قائد اعظمؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے ؟

قائد اعظمؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے ؟
قائد اعظمؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے ؟

  

پچھلے ہفتے پاکستان کے مشہور تھنک ٹینک سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام ’’پاکستان ایک حقیقی اسلامی،جمہوری اور فلاحی ریاست کیسے بنے‘‘کے موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیاگیا جس میں کثیر تعداد میں اہلِ دانش ،اہلِ علم اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔ اس سیمینار سے جسٹس (ر) میاں اللہ نواز ، پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد ، جنرل (ر)راحت لطیف ،جناب قیوم نظامی،سید فیروز شاہ گیلانی ایڈووکیٹ اور سٹیزن کونسل آف پاکستان کے صدر رانا امیر احمد خان نے خطاب کیا ۔ اس تقریب کے افتتاحی کلمات اداکرنے کا اعزازراقم الحروف کو حاصل ہوا جو کچھ یوں تھے۔

جنابِ صدر، معزز خواتین وحضرات! آج کے سیمینار کا موضوع ہے ’’پاکستان قائداعظمؒ کے ویژن اور تصورات کی روشنی میں ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت کیسے بنے۔‘‘ اِس موضوع پر گفتگوکرنے کے لئے ہمارے درمیان بہت بڑی بڑی عالم وفاضل شخصیات موجود ہیں اور ہم سب اُن کے خیالات سننے کے لئے بیتاب ہیں ، لیکن میں اِس سے قبل آپ کو اُن جذبوں اور قربانیوں کی چند جھلکیاں دکھاناچاہتاہوں جن کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔اسے آپ سیمینار کے اصل موضوع کا ابتدائیہ کہہ سکتے ہیں۔ اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب ان جذبوں اور قربانیوں کے بارے میں مجھ سے کہیں زیادہ اچھی طرح واقف ہیں، تاہم یہاں ان جھلکیوں کو دکھانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ قائد اعظمؒ کے تصورات کی روشنی میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے سے پہلے اپنی یادداشتیں تازہ کرلی جائیں کہ پاکستان کیوں اور کیسے بنا اوریہ کہ بانئپاکستان حضرت قائد اعظمؒ کا تصورِپاکستان کیاتھا۔

خواتین وحضرات! ذرا چشمِ تصور میں اپنے آپ کو اگست 1947ء کی ایک دوپہر واہگہ بارڈر پر لے چلئے۔ اندرون بھاٹی گیٹ کے باسی اورتحریکِ پاکستان کے ایک سرفروش مجاہد مستری قمر دین کی ڈیوٹی رضاکاروں کے انچارج کے طور پر واہگہ بارڈر پر مہاجرین کو خوش آمدید کہنے اور اُن کے لئے مزید انتظامات کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ ان کی موجودگی میں جو پہلا مسلمان مہاجر پاکستان میں داخل ہوتاہے وہ اپنے سامنے پاکستان کا ہلالی پرچم لہراتادیکھتا ہے اور اُس کا چہرہ خوشی سے تمتااُٹھتاہے ۔ وہ مستری قمر دین کی طرف بڑھتاہے اور پوچھتاہے ’’پُتر ۔ پاکستان آگیااے؟‘‘ مستری قمر دین جواب دیتاہے ’’ہاں باباجی۔آپ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان کے اندر کھڑے ہیں ۔‘‘ اس شخص کی زبان سے فی الفور لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ نکلتاہے اور اس کے ساتھ ہی اُس کی جان نکل جاتی ہے۔

خواتین وحضرات ! آئیے اب ذرا لاہور ریلوے سٹیشن پر آجائیے :دہلی سے روانہ ہونے والی مہاجروں سے لدی چار ریل گاڑیوں میں سے تین لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچ چکی ہیں، لیکن ان کے مسافروں کے لئے بہت دیر ہوچکی ہے۔ اُن کی آنکھیں پاکستان کی سرزمین کودیکھنے اور اُن کی پیشانیاں اس سرزمین پر سجدہ ریز ہونے کو ترستی ہی رہ گئیں ۔ ان گاڑیوں کے ہر ڈبے سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ دروازوں اور کھڑکیوں میں خون سے نہائے بازو لٹک رہے ہیں، لیکن نہ کوئی چیخ ہے، نہ کوئی آہ اور نہ کوئی فریاد۔ مکمل خاموشی ۔ موت کی خاموشی ۔ اِن تین گاڑیوں کے ہزاروں مسافروں میں سے صرف ایک عورت لاشوں کے ڈھیر کے نیچے سے شدید زخمی حالت میں برآمد ہوتی ہے ۔ ٹرین کے ٖڈرائیوروں کودانستہ زندہ چھوڑ دیاگیاہے، تاکہ وہ ہندوبلوائیوں کی طرف سے نوزائیدہ پاکستان کو لاشوں کا یہ تحفہ پہنچادیں ۔

دوستو! دل پر پتھر رکھ کر ایک جھلک اور دیکھ لیں۔فیروز پور سے ستمبر 1947ء میں دوہزار سات سو مسلمان مہاجرو ں کا ایک قافلہ بارڈر پر واقع ایک مہاجر کیمپ میں آکر رُکا ہے ۔ پاکستانیو ! اپنی نگاہیں نیچی رکھو ۔ اِن کی طرف نگاہ اُٹھا کر مت دیکھو۔ اِن کے جسموں پر کپڑے نام کی ایک دھجی بھی نہیں ہے ۔ اِس قافلے کے تمام مردوزن بالکل برہنہ ہیں ۔ بھارتی فوج اور سکھوں نے اِن کے کپڑے تک اُتروالئے ہیں ۔

دوستو! ایک غیر جانبدار اور معاملات کے عینی شاہد کی شہادت بھی سُن لیں: انگریز راج کے آخری دنوں میں ہندوستان میں تعینات ایک فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل سرفرانسس ٹکر اپنی کتاب While Memory Servesمیں لکھتاہے ’’ہندو اور سکھ سمجھتے تھے کہ اُنہیں مسلمانوں کو قتل کرنے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے ۔مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیاجارہاتھا ۔مہاسبھا اور اس کے پالتو سِیوک سنگھی دن رات مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے ۔ دہلی میں ولبھ بھائی پٹیل ببانگِ دُہل پکار پکار کر کہہ رہاتھا کہ مشرقی پنجاب میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتاجب تک وہاں ایک بھی مسلمان موجود ہے۔‘‘ اور پھر ان ظالموں نے تقریباً یہی کرڈالا۔دس لاکھ مسلمانوں کو اپنی درندگی کی بھینٹ چڑھا دیا۔

دوستو! یہ تھے وہ جذبے اور یہ تھے وہ حالات جن سے گزر کر پاکستان بنا ۔اور یہ تھی ہندو کی درندگی،مسلم دشمنی اور مسلمانوں سے دلی نفرت کی ہزاروں میں سے چند ایک جھلکیاں۔یہ مسلم دشمنی پاکستان کے مطالبے یا پاکستان کے قیام کے بعد نہیں پیدا ہوئی تھی ۔ اس کا آغاز بہت پہلے سے ہوچکا تھا، لیکن اس کا برملااظہار انہوں نے مغل سلطنت کے ختم ہونے کے بعد کرناشروع کیا ۔ چلئے ، بہت دور نہیں جاتے ، پاکستان بننے سے بیس پچیس سال پہلے کے دور سے شروع کرتے ہیں ،جب پاکستان یاکسی بھی نام سے ایک الگ وطن کے خیال اور مطالبے کا دُور دُور تک کوئی نام و نشان تک نہ تھا ۔

*1920ء میں ہندوستان کے مشہور لیڈر سوامی ستیہ دیو کہتے ہیں :’’دھرم کے لحاظ سے یہ عین ضروری ہے کہ قرآن کی تعلیمات اقوامِ عالم سے نابود کردی جائیں اور اس کی جگہ راشٹردھرم کی تعلیم مسلمانوں کو دی جائے۔‘‘

*1925ء میں ایک بڑے مسلم کش فسادات کے بعد ہندومسلم اتحاد کے لئے ستیہ دیو ہری پراجک نے جو شرائط پیش کیں وہ کچھ اِس طرح تھیں:

1۔قرآن کو الہامی کتاب نہ سمجھا جائے۔

2۔محمد ﷺ کو خدا کا رسول نہ ماناجائے۔

3۔عرب وغیرہ کاخیال دل سے نکال دیاجائے۔

4۔سعدی ورومی کی بجائے تلسی کبیر داس کی تصانیف کوپڑھاجائے۔

5۔اسلامی تہواروں کی بجائے ہندو تہوار اور تعطیلات منائی جائیں۔

6۔اسلامی نام رکھنے ترک کردیئے جائیں۔

7۔تمام عبادتیں عربی کی بجائے ہندی میں کی جائیں۔

1925ء میں ہندو سنگھٹن کے پروفیسر ہری دیال نے اخبارات میں یہ پیغام چھپوایا :’’جب تک سارا ہندوستان مسلمانوں کے وجود سے پاک نہیں ہوجاتا ہم کبھی چین سے نہیں سوسکیں گے ۔ہرسچے ہندو کا دھرم ہوناچاہئے کہ بھارت ماتاکو اسلام کے وجود سے پاک کردے۔ یاتو سب مسلمانوں کو شدھی کے ذریعے ہندوبنالیاجائے یاپھرمسلمان یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں‘‘۔۔۔1929ء میں مہاتما گاندھی نے جوبظاہر مسلمانوں کے بڑے ہمدرد بنے پھرتے تھے، اپنے اخبار ’’ینگ انڈیا‘‘ میں اِن الفاظ میں ایک اعلان شائع کیا:’’مسلمان یا عرب حملہ آوروں کی اولاد ہیں یا وہ لوگ ہیں جو ہم میں سے تھے اور اب ہم سے الگ ہوچکے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھ ملا نے کے لئے ہمیں تین طریقے اختیار کرنے پڑیں گے۔

1۔مسلمانوں کو اسلام سے الگ کرکے پرانے (ہندو) دھرم پر لایاجائے۔

2۔اگر یہ ممکن نہ ہوتو مسلمانوں کو اُن کے اپنے قدیم علاقے (عرب) میں واپس بھیج دیاجائے۔

3۔اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو ان لوگوں کو ہندوستان میں کمین یاغلام بنا کر رکھاجائے۔‘‘

اس طرح کی سینکڑوں تقریریں اور تحریریں ریکارڈ پر موجود ہیں جو اُس دورکا معمول تھا ۔ہندوجو کہتے اور لکھتے تھے اُس پر جابجاعمل بھی کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین وتذلیل کی کوششیں کی گئیں۔ ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ اور ’’رنگیلارسول‘‘ جیسی کتابیں لکھی گئیں ۔ آئے دن ہندوستان کے کسی نہ کسی علاقے میں مسلم کُش فسادات برپاکئے جاتے جن میں سینکڑوں مسلمان بے دردی سے موت کے گھاٹ اُتار دیئے جاتے۔مسلمان آخرکب تک اِن حالات کو برداشت کرتے ۔ بالاخر اُن کی سوچیں اِس نقطہ پر مُرتکزہونا شروع ہوگئیں کہ اگر مسلمانوں کو یہاں زندہ رہنا ہے اور اپنے دین ،روایات اور تہذیب کو بچانا ہے تو انہیں برصغیر ہندوستان میں ایک الگ خطۂ زمین درکار ہے جہاں وہ ہندوؤں کی مداخلت اور چیرہ دستیوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ مسلم اکابرین کی طرف سے اس قسم کی سوچ کا پہلااظہار 1928ء میں مولانا محمد اشرف علی تھانوی ، 1930ء میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور مولانا محمد علی جوہر اور 1933میں چوہدری رحمت علی کی طرف سے کیاگیا ۔ یہاں تک کہ خود ہندوراہنما سروجنی نائیڈو کی طرف سے ’’ہندومسلم اتحاد کا سفیر‘‘ قرار دیئے جانے والے مسٹر محمد علی جناح بھی1940ء میں اپنے لاکھوں ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ پُکار اُٹھے کہ اب ہندو اورمسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اس ملک کو’ ہندوانڈیا‘اور’ مسلم انڈیا‘ میں تقسیم ہوناہوگا ۔ اس کے علاوہ کو ئی چارہ نہیں۔ آپ نے ببانگِ دُہل کہا :’’اسلام اور ہندومت محض دو مذہب نہیں، بلکہ درحقیقت دومختلف اور جُداگانہ سماجی نظام ہیں۔ان دونوں کے درمیان کو ئی ایک قدرِ مشترک نہیں ۔ ہندواورمسلمان دوفرقے نہیں دوقومیں ہیں۔قوم کی ہرتعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہیں ۔ اس لئے انہیں اپنے لئے ایک الگ وطن ، علاقہ اورریاست چاہئے۔‘‘

قائداعظمؒ نے مسلمانوں کو صرف ایک نئی سوچ اورنئی منزل کا نشان ہی نہیں دیا، بلکہ آگے بڑھ کر اس قوم کی منزل کی طرف سفر کی قیادت کی ،اور ایسی قیادت کی کہ دنیادنگ رہ گئی۔ آپ نے جس طرح ہندوؤں اور انگریزوں کی مخالفتوں ،چال بازیوں اور سازشوں کو اپنے بے مثال تدبر، جرأت اور جواں مردی سے ناکام بنایا اور اُن کے خونخوار جبڑوں سے پاکستان کو چھین لیا ،اس نے ہندوؤں اور انگریزوں کو حیران وپریشان کرکے رکھ دیا۔اور بلاشبہ یہ کام صرف اور صرف آپ ہی کرسکتے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ بانئ پاکستان قائد اعظمؒ کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے، یہ آپ اُن کی اپنی زبانی ہی سنیے: ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کو آزماسکیں ‘‘۔۔۔ ’’کون کہتا ہے کہ پاکستان کے آئین کی اساس شریعت پر نہیں ہوگی۔ جولوگ ایسا کہتے ہیں وہ مفسد ہیں ۔اسلام نے جمہوریت کی راہ دکھائی ہے۔ مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے۔اسلامی اصولوں پر عمل کرنے سے ہم ہرایک کے ساتھ انصاف کرسکیں گے‘‘۔۔۔ ’’میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بارپھر دنیا کے سامنے فاروقِ اعظمؓ کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھنچ جائے۔ خدامیری اس آرزو کو پورا کرے۔‘‘

صرف یہی دوتین بار نہیں ،قائداعظمؒ نے قیام پاکستان سے قبل اور بعد کم وبیش ڈیڑھ سو بار مختلف مواقع پر مختلف الفاظ میں یہ بات دھرائی کہ پاکستان کا نظامِ حکومت اسلامی اصولوں پر چلے گا۔ اور یہی وہ بات تھی جس نے عوام الناس کوسب سے زیادہ متاثر اور متوجہ کیا۔ اور یہی وہ بات تھی جو ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ‘‘ کے نعرے میں ڈھل گئی اور مسلمانان ہند جوق درجوق والہانہ انداز میں تحریکِ پاکستان میں شامل ہوتے چلے گئے ۔وہ نئے بننے والے ملک میں خلفائے راشدین کاساپاکیزہ ، جمہوری اور فلاحی نظام دیکھنا چاہتے تھے ،وگرنہ وہ علاقے جوپاکستان کا حصہ بننے والے تھے وہاں کوئی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں جو اُن کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔

اس بنیادی اور اساسی بات کو طے کرلینے کے بعد کہ پاکستان کا نظامِ حکومت اسلام کے زریں اصولوں پر استوار ہوگا،قائداعظمؒ عملی طور پر کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے اوروہ اس کے خدوخال کیادیکھ رہے تھے ، اس کا بھی وہ مختلف مواقع پر اظہار کرتے رہے۔سب سے پہلے 11اگست 1947ء کو مجوزہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب کے دوران مذہب ،عقیدے اور ریاست کے باہمی تعلق اور خصوصاً اقلیتوں کے دل میں پیدا ہونے والے خدشات کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’’آپ کا تعلق کسی مذہب ،کسی عقیدے یاکسی ذات سے ہو، اس کا مملکت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ ہم اس بنیادی اصول سے اپنا آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ،بلکہ مساوی شہری ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہندوہندونہ رہے گا اور مسلمان مسلمان نہ رہے گا ۔مذہبی مفہوم میں نہیں ،کیونکہ یہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے، بلکہ سیاسی لحاظ سے،اس مملکت کے ایک شہری کی حیثیت سے۔‘‘

ایک دوسرے موقع پر صوبائی عصبیت پر بات کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہمیں بنگالی، سندھی، پنجابی اور پٹھان کی بات نہیں کرنی چاہئے۔بلاشبہ یہ پاکستان کی اکائیاں ہیں، لیکن اسلام نے ہمیں سکھایاہے کہ آپ خواہ کچھ بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں،آپ اول وآخر مسلمان ہیں۔اب آپ ایک باقاعدہ قوم سے تعلق رکھتے ہیں جس کا اپنا ایک وسیع ملک ہے۔ میں آپ سے التجاکرتاہوں کہ آپ اس صوبائی عصبیت سے چھٹکارا حاصل کریں، کیونکہ جب تک یہ زہرپاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں موجود ہے آپ کبھی ایک قوم نہیں بن سکیں گے۔‘‘

وائس آف امریکہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے فرمایا: ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلید یہ ہوگی کہ ہمیں دنیاکی تمام قوموں کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات قائم کرناہیں ۔ہم پوری دنیا میں امن کے تمنائی ہیں۔ ہم دنیا کے کسی ملک یا قوم کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے ۔ہم عالمی امن قائم کرنے کے لئے اپنی استطاعت اور توفیق کے مطابق اپنے حصے کا کردار خوش اسلوبی سے سرانجام دیں گے۔‘‘

سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ کو قوم کے خاد م کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں ۔ آپ کو کسی سیاسی جماعت سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہئے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت برسرِاقتدار آئے، آپ کا عوام کے ساتھ رویہ اس طرح ہوناچاہئے کہ آپ اپنے آپ کو حاکم نہیں ،بلکہ قوم کا خادم سمجھیں۔ آپ انصاف ،ایمانداری اور ثابت قدمی سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔‘‘

پاکستان کی اقتصادیات اور عوام کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا: ’’پاکستان غریبوں کا ملک ہے۔ اس پر غریبوں ہی کو حکومت کا حق حاصل ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان میں ہر شخص کا معیار زندگی اتنا بلند کردیاجائے گا کہ غریب وامیر میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا۔ پاکستان کا اقتصاد ی نظام یقیناً اسلام کے غیرفانی اصولوں پر ترتیب دیاجائے گا ۔ ‘‘

قومی زبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا: ’’پاکستان کی سرکاری زبان جومملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام وتفہیم اور رابطہ کا ذریعہ ہو ،صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ اُردو ہے ۔اُردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں ۔اُردو کوپاکستان کے ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک سمجھا جاتاہے ۔یہ وہ زبان ہے جو دوسری صوبائی اور علاقائی زبانوں سے کہیں زیادہ اسلامی ثقافت اور روایات کے بہترین سرمائے پر مشتمل ہے ۔‘‘

معزز خواتین وحضرات یہ تھا مختصراً قیامِ پاکستان کا پسِ منظر اور پاکستان کے بارے میں حضرت قائداعظمؒ کا ویژن۔اب جہاں تک سوال ہے کہ ہم کس حد تک قائد کے اس ویژن کے مطابق پاکستان کو چلا سکے ،اور اگر نہیں چلا سکے تو اس ویژن کی روشنی میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ، جمہوری اور فلاحی مملکت کیسے بنایاجائے ،اس پر ابھی آپ کے سامنے ملک کے چوٹی کے دانشور اظہارِ خیال کریں گے جن میں سے ہر ایک اس موضوع پر یونیورسٹی کا درجہ رکھتاہے۔

مزید :

کالم -