔ مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بجائے اسے تعطل میں ڈال کر سمجھا جاتا ہے کہ جان چھوٹ جائے گی، مگر حقیقت سے نظریں چرانا اسے مزید شدید اور خونخوار بنا دیتا ہے۔ مَیں نہیں کہہ سکتا کہ پاناما لیکس کے بعد جو کچھ ہوا، اس میں کس کی جیت ہوئی اور کس کی ہار، مجھے تو اس بات کی فکر ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے بہت سے اہم کام رک گئے ہیں یا ان کی طرف سے توجہ ہٹ گئی ہے۔

ابھی کچھ ہی روز پہلے ’’را‘‘ کا حاضر سروس ایجنٹ پکڑا گیا تھا۔ یہ پاناما لیکس سے بھی بڑا معاملہ ہے، لیکن آج اس کا ذکر بھی کوئی نہیں کرتا۔ سب کو آف شور اکاؤنٹس سے دلچسپی ہے یا پھر اس بڑھک بازی سے جو دھرنے دینے اور دھرنے روکنے کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ افواہیں تو آندھی کی طرح چل رہی ہیں اور ان کا چلنا بنتا بھی ہے، وزیراعظم نوازشریف نے حالیہ دنوں میں اپنے دو اہم غیر ملکی دورے منسوخ کئے ،جن میں امریکہ کا دورہ بھی شامل تھا۔ اب اچانک انہوں نے طبیعت کی ناسازی کو بنیاد بنا کر لندن جانے کا فیصلہ کیا،اس لئے چہ میگوئیاں تو ہونی تھیں۔ انہوں نے پاکستان سے روانہ ہوتے وقت کوئی بیان نہیں دیا، تاہم ہیتھرو ائیرپورٹ پر یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ واپس آکر پھر اسی شد و مد سے ملک کی خدمت کریں گے، جیسے پہلے کرتے رہے ہیں۔

کیا وزیراعظم لمبے عرصے کے لئے بیرون ملک گئے ہیں؟ یہ سوال آج کل زبان زدِ عام ہے۔ کوئی بھی سرکاری دورہ متعینہ مدت کا ہوتا ہے، جس کے بعد سربراہ حکومت کو ملک واپس آنا پڑتا ہے، مگر جب ذاتی وجوہات یا بیماری کی وجہ سے دورہ نجی نوعیت کا ہو تو اس کی مدت کا کوئی تعین نہیں ہوتا۔ سو یہی صورتِ حال وزیراعظم نوازشریف کے حالیہ دورے کی بھی ہے۔ خود وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہہ چکے ہیں کہ جب وزیراعظم کا علاج مکمل ہو جائے گا، وہ ملک واپس آ جائیں گے۔ ایک سربراہ حکومت کا اس طرح غیر معینہ مدت کے لئے ملک سے باہر جانا حکومتی امور پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے؟ اس بارے میں کچھ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

جہاں سب سے گرما گرم موضوع یہ ہو کہ وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی لندن میں ملاقات ہوگی یا نہیں؟ وہاں غیر سنجیدگی کے بارے میں کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں جب شیدا ریڑھی والا بھی واٹس اپ کے ذریعے ویڈیو کال کرلیتا ہے، یہ کہنا کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری چھپ کر ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ان کی ملاقات نہ ہوئی تو وہ ایک دوسرے کو اپنا مدعا نہیں پہنچا سکیں گے، احمقانہ سی بات لگتی ہے۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی بھی شخض کسی بھی آدمی سے جب چاہے آدھی نہیں، پوری ملاقات کر سکتا ہے۔ خود حکمران اب وڈیولنک کے ذریعے سیمینار اور کانفرنسیں کرتے ہیں، اس لئے اس نان ایشو کو چھیڑنے کی بجائے کہ نواز زرداری ملاقات ہوگی یا نہیں؟ اس پہلو پر توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان کے حالات کو بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ مَیں پہلے بھی اپنے کالموں میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جب تک ہم اپنے داخلی حالات کو بہتر نہیں بناتے، یہاں احتساب اور عدل و انصاف کو رائج نہیں کرتے، اس وقت تک باہر جو کچھ بھی ہوتا رہے،ہمارے یہاں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔۔۔ مثلاً پاناما لیکس کی وجہ سے اُٹھنے والے شور شرابے کا اس کرپشن پر تو کوئی اثر نہیں پڑا، نہ پڑ سکتا ہے، جو ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔ یہاں کی کرپشن کو روکنے کے لئے تو یہاں قائم ادارے ہی کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں جووہ ادا نہیں کر رہے۔ کیا آف شور کمپنیوں کے ذریعے جو پیسہ باہر بھیج دیا جائے، وہی کرپشن ہے۔ جن لوگوں نے کرپشن کے مال سے پاکستان کے اندر اربوں روپے کی جائیدادیں بنائی ہیں، ان کا کوئی احتساب نہیں ہوگا؟

مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ آج کل یہ بڑی بڑی مثالیں دی جا رہی ہیں کہ فلاں ملک کا وزیراعظم پانامہ لیکس میں نام آنے پر مستعفی ہو گیا یا برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون کی پارلیمنٹ نے ان کی خوب بے عزتی کی۔ کیا ان ممالک میں باقی کرپشن بھی اسی نوعیت کی ہے، جو ہمارے نظام کا جزولاینفک بنی ہوئی ہے۔ وہاں تو واقعی پاناما لیکس جیسے انکشافات ایک شرمناک عجوبے کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ انہونی بات کیسے ہو گئی۔ اگر شریف فیملی کا پاناما لیکس میں نام نہ آتا تو کیا تب بھی ہماری سیاسی اشرافیہ اسی طرح کا شدید ردعمل ظاہر کرتی؟پھر تو سب اسے معمول کی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے۔جس قسم کا ہنگامہ خیز منظر نامہ اس آف شور نامی کرپشن پر دکھائی دے رہا ہے، اگر یہی سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو کر پاکستان کے اندر موجود اوپر سے نچلی سطح تک کی کرپشن کو ختم کرنے کے لئے زور لگائیں، قانون سازی کریں، اپنے اندر موجود کرپٹ مافیا کو نکالیں، کرپٹ افراد کو انتخابات میں ٹکٹیں نہ دیں، سرکاری افسروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا اجر انہیں کرپشن کی کھلی چھٹی کی شکل میں نہ دیں اور پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کے لئے اسے اپنے منشور کا بنیادی نکتہ بنا لیں تو پاکستان کے سارے مسائل ہی حل ہو جائیں،

غالب کا ایک شعر ہے:

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

اب جو گہرائی و گیرائی غالب کے اس شعر میں ہے، وہی میری اس بات میں ہے کہ اگر ہم پاناما لیکس جیسے واقعات کو روکنا چاہتے ہیں، تو پھر ہمیں اپنے ملک کے اندر موجود کرپشن کو ختم کرنا پڑے گا۔ فسادِ خون سے پھوڑے نکلتے ہوں تو اس کا علاج پھوڑے کو چیرہ دینا نہیں، بلکہ فسادِ خون کو ٹھیک کرنا ہے،جس طرح غالب نے کہا تھا کہ شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دینا، کیونکہ وہ وہاں سے پھولوں اور پھلوں کا رس چوسے گی، پھر اس سے اپنا چھتہ بنائے گی، چھتے سے موم بنے گا، موم سے موم بتی تیار ہوگی اور جب وہ موم جلے گی تو اس پر پروانے آئیں گے اور جل مریں گے۔ تو صاحبو! لندن میں ہونے والے سیاسی ڈرامے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کرپشن ختم ہو جائے، ایساہوتا تو بات پاکستان میں بیٹھ کر ہوتی۔ وہاں تو بس سیاسی جوڑ توڑ اور پھر اپنی اپنی شرائط پر مک مکا کی صورت ہوگی۔ چار چھ دن بعد پانامہ لیکس کی گرد بھی بیٹھ جائے گی۔ سب کچھ جوں کا توں رہے گا، لوگ دفتروں میں کرپٹ نظام کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے، عدالتوں میں انصاف بکتا رہے گا، ظلم و زیادتی کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ زیردست بالادست کے درمیان تفریق جاری رہے گی، اس لئے مَیں تو کہتا ہوں وزیراعظم محمد نوازشریف نے ٹھیک ہی کیا ہے۔ وہ بیماری کی وجہ سے لندن چلے گئے ہیں۔ اگر وہ پاناما لیکس یا کرپشن کے الزام میں ملک سے جاتے تو خوامخواہ یہاں یہ امید بندھ جاتی کہ جب وزیراعظم کرپشن کے الزام پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں تو ملک میں موجود کرپٹ مافیا کیسے اپنی کرپشن جاری رکھ سکتا ہے؟پاناما لیکس والوں کو جلد پتہ چل جائے گا کہ وہ جو مرضی کرلیں ہمارے نظام میں موجود کرپشن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے کرپشن پروف لوہے کے خول پہن رکھے ہیں۔

مزید :

کالم -